دلچسپ مضامین

اے نیلے آسماں تحریر شہاب ثاقب

اے نیلے آسمان۔

محافظ اور مددگار سے نا امیدی زندگی کی تمام سانسیں اور ان کے درمیان گزرا ہوا وقت ایک بوجھ محسوس کرتا  ہے۔اس وقت انسان خود سے خود کو عجیب محسوس کرنے لگتا ہے احساسات مختلف ہوجاتے ہیں۔نظریات میں ٹکراو آنے لگتا ہے۔انسان مرنا چاہتا ہے لیکن ایک چیز  درمیان میں آڑے آجاتی ہے زندگی میں نہ ختم ہونیوالی خواہشات کا عقل کے اوپر مکمل سوار ہونا۔ظلم و بربریت سے مکمل آزاد انسان ہمیشہ جینا چاہتا ہے طاقت چاہتا ہے غلام ابنِغلام چاہتا ہے۔عجیب منتَق ہے خود سے آزادی چاہتا ہے۔

جنگ کرنا چاہتا ہے خود سے جیتنا چاہتا ہے خود کو ہی قتل کرنا چاہتا ہے خود کو ہی غلام بنانا چاہتا ہے۔خود حاکم اور خود ہی محکوم ہوتا ہے خود طاقتور اور خود ہی کمزور ہوتا ہے۔خود ظالم اور خود ہی مظلوم ہوتا ہے۔نظر میں ہوتا تو ایک ہی انسان ہوتا ہے لیکن مختلف اقسام میں کیوں موجود ہوتا ہے ایک ہی قسم میں کیوں موجود نہیں ہوتا۔شکل و صورت میں مکمل اجزاء ایک جیسےدو  آنکھیں دو کان ایک  دل ایک دماغ دو ٹانگیں وغیرہ شکل و صورت رنگ و نسل میں فرق ہوتا ہے۔لمبائی میں مختلف ہوتا ہے نظریات میں مختلف ہوتا ہے۔قوتِعقل میں مختلف ہوتا ہے۔پھر سارے انسان اپنے انسان کا کیوں نہیں سوچتا؟ 

طاقت دائمی نہیں ہوتی شکل و صورت دائمی نہیں ہوتی حقیقت میں ماسوائے اچھے کام کے کوئی بھی چیز انسان کی دائمی نہیں ہوتی۔اس کے بر عکس انسان کی سوچ دائمی ہوتی ہے۔انسان کی مثال ایک مسافر کی سی ہے جو راستہ پر چل رہا ہے لیکن راستہ کا اختتام کے بارے میں لا علم ہوتا ہے ۔بس امید سے چل رہا ہوتا ہے آگے اندھیرا ہے۔ اکیلے میں کسی سے بات کرنا چاہتا ہے آواز دیتا ہے وہی آواز واپس سن کر نا امید ہوجاتا ہے۔پانی میں تیرنا چاہتا ہے ہوا میں اُوڑنا چاہتا ہے کسی اور ہمسائے کی تلاش میں ہوتا  ہے لیکن انسان کے سوا کوئ دوسرا ہمسایہ کہیں نہیں ملتا۔

ایک دن آسمان سے شکوہ کرتا ہے اپنی سفرِحیات سناتا ہے اپنے خواب سناتا ہے اپنے مقاصد بیان کرتا ہے۔تھوڑا وقت جواب آنے کی انتظار میں چہل قدمی شروع کر دیتا ہے۔اُس وقت پکا بکّا رہ جاتا ہے جب اُسے وہاں بھی انسانوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔پوچھنے پر ایک قسمی سوال سنائ دیتا ہے۔

آسمان سب کو بلاتا ہے ایک فیصلہ سناتا ہے۔انسان اس وقت اپنے انسان کو مختلف پاتا ہے۔فیصلہ سننے میں خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔فیصلہ مختصر لیکن پُراثر ہوتا ہے۔انسان سے طاقت اور اختیار چھین لیا جاتا ہے شناخت کیلئے قبائل میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔محدود وسائل پر انحصار کرنے کو کہا جاتا ہے۔قانون شکنی کرنےوالوں کو سخت سزا تجویز کی جاتی ہے۔اُس وقت انسان آہ و بکا کرتا ہے آزادی مانگتا ہے تمام اختیارات کو جائز استعمال کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہے دروازہ بند ہوچکا ہوتا ہے۔واپس زمین پر آتا ہے۔ماضی یاد آتا ہے مستقبل تاریک نظر آتا ہے سوچنے میں آزاد ہوتا ہے۔

لیکن انسان تو انسان ہوتا ہے۔

شہاب ثاقب

اپنے خیالات کا اظہار کریں