اسلام

خدا اور انسان تحریر افتخار حسین @I_H_101

‏خدا اور انسان
تحریر: افتخار حسین
‎@I_H_101
انسان نے جب اس جہان فانی میں آنکھ کھولی تب سے اس جستجوء اور کھوج میں جت گیا کہ وہ کون ہے جو اس کو یہاں لایا ہے، کس لئے لایا ہے اور کیوں لایا ہے۔ انسان کی اسی فکر، پریشانی ، لاعلمی کو دور کرنے اور اسے بھٹکنے سے بچانے کیلئے خالق کائنات نے انبیاء و رسل کو بھیجنے کا سلسلہ تواتر سے جاری رکھا جن کی تعلیمات اور راہنمائ کی بدولت انسان کا خدا سے تعارف تو ہوگیا لیکن جب ہم دنیا میں آنے والے مختلف مزاہب اور عقیدوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انکے ہاں خدا کی ذات کے حوالے سے مختلف سوچیں اور نظریات پروان چڑھتے رہے۔ کسی نے اسے سورج میں تلاش کیا تو کسی نے چاند اور ستاروں کو خدا ٹھہرایا۔ آتش پرستوں نے اسے آگ کے شعلوں میں دیکھنے کا دعویٰ کر دیا۔ عورت کی صلاحیت تخلیق کو دیکھ کر اسے خدا کا رتبہ دے دیا۔ یہ تو مختصر احوال تھا قبل اسلام مختلف تصورات اور نظریات کا جو خدا کی ذات کے حوالے سے انسان نے اختیار کئے رکھے اور چونکہ آج کی سطور کیلئے میرا یہ بنیادی موضوع بھی نہیں ہے تو اس سے آگے بڑھتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کی روشنی آنے کے بعد ہماری بحثیت مسلمان خدا کی ذات پر عقیدے اور ایمان کی نوعیت کیا ہے؟ وہ کونسے ضروری عوامل ہیں جو ہمارے لئے خدا کی خوشنودی اور مدد کا زریعہ بن سکتے ہیں؟
تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اگر مسلمان حق پر ہیں اور یقینا حق پر ہیں، تو آج ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی اور ان کے مخالفین یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جو یقینا باطل پر ہیں، کے خلاف اللہ تعالیٰ کا جوش انتقام حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ یا کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں پر فوقیت و برتری کیونکر حاصل ہے؟ اور ان کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟ اس کے برعکس مسلمانوں کو روزبروز زلت کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ جبکہ یہی مسلمان صدیوں تک اس دنیا پہ چھائے رہے اور خدا کی طرف سے فتح و نصرت کے حقدار ٹھہرے۔
مسلمانوں کے اس زوال اور خدا کی ناراضگی کی وجوہات خود مسلمانوں کی اپنی پیدا کردہ ہیں۔ مسلمان مجموعی اعتبار سے تقریباً بدعملی کا شکار ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں میں ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت کا فقدان ہے، کفار و مشرکین کی طرح موت سے ڈرنے لگے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کو دین، مذہب، ایمان، عقیدہ سے زیادہ اپنی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔ مسلمان موت، مابعد الموت، قبر، حشر، آخرت، سزا جزا، جنت اور دوزخ کی فکر و احساس سے بے نیاز ہوچکے ہیں اور انہوں نے کافر اقوام کی طرح اپنی کامیابی و ناکامی کا دار و مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے، اس لئے تقریباََ سب ہی اس کے حصول میں جت گئے ہیں۔ خدا کی ذات پر اعتماد، بھروسہ اور توکل نہیں رہا، اس لئے وہ دنیا اور دنیاوی اسباب و وسائل کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔ عبادات اور معاملات کو ایک رسم بنا دیا ہے۔ یہ بے دلی اور دنیا پرستی کسی بھی صورت خدا کی خوشنودی اور مدد حاصل نہیں کر سکتی۔ معاشرے کی اسی مادہ پرستی اور ہوس نے آنے والی نسلوں کو خدا اور خدائ احکامات سے دور کر دیا ہے۔ سود کا کاروبار عروج پر ہے تو اللہ تعالیٰ سے کھلی جنگ کرتے ہوئے ہم کیسے اس کی مدد کی امید کر سکتے ہیں۔ گڑیوں سے کھیلتی معصوم کلیوں سے لے کر عمر رسیدہ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے کیسے ہم خدائ مدد کے حقدار بن سکتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق دیدہ دلیری سے پائمال کئے جا رہے ہیں۔ عدم برداشت کی انتہاء ہے۔ ہر کوئ اپنے مفاد اور خود غرضی کی جیتی جاگتی تصویر بنا ہوا ہے۔ اسی لئے اکثر کہا جاتا ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کفر کے نظام تو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہے ہیں اور ہزاروں سال سے چل رہے ہیں لیکن ظلم کے نظام کے پیروکار بن کر ہم اسی نتیجے کے مستحق ہیں جس کا آج کے مسلمان کو سامنا ہے۔ ہر شعبے میں ہم اغیار کے زیر تسلط آ گئے ہیں۔ اپنے کرتوتوں سے توبہ تائب ہوئے بغیر پھر کیسے خدا کی طرف سے فتح و نصرت کی امید لئے بیٹھے ہیں۔ ہم کو ایک بار پھر اپنے آپ کو نبوئ تعلیمات اور قرانی احکامات کی طرف لے کر چلنا ہوگا تب ہی ہم دنیا و آخرت کی کامیابیوں کے حقدار ٹھہریں گے۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں