سیاست

طالبان کون ہیں؟

حالیہ ہفتوں میں طالبان کی شاندار فوجی کامیابیوں کے بعد، صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کے بعد طالبان اتوار کو دارالحکومت کابل میں افغان صدارتی محل میں داخل ہوئے۔

طالبان نے ملک کے تقریباً تمام صوبائی دارالحکومتوں  کو جیت لیا ہے، انہوں نے مئی میں اسوقت فوجی کارروائی شروع کی تھی جب امریکہ کی زیر قیادت غیر ملکی افواج نے 20 سال بعد افغانستان سے انخلا شروع کیا تھا۔
امریکی سرزمین پر 11 ستمبر کے واقعے کے بعد 2001 میں امریکی اور نیٹو حملے کے ساتھ ان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا ، لیکن طالبان نے آہستہ آہستہ نہ صرف طاقت حاصل کر لی ، بلکہ  پچھلے 20 سالوں میں غیر ملکی اور  نام نہاد افغان فورسز پر متعدد خطرناک حملے بھی کیے۔
اس کے  بعد طالبان نے 29 فروری 2020 کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سیکورٹی کی گارنٹی کے بدلے امریکی فوجی انخلاء کے معاہدے پر دستخط کئے، جس سے طالبان بہت حد تک بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ٹرمپ کے جانشین ، جو بائیڈن نے فوجوں کے انخلا کے فیصلے کو واپس نہیں لیا ، اس کے بجائے 9 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر ستمبر تک انخلاء کو موخر کیا۔  تاہم ، جولائی میں ، اس نے دوبارہ اس ڈیڈ لائن کو کم کرکے 31 اگست کر دیا۔ اگرچہ طالبان نے بڑے پیمانے پر امریکی سکیورٹی مفادات کو نشانہ نہ بنانے کے اپنے وعدے کو نبھایا ، لیکن انہوں نے نام نہاد افغان فورسز کے ان پر حملوں  کے ردعمل میں انکے خلاف جان لیوا حملے جاری رکھے ، یہ کہتے ہوئے کہ مغربی حمایت یافتہ کابل انتظامیہ قطری دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے فروری 2020 کے معاہدے کی فریق نہیں ہے،اور جب بھی وہ ہم پر حملے کریں گیں ہم اس کا بھر پور جواب دیں گے۔

امریکہ طالبان معاہدے نے طالبان اور افغان قیادت کے درمیان امن مذاکرات کی راہ ہموار کی۔  لیکن دوحہ مذاکرات آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ کابل انتظامیہ نا صرف مذاکرات کے میز پر بیٹھنے سے کتراتی رہی بلکہ افغانستان میں طالبان پر کاروائیوں کے نام پر عام عوام پر فضائی اور زمینی حملے بھی کرتی رہی۔

مئی میں کابلی مسلح گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کرنے کے بعد طالبان نے ایران ، ازبکستان ، تاجکستان اور پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کا کنٹرول سنبھالا۔
اس وقت خیال کیا جاتا تھا کہ طالبان کے ملک بھر میں 85،000 کل وقتی جنگجو ہیں ، اور ملک کے تقریبا 400 اضلاع میں سے نصف سے زیادہ پر کنٹرول رکھے ہوئے ہیں۔


اکیس جولائی کو ، اعلیٰ امریکی فوجی جنرل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگ کے میدان میں “اسٹریٹجک رفتار” رکھتے ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے پینٹاگون میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ افغان عوام ، افغان سیکورٹی فورسز اور افغانستان کی حکومت کی مرضی اور قیادت کا ایک امتحان ہوگا۔

اس سے پہلے ، دوحہ میں مقیم گروپ کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان “طاقت کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے” اور ان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے “سیاسی تصفیہ” کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن کابل انتظامیہ نے ہٹ دھرمی اور بیوقوفی کو اپناتے ہوئے مذاکرات سے کنی کترائے رکھی اور آخر کار کٹھپتلی انتظامیہ کے صدر اشرف غنی طالبان کی شہر میں آمد کی خبر کے ساتھ ہی تاجکستان بھاگ کھڑے ہوئے۔

اشرف غنی ملک چھوڑتے ہوئے


اور وہاں پہنچ کر اپنے فیس بک پیج سے ایک پیغام نشر کیا جو کہ یہ ہے۔

“آج مجھے ایک مشکل انتخاب کا فیصلہ کرنا پڑا کہ ان مسلح طالبان کا سے مقابلہ کرتا یا پھر اپنے پیارے وطن کو خیرباد کہتا جس کی خدمت اور حفاظت کیلئے میں نے اپنے 20 سال وقف کئے، اگر میں رک جاتا تو بے شمار افغان شہری شہید ہوجاتے اور کابل شہر بھی برباد ہوجاتا جس کے نتیجے میں چھ ملین آبادی والے کابل شہر میں انسانی تباہی ہوتی . طالبان نے واضح کیا تھا کہ وہ مجھے ہٹانے کیلئے کابل شہر پر بھی حملہ کرسکتے ہیں اور کابل کے شریف عوام پہ خونریز حملے کریں گے۔
خون کی ندیاں بہنے سے بچانے کیلئے میں نے مناسب جانا کہ میں نکل جاؤں، طالبان نے تلوار اور بندوق کے فیصلے سے کابل جیت لیا اب وہ اپنے ہم وطنوں کے عزت املاک اور خود کی حفاظت کے زمہ دار ہیں”

اشرف غنی کا پیغام

آغاز:

طالبان ، جس کا مطلب عربی زبان میں “طلباء”ہے ، افغان باغیوں کے خلاف لڑتے رہے جنہوں نے سوویت یونین کی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا اور ایک سول وار کا ماحول پیدا کردیا تھا۔

امریکہ نے سرد جنگ کے دشمن ، سابقہ سوویت یونین کے خلاف اپنی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر مجاہدین کو ہتھیار اور رقم فراہم کی تھی۔ اور اُس وقت ، سوویت یونین کمیونسٹ رہنماؤں کی پشت پناہی کر رہا تھا جنہوں نے 1978 میں ملک کے پہلے صدر محمد داؤد خان کے خلاف خونی بغاوت کی تھی۔

1989 میں سوویت یونین کے انخلاء کے بعد ، چیزیں افراتفری کا شکار ہو گئیں ، اور 1992 تک ، مجاہدین کمانڈروں کے درمیان اقتدار کے لیے اور دارالحکومت کابل کو حاصل کرنے کے لیے خونی جنگ شروع ہوگئی جس میں کابل مخلتف وار لارڈز کے ہاتھوں تقسیم ہو چکا تھا،اور پورےملک میں ہر طرف لوٹ مار ، چوری،ڈکیتی،اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا بازار گرم تھا، افغانستان اور بلخصوص کابل شہر مکمل خانہ جنگی کا شکار ہوچکا تھا جس پر ہر روز سینکڑوں راکٹ ہر سمت سے برسائے جاتے تھے۔

1994 میں طالبان ملیشیا ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھری۔ اس کے بہت سے ارکان نے افغانستان میں اور پاکستان میں سرحد پار قدامت پسند مذہبی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔

انہوں نے کابل کے بعد سب سے بڑے شہر قندھار کا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے فوری اپنی طاقت کو بڑھایا اور شہروں کو لوگوں کے لیے محفوظ بنانے کا وعدہ کیا۔  برسوں کی جنگ سے تنگ آکر لوگوں نے عام طور پر ان کا استقبال کیا۔  اور طالبان نے  وار لارڈز کی اقتدار کی جنگ میں پس رہی عوام کے لئے ایک امید بن کر ابھرے۔


1996 تک طالبان نے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا اور ملک کے آخری کمیونسٹ صدر نجیب اللہ احمد زئی کو کابل چوک پر پھانسی پر لٹکا دیا۔  اور افغانستان میں ایک لمبی خانہ جنگی کے اختتام کا اعلان کیا اور افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قوانین کا نفاذ شروع کر دیا۔ وہی افغانستان جس میں گھر سے باہر نکلنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا،اسی افغانستان میں ایک زیورات سے لدی عورت رات کے اندھیرے میں اکیلی بھی اگر کابل سے کندھار کا سفر کرتی تھی تو بلا خوف و خطر سفر کرتی اور حفاظت کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچتی۔


اس وقت اس نئی اسلامی حکومت کو صرف تین ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے تسلیم کیا۔

افغان طالبان نے اس وقت  خاص طور پر کرپشن اور باقی جرائم سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ، جس نے انہیں مقبولیت حاصل کرنے میں مزید مدد دی۔

چھے سالہ حکمرانی۔

مغربی میڈیا کے پراپیگنڈے کے مطابق ، طالبان نے کبھی پابندیوں میں نرمی نہیں کی ، جس کے بارے میں انہوں نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ خانہ جنگی کے جرائم کو جاری نہیں رکھا جائے گا۔ ان پابندیوں میں خواتین کو تعلیم سے روکنا اور ڈاکٹروں کے علاوہ تمام خواتین کو کام کرنے سے روکنا شامل تھا۔ اس کے اصول کے تحت ، جو بھی ان کی سخت ہدایات پر عمل نہیں کرتا تھا اسے جیل میں ڈالا جاتا یا سرعام پیٹا جاتا، لیکن سچائی اس کے برعکس تھی،انہی طالبان کے دور میں حکومتی سطح پر نہ صرف خواتین کا عالمی دن منایا گیا بلکہ اس کے لئے ایک خواتین کے کالج میں سیمنار منعقد کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ دوسری بات کہ بقول میڈیا، طالبان خواتین کو ڈاکٹر کے علاؤہ کسی پیشے کے سے بھی منسلک ہونے نہیں دے رہے تھے اور ساتھ ہی خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا رہے تھے، یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، مثلآ جن طالبان کو ایک خاتون کے ڈاکٹر ہونے کی اہمیت کا پتا ہے وہ طالبان یہ نہیں جانتے کہ ایک خاتون کو ڈاکٹر بننے کے لئے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے۔ مغربی سیکولر میڈیا کا یہ موقف خود ہی انکے جھوٹ کی پول کھول رہا ہے کہ طالبان عورتوں کو ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت تو دے رہے تھے لیکن انکی تعلیم پر پابندی بھی لگا رہے تھے۔ ایسے گھٹیا مذاق کی امید سیکولر میڈیا سے کی جاسکتی ہے۔

1999 میں اقوام متحدہ نے طالبان کے القاعدہ سے روابط کی وجہ سے ان پر پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکہ نے 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان پر حملہ کیا ، جب طالبان نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا جو کہ افغانستان میں چھپے ہوئے تھے جنہیں ابتدائی طور پر سابق مجاہدین کمانڈر عبدالرب رسول سیاف نے ملک واپس جانے کی دعوت دی تھی۔

امریکی حملے سے قبل ، طالبان نے بش انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ نائن الیون حملوں میں بن لادن کے کردار کا ثبوت فراہم کرے اور بعد میں واشنگٹن ہمارے ساتھ مذاکرات کرے۔ بش نے دونوں چیزوں کو مسترد کر دیا۔ آخر ثبوت تو موجود نہیں تھے،اور انہوں نے افغانستان پر حملے کے لئے ہی یہ سب ڈارمہ رچایا تھا،بھلا پھر کیونکر وہ ثبوت فراہم کرتے یا پھر مزاکرات کرتے۔

جب امریکہ کی ایک ٹیم ملاء محمد عمر رحمہ اللہ کے پاس اسامہ بن لادن کی حوالگی کے متعلق بات چیت کرنے آئی اور ساتھ کچھ ثبوت بھی لائی، اس وقت ملاء محمد عمر رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: “مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کیا یہ ثبوت ایک امریکی عدالت کے لئے کافی ہیں کہ وہ امریکہ میں موجود کسی شخص کو مجرم ثابت کر سکے؟” اس پر وہ لاجواب ہوگئے کیونکہ واقعی وہ ثبوت کسی شخص کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے ناکافی تھے۔ بالآخر امریکی وفد نامراد ہوکر واپس چلا گیا۔

جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بمباری کی مہم شروع کی تو طالبان کو چند مہینوں میں اقتدار سے باہر ہونا پڑا۔ امریکی ریپورٹس کے مطابق پاکستان کے ہوائی اڈے سے 57 ہزار مرتبہ امریکی طیاروں نے پرواز کی اور افغانستان پر بم برسائے۔ دسمبر 2001 میں حامد کرزئی کی سربراہی میں ایک نئی عبوری حکومت تشکیل دی گئی ، اور تین سال بعد ، ایک نیا آئین نافذ کیا گیا ، جس میں 1960 کی دہائی کے اصلاح شدہ آئین سے اس کا اشارہ لیا گیا تھا جو کہ آخری بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں لکھا گیا تھا۔

لیکن 2006 تک ، طالبان دوبارہ منظم ہوگئے اور غیر ملکی قابضین اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں جنگجوؤں کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
20 سال کے تنازعے نے افغانستان کو تباہ کر کے رکھ دیا ، طالبان اور امریکی زیر قیادت افواج کے درمیان جنگ اور امریکی اتحادی افواج کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے۔ کم از کم 64،000 افغان فوج اور پولیس اور 3،500 سے زائد بین الاقوامی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

گزشتہ 20 سالوں میں امریکی ڈرون اور فضائی حملوں میں ہزاروں معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں۔

مالی سال 2020 کے دوران ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی وفاقی حکومت نے افغانستان میں 9/11 کے بعد سے 2020 تک 6.4 ٹریلین ڈالر خرچ یا واجب الادا کیے ہیں۔ اور جنگ کے دوران معزور یا پاگل ہونے والے امریکی فوجیوں پر کئی دہائیوں تک انکے علاج کےلئے جو خرچ کیا جائے گا وہ الگ ہے۔
ء2011 میں ، اوباما انتظامیہ نے طالبان عہدیداروں کے ایک گروپ کو قطر میں رہائش کی اجازت دی ، جہاں ان کی اس وقت کے صدر کرزئی کی حکومت کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات کی بنیاد ڈالنے کا آغاز کیا گیا۔

ء2013 میں ، طالبان کا دوحہ میں سیاسی دفتر باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا۔ 2018 میں ، ٹرمپ انتظامیہ نے افغان حکومت کو شامل کیے بغیر طالبان کے ساتھ باضابطہ ، آمنے سامنے مذاکرات شروع کیے۔
اور پھر اسکے بعد کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔

Follow me
CEO at MADUN Designers
Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager
Syed Muhammad Ali
Follow me

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

اپنے خیالات کا اظہار کریں