سیاحت وثقافت

کچھ ہمارے بارے میں …… وادی کمراٹ تحریر : رضوان احمد حقانی ||جبلی ویوز

وادی کمراٹ
“میں پوری دنیا گھوما ہوں آسٹریلیا سے سویزرلینڈ لیکن جو قدرتی خوبصورتی وادی کمراٹ کو اللہ تعالی نے عطاء کی ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ” یہ الفاظ ہیں موجودہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے صرف عمران خان ہی نہیں آنے والا ہر سیاح وادی کے حسن سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا دریاء پنجکوڑہ کی جادوئی لہریں بلند وبالا پہاڑوں سے گرتے آبشار اپنے سحر میں جکڑلیتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ سردیوں میں جب ٹمپریچر منفی 22 سینٹی گریڈ پہ پہنچ جاتا ہے تو وضوء خانے سے مسجد

پہنچتے پہنچتے داڑھی کے بال جم جاتے ہیں


2016 میں جب عمران خان نے وادی کمراٹ کا چکر لگایا وزیراعظم (اس وقت صرف تحریک انصاف کے چئیرمین تھے) کو سننے کی غرض سے کمراٹ کے طول وعرض سے کافی لوگ آئے تھے ان سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کئے وعدے کئے جن میں اکثر وفاء ہونا ابھی باقی ہیں
وہاں عمران خان نے پہلا وعدہ کیا کہ یہاں ہم سیاحت کو فروغ دیں گے جس کو وفاء کرتے ہوئے جلد ہی اسے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کی لسٹ میں شامل کیا جس سے وادی میں سیاحت کو مزید فروغ ملا اور مجموعی طور پہ وادی کی معیشت پہ مثبت اثرات پڑے
عمران خان نے کا دوسرا وعدہ روڈ انفراسٹرکچر کے ترقی کے بارے میں تھا جو تاحال وفاء نہ ہوا مختلف اوقات میں مختلف شخصیات نے افتتاح تو کیا لیکن روڈ مکمل طور پہ اب تک نہیں بنا
اس موقعے پہ عمران خان نے لوگوں سے اپیل کی کہ درختوں کو نہ کاٹا جائے یہ علاقے کا حسن ہے لیکن لوگوں کا جواب تھا کہ ہمارے پاس متبادل ایندھن نہیں جس پر وزیراعظم صاحب نے ایک اور وعدہ یعنی سستی بجلی دینے کا وعدہ کیا جو تاحال وفاء ہونا باقی ہے


انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سکولز اور ہسپتال اگر بن جائیں تو یقین جانیں یہ علاقہ کئی خوبصورت جگہوں سے زیادہ سیاحت کے لئے سازگار بنے گا
جس سے ملکی معیشت تو مضبوط ہوگی ہی مقامی لوگوں کی زندگی پہ بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے
وادی کمراٹ میں اب بھی سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں جن میں بین الاقوامی سیاح بھی شامل ہوتے ہیں سب ہی انفراسٹرکچر کے بارے میں شکایات کرتے ہیں
سویزر لینڈ سے آئے ہوئے سیاح کا کہنا ہے کہ واقعی یہ علاقہ پاکستان کا سوئزرلینڈ ہے لیکن یہاں کا انفراسٹرکچر بہتر نہیں
خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کئی منصوبوں میں دلچسپی رکھتی ہے جن میں کمراٹ کیبل کار سرفہرست ہے کمراٹ کیبل کار دنیا کا بلندترین کیبل کار بنے گا
یہ بات تو طئے ہے کہ اگر سیاحت کیلئے بنیادی اقدامات کئے جائیں تو پاکستان میں خوبصورتی اور سیاحتی جگہیں کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں اور سالانہ ان سے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں
Follow me on Twitter @real_kumrati

دریاء پنجکوڑہ کا دلکش منظر

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

اپنے خیالات کا اظہار کریں