معلومات

ہزاروں بچوں کا قرض ادا ہوا تحریر سبحان اختر (ٹرو جنرلزم) @truejournalizm

شہر میں مسلسل بارشوں کی بدولت ٹرانسفارمر جل جانیکی وجہ سے 3 دن سے بجلی کی سہولت میسر نہیں تھی۔ پانی کا ذخیرہ بھی ختم ہونے کو تھا۔ زوجہ محترمہ نے خطرئے کا الارم بجایا تو ایک ملنسار دوست کی یاد آئی۔ فون پر پناہ گزین ہونیکا سندیسہ دیا اور خیمہ زن ہوگئے۔آمد پر گرمجوشی سے استقبال ہوا اور خاطر تواضع کا نہ رکنے والا سلسلہ چل نکلا۔رات کی چائے سے پہلے پیدل مارچ کا پروگرام بنا۔ راستے میں دوست کے دوست کے11 سالہ صاحبزادے سے ایسی سیر حاصل گفتگوہوئی کہ جس نے سوچنے پر مجبور کیاکہ ٹیلنٹ خداد صلاحیت ہے۔ باتوں باتوں میں بچے نے سوال کیاتھا کہ آسمان نیلا ہی کیوں ہوتا ہے؟دوست نے سوال کرسٹیانو رونالڈو کی پھرتیلی کک کی طرح مجھے دئے مارا۔پہلے تو میری حیرت گم ہوگئی کہ یہ سوال اتنی چھوٹی عمر کے بچے کے دماغ میں آیا کیسے؟حیرت جاری ہی تھی کہ بچے کی پرتجسس نظروں نے جلد جواب دینے کا احساس دلایا۔ بھلا ہوگوگل چاچا کا کہ یہ سوال نظروں سے گزرا ہوا تھا اس لئے ایک دو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔بچے نے فورا دوسرا سوال داغ دیا کہ جب سیٹلائٹ کو کوئی سہارا میسر ہی نہیں تو وہ گرتی کیوں نہیں؟ اس سوال سے اندازہ ہوا کہ بچہ ذہین نہیں بلکہ فطین ہے۔جواب آتا تھا اس لئے دقت پیش نہیں آئی۔ بچہ چلا گیا لیکن میں اکثر سوچتا رہا کہ لاتعداد بچوں سے واسطہ پڑا جن سے سوالات پوچھے اور جوابات بھی دئے لیکن کسی چھوٹے بچے کی خلائی سائنس میں اتنی دلچسپی کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ کچھ ماہ کے بعد اسی دوست کے ہاں جانے کادوبارہ پروگرام بننے لگا۔اس بار دعوت نامہ برائے فیملی تھا۔فطین بچے سے متوقع ملاقات میں پھر سے سوالات پوچھے جانے کے اندیشے نے سر اٹھایا۔چناچہ خلائی سائنس کے شعبے میں تحقیق کا مادہ بیدار ہوا۔ٍعلم کے سمندر سے پتہ چلا کہ زمین کی سطح سے 7 کلو میٹر کی بلند ی تک فضا کا نام ٹروپوسفیر ہے۔ہوا کا 75 فیصد حصہ اسی ریجن میں ہوتا ہے۔ بادل اور آبی بخارات بھی یہاں ہی واقع ہوتے ہیں۔ٹروپوسفیر کی ختم شدہ حد سے پچاس50کی بلندی تک سٹریٹوسفیر کی بادشاہت ہے۔اس حصے میں اوزون کی تہہ موجود ہے جو سورج کی خطرناک شعاعوں سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔جس میں کینسر اور دیگر متعدی جلدی امراض سے بھی شامل ہیں۔ لیکن انسان کی ہوشربا ترقی نے اسے تباہ کردیا ہے۔دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطرات کا اندازہ ہوچکا ہے۔ اس لئے امید ہے 2050تک درختوں کی مجموعی تعداد 6 ٹریلین تک چلی جائے گی۔جو کہ انسان کی پیدائش سے پہلے 5 ٹریلین تھی۔ویسے تواب تک دنیا کی 22کروڑ آبادی متاثر جبکہ 45لاکھ جان کی بازی ہار چکی ہے لیکن کرونا باجی کی بھرپور مہمان نوازی کا ایک فائدہ بھی ہوا ہے اور وہ ہے اوزون کی تہہ میں بہتری۔آئنوسفیر کی حکومت 80 کلومیٹر سے لے کر 500 کلومیٹر کی بلندی تک ہے۔یہ تہہ ریڈیائی شعاعوں کو منعکس کرنیکی صلاحیت سے مالا مال ہے۔جبکہ یہا ں سے اوپر لامتناہی حد تک ایگزو سفیر کی حکمرانی ہے۔زمین کی سطح پر کھڑئے ہوکر ہمیں جو نیلے رنگ کا آسمان نظر آتا ہے۔دراصل وہ اربوں ستاروں سے اٹھنے والی ڈسٹ ہے جس پر ترچھی روشنی پڑتی ہے تو رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔شیشے کے گلاس میں پانی بھریں اور دودھ کے 2 قطرئے ڈال کر اوپر سے ٹارچ ماریں تو اس نظرئے کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔کچھ بچوں کو میں نے یہ زبانی بتایا تھا تو عملی مظاہرے تک قہقے لگاتے رہے تھے۔کسی بھی طیارئے کی انتہائی بلندی کا کوئی قانون نہیں لیکن قابلیت کے اعتبار سے ابھی تک کوئی طیارہ 60ہزار فٹ کی بلند ی سے اوپر نہیں گیا۔ملٹری طیارئے 50 ہزار جبکہ کمرشل ائرکرافٹ45 ہزار فٹ کی بلندی کو محفوظ خیال کرتے ہیں۔100کلومیٹر کی بلندی پر پرواز خلائی پرواز تصور کی جاتی ہے۔جو3 لاکھ 28ہزار فٹ کے مساوی ہے۔1967میں روس نے پہلی مرتبہ سیٹلائٹ ٹیلی وژن کا تجربہ کیا تو دنیا حیرت زدہ ہوگئی۔1969میں امریکہ نے چاند پر قدم رکھ کر روس کو برتری کا احساس دلایا۔یوں دونوں ممالک نے خلائی دوڑبھی کو سرد جنگ کا حصہ بنا لیا۔آج خلا میں 7ہزار سے زائد سیٹلائٹس محوگردش ہیں۔جن میں سے 3300کے لگ بھگ ہی فعال ہیں جبکہ باقیوں نے خلاکو بھی آلودہ کردیا ہے۔اور پریشانی ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ غیرفعال سیارچے اپنے مدار سے ہٹ جائیں گے اور زمین پر آگریں گے۔ انکو خلا میں ہی لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے تباہ کرنے کے تجربات جاری ہیں۔سیٹلائٹس کی بیٹری سولر پینلز کی مدد سے چارج ہوتی ہے۔ زیادہ تر سیٹلائٹس 10سے15سال کی عمر کے بعد غیر فعال ہوکر فری فال ایریا چلے جاتے ہیں جہاں وہ تب تک گردش کرتے رہیں گے جب تک انہیں تباہ نہیں کردیا جاتا یا وہ خود گر نہیں جاتے فری فال وہ بلندی ہے جہاں کشش ثقل بے اثر ہوجاتی ہے۔ سیٹلائٹس کی بھی اقسام ہیں۔موسمی اور مشاہداتی سیارچے زمین کے پہلے مدار میں گردش کرتے ہیں۔ جسکا نام لیو ہے اور اسکی بلندی 160سے2000کلومیٹر تک ہے۔بین الااقوامی خلائی اسٹیشن 1999سے 408کلومیٹر کی بلندی پراسی مدار میں موجود ہے۔17500میل فی گھنٹہ کی رفتار سے محوگردش ہے۔ہر 90منٹ میں زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔جبکہ ایک دن کے چکروں کی تعداد 16ہے۔اب تک 1لاکھ 31ہزار 440چکر لگا چکا ہے۔90بلین ڈالرز کی لاگت سے بنا یہ اسٹیشن3000 سے زائد خلائی تجربات کا ذریعہ بن چکا ہے۔6 خلاباز ہروقت اس پر موجود رہتے ہیں۔ جو ہر 6 ماہ تبدیل ہوجاتے ہیں۔امریکی خلائی ادارہ ناسا اور یورپین خلائی ایجنسی سمیت روس بھی شراکت دار ہیں۔مریخ پر رہائش کے سلسلے کی ساری ریسرچ یہاں ہی کی جارہی ہے۔چاند پر ایک اسٹیشن قائم کرکے مریخ تک جانے کا پلان بھی یہاں سے ہی لیا گیاہے۔نیویگیشن اور گوگل میپ کے سیٹلائٹ زمین کے دوسرئے مدار میں بسیرا کرتے ہیں۔جسکا نام میو ہے۔یہ زمین سے 2000کلومیٹر سے 35ہزارکلومیٹر کی بلندی تک کا مالک ہے۔اس سے آگے زمین کا آخری مدار شروع ہوتا ہے جسے جیو کہتے ہیں۔اسکی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔دنیا کے 3000سے زائد فعال اور غیر فعال ٹی وی سیٹلائٹس اسی مدار میں واقع ہیں۔ان سیٹلائٹس کی اور زمین کی اپنے محور کے گرد گردش کی رفتار یکساں ہے اس لئے زمین پر ڈش انٹیینا کی سمت تبدیل کرنیکی ضرورت نہیں پڑتی۔یہ رفتار 27400کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔زمین اتنی ہی رفتا ر سے اپنے محور کے گرد چکر 24گھنٹے میں مکمل کرکے گھڑی کی سوئیوں کو حرکت کرتے رہنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔جبکہ 30کلومیٹر فی سیکنڈ یا 6700میل فی گھنٹہ کی رفتار اسے 365دنوں میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے پر ایک شمسی سال کا تحفہ مہیا کرتی ہے۔چند ا ماما اور زمین باجی کی باہمی گردش برابر ہے اس لئے دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑتے۔اب تک کل 1290خلائی پروازوں میں سے امریکی خلائی ادارہ ناسا 866خلائی پروازوں کے ساتھ پہلے جبکہ 279کے ساتھ روس دوسرئے نمبر پر ہے۔دنیا کے کل 567افراد خلا میں جاچکے ہیں۔ 346کے ساتھ امریکہ پہلے اور126کے ساتھ روس دوسرئے نمبر پر ہے۔ناسا کا سالانہ بجٹ 22ارب جبکہ آمدن 62ارب ڈالرز ہے۔پاکستان کے کل ذخائر بھی تقریبا 22ارب ڈالرز ہی ہیں جبکہ مجموعی قرضہ ناسا کی 2 سالہ آمدن سے کچھ ہی کم ہے۔3372فعال سیٹلائٹس میں سے 1897سیٹلائٹس کے ساتھ امریکہ پہلے جبکہ 412اور 176سیٹلائٹس کے ساتھ چین اور روس بالترتیب دوسرئے اور تیسرئے نمبر پر ہیں۔ امریکی نجی کمپنی اسپیس ایکس خلائی سازوسامان بنانیوالی دنیاکی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ جبکہ کمپنی کا مالک ایلن مسک 142کے آئی کیو لیول کے ساتھ موجودہ دنیا کا نہ صرف ذہین ترین انسان ہے بلکہ پہلے تین امیر ترین لوگوں میں سے بھی ہے۔امریکہ، روس، چین اور بھارت خلا میں سیٹلائٹس تباہ کرنیکی صلاحیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ریسرچ کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ پورا دن جب میں کمپیوٹر کے سامنے ہی پایا گیا تو گھر کی عدالت میں صفائی دینا پڑی کہ خلائی سائنس کے بارئے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ مقدمے سے بری تو ہوگیا لیکن مزید شوق علم ادھورا رہ گیا۔ اگلے دن متعلقہ دوست کے ہاں جانا ہوا باتوں، باتوں میں پتہ چلا کہ والدین بچے کو اسکول سے ہٹا کر مدرسے میں داخل کروا چکے ہیں۔خبر چونکا دینے والی تھی کیونکہ والد محترم بچے کی ذہنی صلاحیتوں سے واقف تھے۔ لیکن عملی طورپر سوائے خاموشی کے چارہ نہیں تھا کیونکہ معاملہ قرآنی علوم سیکھنے کا تھاجو کائنات کا سب سے اہم اور برتر علم ہے۔امید ہے کہ بچہ اپنی ذہانت سے قرآن مجید فرقان حمید کے راز وں سے فلکیات کو مزید اچھی طرح سے سمجھ جائے گا۔ لیکن اندیشہ ہے کہ وہ شائد سانئس دان نہ بن سکے۔ اسرائیل میں ایسے فطین بچوں کے اسکولزہی الگ ہیں جہاں سرکاری خرچ پربچے کی ذہنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق شعبے میں اعلی تعلیم مفت دی جاتی ہے اور پھر یہ بچے دنیا کو انگلیوں پر کھلانا شروع کردیتے ہیں۔ امریکہ کی کیلی فورنیا یونیورسٹی بھی ایسے بچوں کی تلاش میں رہتی ہے۔لیکن یہ پاکستان ہے۔یہاں بچے کے ذہنی معیار کے مطابق پروفیشنل لائف کا چناو کرنیکا اختیارصرف والدین کے پاس ہے جنکو ایسا کرنا اپنے جداد سے ورثے میں ملا ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے اور مسقبل قریب میں بھی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔۔یہ ایک بچے کی کہانی ہے پاکستان میں ایسے ہزاروں بچے ہیں۔اوسط آئی کیو لیول کے اعتبار سے سنگاپور 108 کے اسکور کے ساتھ پہلے جبکہ پاکستان 84 کیساتھ 113ویں نمبر پر ہے۔لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا ہمیں چوتھی ذہین ترین قوم بھی مانتی ہے۔ اس بچے کی کہانی اور میری ریسرچ میرئے اوپرتب تک ایک قرض کی مانند ہے جب تک یہ بہت سارئے ذہین بچوں اورانکے والدین تک نہ پہنچے۔ اس بچے کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جس کے دو سوالات کی بدولت علم کے لامتناہی سمندر سے ریت کے ایک ذرئے کی چمک دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔۔!

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant
Follow on twitter
www.twitter.com/truejournalizm
MSc Mass Communication
True Journalizm

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

اپنے خیالات کا اظہار کریں