مضمون نگاری

موسمیاتی تبدیلی

آجکل پینے کے لئے صاف پانی کا بہت مسئلہ ہے
پینے کا پانی صاف نہ ہونے کی وجہ سے لوگ کئی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں جن میں یرقان سہرفرت ہے۔

اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ پانی زمین کی گہرائی میں چلا گیا ہے پہلے جہاں پانی چالیس فٹ پہ تھا اب وہاں ڈھائی سو فٹ ہو گیا ہے جس کی چند وجوہات جو مجھے سمجھ آتی میں میں بیان کر رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں یہ آپکا حق ہے۔

زیر زمین پانی کے نیچے جانے کی پہلی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم نے کنکریٹ کے گھر بنانے شروع کر دیے ہیں جس کی وجہ سے پانی زمین کے اندر نہیں جاتا، مثال کے طور پر اگر ایک باپ کے 4 بیٹے ہیں تو چاورں نے اپنا علیحدہ علیحدہ گھر بنایا ہے اور اگر تو وہ گاوں میں رہ رہے ہیں تو آگے بڑا صحن ہوگا وہ بھی ماربل لگا ہوگا۔

یہ ہی مثال آپ پورے پاکستان لاگو کریں
بارش تو ہرجگہ ہی ہوتی چھت اور صحن والی جگہ پانی جذب نہیں کر پاتی اور وہ پانی باہر نکل جاتا ہے اسطرح جو خالی جگہ ہوتی ہے وہاں اسکی ضرورت سے زیادہ پانی ہو جاتاہے۔

ہمارے شہر منصوبہ بندی کے بغیر بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہر پھیلتے جا رہے ہیں اگر منصوبہ بندی ہوتی تو شہروں پھیلنے کے بجائے اوپر لے کے جایا جاسکتا تھا اور اسی طریقے کے مطابق گاوں کے لوگ بھی کثیر منزلہ مکانات تعمیر کیئے جائیں تو ہماری جگہ زیادہ زراعت کے قابل ہوتی زیادہ جگہ پانی جذب کے قابل ہوتی دوسری وجہ درختوں کی کٹائی ہے ہم درخت اس مقدار میں نہیں لگاتے جس مقدار میں انکی کٹائی ہوتی ہے
درخت لگانے کو تو ہر کوئی لگاتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ درختوں کی دیکھ بھال بھی ہو کم از کم 5 سال تک درختوں کی دیکھ بھال کی جائے کچھ درخت ایسے ہیں جو 30 سے 40 سال میں جوان ہوتے ہیں۔

جیسے اخروٹ کا درخت۔
اخروٹ کے درخت کی لکڑ فرنیچر بنانے میں کام آتی ہے اور جس درخت کا فرنیچر بنتا ہے وہ درخت کم از کم 30 سال تک اس جگہ تک پہنچتا ہے
ہمیں درخت لگانے ہیں اور انکی دیکھ بھال بھی کرنی ہے تب جا کے ائک درختوں کا فائدہ ہماری آنے والی نسلیں لے سکیں گی
آجکل حکومت پاکستان درخت لگانے پر بڑی محنت کر رہی ہے اگر ساتھ ساتھ کثیر منزلہ عمارات پر بھی توجہ دی جائے تو درخت لگانے کے لیے زیادہ جگہ میسر ہوگی۔


تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے زمین میں جگہ جگہ سوراخ کر کے پانی نکالنا شروع کر دیا ہے جس سے پانی کا ضیاع زیادہ اور استعمال کم ہوتا ہےمثال کے طور پر پہلے گاوں میں ایک یا دو کنویں ہوتے تھے سب لوگ وہاں سے ہی اپنے استعمال کا پانی لیتے تھے۔

پھر ہم لوگوں میں محبتیں زیادہ بڑھ گئیں اور ہر بندے نے اپنے ہی گھر کے صحن میں بور کر اپنے پانی کا مسئلہ حال کر دیا گورنمنٹ نے تقریبا ہر گاوں میں پانی کی سکیمیں دی ہوئی لیکن بات وہ ہی ہے کہ ان سکیموں پہ تعنات اہلکار اسکو اپنے باپ کا مال سمجھ بیٹھے ہیں جو اپنی من پسند لوگوں کے گھروں میں 24 گھنٹے پانی اور باقی لوگ بوند بوند کو ترستے ہیں جگہ جگہ پانی کی لیکج کی وجہ سے بھی کئی گھر پانی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

بلوچستان میں ایک بڑا ہی اچھا سسٹم ہوا کرتا تھا جسے کارریز کہتے ہیں وہ اب تقریبا ختم ہو گیا
کیوں کہ کارریز کو ہر سال صفائی کی ضرورت پڑھتی تھی جو پہلے وقتوں میں لوگ مل جل کر کرتے تھے لیکن پھر محبتیں زیادہ ہو گئیں اور مل جل کے کام کرنے کو توہین سمجھا جانے لگا اور کارریز کا نظام ختم ہونے کے قریب ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں کے صحن کچے رکھیں گھر میں کار پورچ بنانے کی جگہ درخت لگائیں جس کے نیچے گھڑی ہو ماحول بھی صاف ہو گا اور آپکا گھر بھی خوبصورت لگے گا چھوٹے پودوں کی جگہ بڑے درخت لگائیں تاکہ پرندے بھی اپنا گھر ان درختوں پر بنا سکیں۔

ہر پرائیویٹ اور سرکاری سکول کے بچوں سے ایکٹوٹی کے طور پر درخت لگوائیں جائیں اور انکی حفاظت کنٹونمنٹ بورڈ یا میونسپلٹی کو سونپی جائے پاکستان کی ہر شاہراہ پر لائٹس ہوں یا نہ ہوں درخت لازمی ہونے چاہئیں۔

ریلوے کے پاس سب سے ذیادہ زمینیں ہیں ریل کی پٹڑی کے دونوں اطراف درخت لگوائیں اگر حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں تو سکولوں کو جگہ دیں وہ اپنے بچوں سے ایکٹوٹی کروائیں اور درخت لگوائیں پھر ریلوے حکام انکی حفاظت کرے

تحریر: فردوس خان جدون

رائٹر کو فالو کریں

فالو کریں
میگزین at Jabbli Views
جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔
Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں