سیاست

پاکستانی میڈیا، سیاست دان اور کالے قوانین

‏پاکستانی میڈیا، سیاستدان اور کالے قوانین
آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور دنیا کا کوئی قانونی یہ حق کسی سے چھین نہیں سکتا لیکن جس طرح ایک انفرادی انسان یہ حق رکھتا ہے اسی طرح دوسرئے انسان بھی حق بجانب ہیں۔

اس رو سے تمام انسانوں کی عزت نفس اور خودداری برابر ہے۔ اور کسی کو شیوا نہیں دیتا کہ وہ ایک دوسرئے کے جذبات کو مجروح کریں۔

ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہ ایسی گود مہیا کرتی ہے جہاں کوئی خطرہ نہیں۔جو بچے اس ماں کی قدر کریں گے۔ وہ ممتا کی چھایا میں رہیں گے جبکہ جو دودھ کا حق ادا نہیں کریں گے انکو چٹولیاں پڑنا ایک فطرتی عمل ہے۔

لیکن یہ حق صرف ریاست کے پاس ہے کوئی حکمران محض اپنے مفاد کے حصول کی خاطر ریاست کو سامنے رکھ کر کوئی کالا قانون نافذ نہیں کرسکتا۔

چونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس لئے ریاست کا کام عوام کیجان و مال کا تحٖفظ یقینی بنا نا ہے جبکہ عوام کا کام ریاست کو کامیاب سے کامیاب تر بنانے کے لئے ہردم کوشش کرتے رہنا ہے۔

یوں تو پاکستان میں ہر شعبہ زوال کا شکا ر ہے۔ لیکن آج موضوع بحث پاکستان کا میڈیا اور اسکی آزاد ی ہے۔پاکستان میں اس وقت132 سے زائدTv چینلز، 143کے لگ بھگ ریڈیو اسٹیشنز جبکہ 300سے اخبارات ہیں۔ میڈیا سے وابستہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔فرانس کی ایک تنظیم رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز 2002سے ہرسال دنیا کے 180ممالک کے میڈیا کی آزادی کے لحاظ سے رپورٹ جاری کرتی آرہی ہے۔2019میں پاکستان کا نمبر 142 جبکہ پچھلے 2 سال سے 145چلا آرہاہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی حالت کچھ اچھی نہیں۔وہ الگ بات ہے کہ اس فہرست میں روس اور چین جیسی سپر طاقتیں پاکستان سے نیچے ہیں۔

یونیسکو کے مطابق پاکستان میں 2000سے لیکر اب تک 75صحافی قتل ہوچکے ہیں۔سٹیسٹا کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لئے دنیا کا چوتھا خطرنا ک ترین ملک ہے۔یہ تمام اعداد شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اس شعبے کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔لیکن چونکہ پاکستان پچھلے20 سال سے دہشت گردی کا شکار تھا لہذا 80ہزار جانوں کی قربانی میں 75صحافیوں کا ہونا کوئی حیرت کی بات بھی نہیں۔پچھلے 2سال سے امن وامان کی صورتحا ل کافی بہتر ہوچکی ہے اس لئے اس عرصے میں تعداد 7 کے لگ بھگ ہے۔

جہاں یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ پہلے 2 مارشل لا ز کے دوران کالے قانون نافذ کرکے ریاست کے چوتھے پائے کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ وہیں یہ سہرا بھی آمریت کو ہی جاتا ہے کہ 2002میں جنرل پرویز مشرف نے 100 سے زائد ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشن جبکہ 2ہزار سے زائد کیبل آپریٹرز کو لائسنس جاری کئے۔پیمرا کی شکل میں نہ بہت سخت نہ بہت نرم قانون والا ادارہ قائم کیا۔ اس کے سب سے سخت قوانین میں 3 سال قید یا 1 کروڑ جرمانہ اس صورت میں عائدکرناہے۔ جب کوئی فرد یا پلیٹ فارم ریاست یااسکے اداروں بشمول سربراہان کو بدنام کرنیکی جھوٹی سازش میں ملوث پایا جائے۔

اس قدر زیادہ لائسنس کے اجرا نے ملک میں میڈیا کو فری ہینڈ دیدیا۔شروع میں 2 جبکہ آہستہ آہستہ 8 سے 10 چینلز نے ملک کی ہرپالیسی کوکنٹرول کرنا شروع کردیا۔چند نام نہاد اینکرز اتنے پاروفل ہوگئے کہ سیاستدانوں، بزنس مینوں اور حتی کہ ریاستی اداروں کو یرغمال بنانا شرو ع کردیا۔اسکی چند مثالیں حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد کی صورتحال، سرل المیڈا کا قومی سلامتی کے متعلق غلط خبر بریک کرنا اور پھر حامد میر کا ریاستی اداروں کو سرعام للکارنا شامل ہیں۔

جبکہ ڈیجیٹل میڈیا جو ہنر مند افراد کے لئے مخصوص تھا انہی مفاد پرست اور مخصوص سوچ کے حامل صحافیوں کی جاگیر بن گیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر بغیر کسی پالیسی اور روک ٹوک کے نہ صرف انفرادی بلکہ مجموعی طور پر ملک اور اداروں کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔عوام جو ابھی شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

سخت تذبذب کا شکار ہوتی جارہی ہے۔بے ہیجان خبروں نے پورے ملک کی سوچ کو صرف سیاست تک محدود کردیا ہے۔ کوئی ریسرچ یا نئے رحجانات متعارف کروانے کا شعور نہیں۔ بس 2چار کروڑ لگاو ایک نیوز چینل کھولو اور تمام گناہوں سے پاک ہوجاو بلکہ الٹا جسکو مرضی بلا کر مجرم ثابت کردو۔سیاست دان جو اس ملک سے صرف اپنے ذاتی مفاد کی حد تک محبت کرتے ہیں۔کبھی میڈیا کے مخالف تو کبھی حق میں بولنا شروع کردیتے ہیں۔

پچھلے 15سال کی اگر تاریخ پر ہم نظر دوڑائیں تو پیپلز پارٹی کی حکومت میں ن لیگ اور تحریک انصاف میڈیا کی حمائتی رہیں۔ ن لیگ آئی تو پیپلزپارٹی حمائت میں آگئی جبکہ تحریک انصاف نے سابقہ پوزیشن برقرار رکھی۔تحریک انصاف بلند و بانگ دعووں کے ساتھ وارد ہوئی تو پاکستان کو صرف اپنی جاگیر سمجھنے والی دونوں بڑی پارٹیاں ہر اس عمل کی مخالفت کرتی نظر آتی ہیں جسکی دوسری طرف حکومت کھڑی ہے۔

یہاں حق اور ناحق نہیں دیکھا جاتا بلکہ محض اپنے مفاد کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔میڈیا بے لگا م ہے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ لیکن کنٹرول کرنیکا حکومتی طریقہ کسی طور بھی درست زمرئے میں نہیں آتا۔پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی جہاں چھوٹے ملازمین کو تحفظ دیتا نظر آتا ہے وہیں صورتحال کو مبہم بھی بناتاہے کہ اس ملک میں کس نے 25 کروڑ دینے ہیں؟ اگر اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو پیمرا کے قوانین بھی بنتے وقت کالے ہی تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ سبز ہوگئے۔

لہذاموجودہ قوانین کا مستقبل بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔اس لئے حکومت کو امن پسند ی اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے صحافتی تنظیموں کے نمائندوں سے ٹی وی پر مناظرہ کرنا چاہئے اور عوام کے سامنے ثابت کرنا چاہئے کہ کونسا قانون لاگو کرنا سب سے مناسب ہے۔ یا کوئی اور مناسب حل تلاش کرنے میں بھی مذائقہ نہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر دھرنے کی آڑ میں مفاد پرست جیسے اپنے برتن چمکا رہے ہیں۔ اس میں اضافہ ہی

ہوگا کمی ہرگز نہیں۔۔۔۔!

@truejournalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant
Follow on twitter
www.twitter.com/truejournalizm
MSc Mass Communication
True Journalizm

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

اپنے خیالات کا اظہار کریں