اسلاممضمون نگاری

حسد اور نظرِ بد کیا ہے؟ اور اسکا علاج

بری نظر انسان پر ایک ایسی مکروہ نگاہ ڈالنے ، گھورنے یا اس طرح دیکھنے سے ظاہر ہوتی جس میں حسد ، ناپسندیدگی یا کسی کے متعلق بری خواہش موجود ہو۔ حسد کرنے والا شخص سامنے والے شخص کےلئے اس کی آنکھوں کے ذریعے اس کے ہاتھوں یا زبان کی ضرورت کے بغیر نقصان یا بدبختی لانے کا باعث بنتا ہے۔

متاثرہ شخص کی کمزوری اور حسد کرنے والے کی حسد ، نفرت اور غصے کی طاقت کے مطابق متاثرہ شخص پر اثر کی شدت مختلف ہوتی ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ، اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو نظرسبقت لے جاتی ۔ اور جب ( نظر بد کے علاج کے لیے ) تم سے غسل کرنے کے لئے کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ نظرِ بد حقیقت ہے۔ یہ پہاڑ تباہ ہونے کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ (احمد)
میری امت میں مرنے والوں میں سے اکثر (اللہ کی مرضی اور حکم سے ) نظر بد کی وجہ سے مریں گے۔

(مسند البزار‎)



خود کو بری نظر سے کیسے بچایا جائے؟

  • سنت میں موجود صبح و شام اذکار پڑھیں۔ اپنے پیاروں کو بھی اس کی تلقین کریں اور بچوں پر بھی ان اذکار کا دم کریں۔
  • ابن القیم نے لکھا: ’’ بری نظر ایک تیر ہے ، جسے حسد کرنے والا مارتا ہے ، (شکار کو) کبھی تیر لگ جاتا ہے اور کبھی وہ تیر نشانے پر نہیں لگتا ہے۔ لہٰذا اگر شکار (اذکار) کے حفاظتی پردہ کے اندر نہ ہو ، تو وہ یقینی طور پر اس سے متاثر ہوگا۔لیکن اگر شکار (اذکار کے ذریعے) احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے تو یہ اس پر اثر انداز نہیں ہو گا ، بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ تیر حسد کرنے والے کو واپس کر دیا جائے۔”
  • اللہ کی طرف سے دی گئی نعمتوں اور مال پر ماشاءاللہ کہنا چاہیے،دوسروں کے لیے اللہ سے برکت طلب کریں (مثلا بارک اللہ فیکم/لکم/علیکم)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سے جو شخص اپنے اندر یا اپنے مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی چیز دیکھتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ، اسے چاہیے کہ وہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے ، کیونکہ نظر بد ایک حقیقت ہے۔” (حاکم)
  • خطرناک حسد سے بچنے کے لیے ایک مومن شخص کو لوگوں کے ساتھ مہربان اور شائستہ ہونا چاہیے۔ سلام پھیلانا چاہیے اور خاندانوں اور دوستوں کو تحائف دینا چاہیے،بلند اخلاق کا مظاہرہ دوسروں کی حسد کو دور کرے گا اور ان کے دلوں سے بری خواہشات کو دور کرے گا۔
  • اپنی خوشیوں کو چھپائیں۔ اپنے بارے میں کوئی اچھی خبر شیئر نہ کریں اور نہ پھیلائیں سوائے ان لوگوں کے درمیان جو آپ کی خوش قسمتی پر خوش ہوں۔ یہاں تک کہ اس میں خاندان والے اور رشتہ دار بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جن کا حسد آپ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی کامیابیوں کو چھپائیں ، کیونکہ یقینا ہر ایک جو نعمت سے نوازا جاتا ہے حسد کا شکار ہوتا ہے(طبرانی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کے لیے درج ذیل الفاظ کی دعا کی جو بری نظر سے متاثر ہوئے تھے۔
اللہم اذھب حرھا وبردھا ووصبھا
ترجمہ:اے اللہ تواس (نظربد)کے گرم وسرد کو اوردکھ درد کو دورکردے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے

چونکہ چھوٹے بچے رقیہ پڑھنے سے قاصر ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ آیت الکرسی اور قرآن کی آخری تین سورتیں پڑھیں اور ان پر پھونکیں۔ بچے بری نظر کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کو جلد از جلد یہ آیات سکھائیں اور انہیں تلاوت کرنے کی اور خود پر دم کرنے کی تاکید کریں۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھتے ہوئے امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ کی پناہ مانگتے تھے: اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ۔
اور ساتھ یہ فرماتے کہ تمہارا باپ (حضرت ابرہیم علیہ السلام) اسکے ساتھ اسمعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے۔

نظر بد کا علاج کیسے کریں؟

بری نظر بہت عام ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: ’’ بہت کم ہی ایسا گھر ملے گا جہاں کوئی نظر بد یا حسد سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ‘‘

علاج کا طریقہ یہ ہے کہ جس نے نظر بد لگائی اس کا استعمال شدہ پانی حاصل کریں اور اسے اس شخص پر ڈالیں جس کو اسکی نظر لگی ہو۔ تاہم ، بہت سے حالات میں ، یہ کرنا مشکل ہے۔ لہذا ، اس صورت میں پانی پر رقیہ پڑھ کر دم کیا جائے,خاص طور پر قرآن کی آخری 3 سورتیں اور اس کے ساتھ روزانہ 10-20 دن غسل کریں جب تک کہ علامات ختم نہ ہو جائیں(رقیہ کی پی ڈی ایف کاپی حاصل کرنے کے لئے مضمون کے آخر میں ڈائونلوڈ بٹن پر کلک کریں)۔

سوشل میڈیا کے خطرات

سوشل میڈیا آج کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بدقسمتی سے اس نے ہمیں بری نظر سے بہت زیادہ کمزور بنا دیا ہے۔ ہمیں اپنی ، اپنے مال یا اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پرہیز کرنی چاہیے۔اسی طرح ہمیں دھیان سے دوسروں کی نعمتوں کو بھی نہیں دیکھنا چاہیے اور اس کے لیے ان سے حسد بھی نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہماری صحت ، خاندانی تعلقات ، روحانیت اور بالآخر اللہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کو کس طرح متاثر کررہا ہے۔

خود کو دوسروں سے حسد کرنے سے کیسے روکا جائے؟

  • اگر کوئی چیز آپ کو پسند آئے تو ماشاء اللہ/بارک اللہ فیک کہو۔
  • تحفے دیں اور ان سے بھلائی کریں جن سے آپ حسد کرتے ہیں۔
  • جب آپ تنقید کرنا چاہتے ہوں تو ان کی تعریف کریں۔
  • ان کے لیے دعائیں کریں چاہے آپ ایسا کرنے سے گریزاں ہوں۔
  • یہ جانیں کہ حسد کتنا مہلک ہے اور یہ کیسے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔
  • اللہ کے حکم پر راضی رہیں۔

آپ کی ڈھال: قرآن کی آخری 3 سورتیں

قرآن کی آخری 3 سورتیں حسد ، بری نظر ، جادو اور جنات کے خلاف مضبوط ترین تحفظ ہیں۔ ان کو پڑھنا سنت ہے ، صبح اور شام تین بار ، سونے سے پہلے تین بار ، ہر نماز کے بعد ، اور جب کوئی بیمار ہو۔ یہ ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے!
’’ یہ سورتیں جادو ، نظر بد اور باقی برائیوں کو دور کرنے میں انتہائی کارآمد ہیں۔ ‘‘ (ابن قیم رحمہ اللہ)
” بندے کے لئے ان سورتوں کے ساتھ اللہ کی حفاظت کی ضرورت اس کے کھانے پینے اور کپڑوں کی ضرورت سے زیادہ اہم ہے۔ ”(ابن قیم رحمہ اللہ)




رقیہ کی پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے ڈائونلوڈ پر کلک کریں

Follow me
CEO at MADUN Designers
Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager
Syed Muhammad Ali
Follow me

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

اپنے خیالات کا اظہار کریں