اسلام

رشتوں کا احترام سیرت طیبہ کے روشنی میں |محمد اسماعیل

رشتوں کا احترام سیرت طیبہﷺ کی روشنی میں

رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا۔ اُنکے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اپنی ہمت کے بقدر اُنکے ساتھ تعاون کرنا،ان کی خدمت کرنا، اُنکے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا اور اُنکی ہمدردی وخیرخواہی کے جذبات سے سرشار رہنا شریعت اسلامیہ میں صلہ رحمی کہلاتا ہے اور رشتہ داروں کیساتھ بدخُلقی و بدسلوکی کیساتھ پیش آنے کو قطع رحمی کہا جاتا ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ کے طور پر صلہ رحمی کرتا ہے، بلکہ اصل میں صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جب کوئی قطع رحمی کرے تو وہ اسے جوڑے۔

بخاری ومسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بندہ تم میں اس وقت تک سچا مومن نہیں ہو سکتاجب تک کہ وہ اپنے بھائی کیلئے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئےپسند کرتاہے۔شریعت اسلامیہ میں صلہ رحمی واجب اور قطع رحمی حرام ہے۔ قرآن مجید و احادیث مبارکہ میں صلہ رحمی کی تاکید اور قطع رحمی کی مذمت بیان کی گئی ہے۔



جنت میں لے جانیوالا عمل ۔۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے اور میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے وہ مبارک کلمات جو سب سے پہلے میرے کانوں میں پڑے وہ یہ تھے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگو! ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کرو اللہ تعالی کی رضاجوئی کیلئے لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو اور رات کے ان لمحات میں(نوافل) نماز ادا کیا کرو جب عام لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں یاد رکھو ان امور پر عمل کر کے تم حفاظت اور سلامتی کیساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے جنت میں پہنچ جاؤ گے ۔(ترمذی شریف )

ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا نے اپنی ایک باندی کو آزاد کیا،جب حضور نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اگر وہ باندی تم اپنے ماموں کو دے دیتیں تو تمہیں زیادہ اجر وثواب ملتا۔ (مشکوۃ شریف )

اسلام میں غلام باندی کو آزاد کرنے کی بہت ترغیب ہے اور اُسے بہترین کارِ ثواب قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود صلہ رحمی کا مرتبہ اس سے بہرحال اعلی ہے اس کی تائید بھی حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے ۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا محتاج کی خدمت کرنا صدقہ ہے مگر اپنے کسی عزیز کی مدد کرنا دو امروں پر مشتمل ہے ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی ۔

صرف مصرف کے تبدیل کرنے سے دو طرح کا اجر وثواب مل جاتا ہے چنانچہ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا صدقہ عام مسکینوں فقیروں کو دینے میں تو صرف صدقہ کا ثواب ملتا ہے مگر اپنے ذی رحم رشتہ داروں کو دیا جائے تو اس میں دوہرا اجر وثواب ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا یعنی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا۔(ترمذی شریف)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا مجھے بتلا دیجیئے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے جنت کے قریب اور جھنم سے دور کر دے؟تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔(تفسیر بغوی)

جنت میں جانے سے رکاوٹ بننے والا عمل۔

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :’قطع رحمی کرنے والا( یعنی رشتہ داروں اوراہل قرابت کیساتھ بُرا سلوک کرنیوالا)جنت میں نہ جا سکے گا۔ (بخاری و مسلم )

مسکین قرابت دار کا پہلا حق :

صدقہ سب سے پہلے جسے دیا جائیگا وہ ایسے قرابت دار ہیں جو مسکین بھی ہوں ،حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا باغ صدقہ کیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’میں سمجھتا ھوں کہ اس باغ کو تم اپنے قرابت داروں پر صدقہ کردو ‘ تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زادوں پر صدقہ کر دیا ” ۔ (بخاری ومسلم)
تحریر محمد اسماعیل رونجھو ‎@DrAzadRoonjho

اپنے خیالات کا اظہار کریں