تازہ ترین

سندھ حکومت کا گیم چینجر منصوبہ

‏سندھ حکومت کا گیم چینجر منصوبہ

تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں. لیکن ہمیشہ یہی وجہ بتائی جاتی رہی کہ یہ کوئلہ غیرمعیاری ہے. شہید بے نظیر بھٹو کا خواب تھا کہ اسکو عالمی معیار کے تناظر میں جانچا جائے لیکن بیرونی دباو تھا یا نااہلی کبھی ایسا عملی طور پرکچھ کیا نہ ‏جاسکا.

2008

میں PP کی حکومت آئی تو تھر کی قسمت جاگی. ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے کئی حوالوں سے اس کوئلے کی جانچ کی اور عالمی معیار کے تناظر میں بتایا کہ یہ کوالٹی میں کم ضرور ہے لیکن ناکارہ نہیں.

امپورٹڈ کوئلے کی نسبت اس میں توانائی کی شرح 60 فیصد ہے. جو قابل استعمال ہے. ‏عالمی پیمانے کے مطابق مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی 1 MMBTU توانائی کی قیمت ڈالرزمیں کچھ یوں ہے.
ایل این جی35
فیول 12.5
امپورٹڈ کوئلہ 9
تھرکاکوئلہ 6
بالاآخر 2019 میں اس کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا.

2 سال سے فیز1 سے660میگاواٹ فی گھنٹہ بجلی سسٹم میں شامل ہورہی ہے ‏فیز1 سے 3.8 ملین ٹن سالانہ کوئلہ نکالا جارہا ہے. جبکہ فیز 2 پر کام تیزی سے جاری ہے.جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے.

اشتہارات


Qries

فیز 2 مکمل ہونے سے کوئلہ نکالنے کی مقدار 11.2 ملین ٹن سالانہ ہوجاے گی. اس وقت کوئلے پر چلنے والے 2660 میگاواٹ کے منصوبے زیر تعمیر ہیں. جو یقیننا فیز2 کی تکمیل سے ‏چلانے آسان ہوجائیں گے. کوئلے کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے آج وزیراعلیٰ سندھ نے فیز 3 کی بھی منظوری دیدی ہے. اس فیز سے 12.2 ملین ٹن کوئلہ سالانہ حاصل ہوگا. اسکی لاگت بھی بہت کم ہے. لاگت بلحاظ تمام فیز کچھ یوں ہے.
فیز 1= 627 ملین ڈالرز
فیز2=216 ملین
فیز3=93 ملین
فیز 3 مکمل ہونے سے ‏کوئلہ نکالنے کی مجموعی لاگت میں 3 گنا کمی واقع ہوگی. جبکہ تھر کی کان پاکستان کی ضرورت کے حساب سے 15 سے 20 سال تک کافی ہوگی. فیز 3 کی تکمیل سے کوئلہ حاصل ہونیکی فی ٹن قیمت 27 ڈالرز ہوجاے گی.

جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت فی ٹن قیمت 200سے250 ڈالرز ہے. یہ فیز 1000 میگاواٹ بجلی سسٹم ‏کو مہیا کرنے کا ذریعہ بنے گا. اس سے بجلی کے مجموعی فی یونٹ میں 50 پیسے کمی واقع ہونے سے عوام پر 60 ارب کا بوجھ کم ہوگا. جبکہ گردشی قرضے میں سالانہ 74 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی. وفاقی حکومت سندھ حکومت کو سالانہ 10 ارب روپے دینے کی پابند ہوگی.

فیز 3 کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا. ‏105 کلومیٹر کا ریلوے ٹریک بنایا جانا ہے. جو تھر کی کان کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دے گا. اور کوئلہ پورے ملک میں لے جانا آسان ہوجاے گا. سندھ حکومت اس کوئلے سے گیس اور فیول بنانے کے منصوبے پر بھی کام کررہی ہے. جسکی رپورٹ مارچ 2022 میں آنے کی توقع ہے. وفاقی حکومت کو نہ صرف تھر ریل ‏105 کلومیٹر کا ریلوے ٹریک بنایا جانا ہے. جو تھر کی کان کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دے گا. اور کوئلہ پورے ملک میں لے جانا آسان ہوجاے گا.

سندھ حکومت اس کوئلے سے گیس اور فیول بنانے کے منصوبے پر بھی کام کررہی ہے. جسکی رپورٹ مارچ 2022 میں آنے کی توقع ہے. وفاقی حکومت کو نہ صرف تھر ریل ‏پراجیکٹ پر تیزی دکھانے کی ضرورت ہے بلکہ چین سے بھی بات کرنی چاہیے کہ وہ زیر تعمیر پلانٹس میں ہائبرڈ مشینری نصب کرے تاکہ تمام قسم کے کوئلے کو استعمال کرنے میں آسانی ہو کیونکہ کراچی بندرگاہ سے پاور پلانٹ تک فی ٹن کوئلہ پہنچانے کا خرچ 30 ڈالرز ہے.

جو کوئلے کی قیمت سے اضافی ہے. ‏جبکہ مقامی کوئلے کی قیمت سمیت ٹرانسپورٹ کے اخراجات ملا کر 30 ڈالرز بنتے ہیں. امید ہے وفاقی حکومت ان معاملات کی جانب توجہ دیگی.

سندھ حکومت بحرحال خراج تحسین کی مستحق ہے….!!

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant
Follow on twitter
www.twitter.com/truejournalizm
MSc Mass Communication
True Journalizm

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

اپنے خیالات کا اظہار کریں