اسلام

ریاست عالیہ کے افق پر

اگر ریاست کا قانونی نظام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے دائرے میں تشکیل پاتا ہے تو عدالتوں میں انصاف کی تقسیم ہوتی ہے۔ اس کی معیشت فراوانی کا ذریعہ اور اس کا معاشرہ سعادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔قرآن کے مطابق حکومت کرنے والی ریاست ایک کمال رکھتی ہے جس کا کسی دوسرے ریاستی ڈھانچے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ صدی میں دم توڑنے والی عثمانی اسلامی ریاست کے خود کو ریاستِ عالیہ/سپریم ریاست قرار دینے کے پیچھے یہی حقیقت تھی۔ریاست عالیہ کی چھ صدیوں کی زندگی کی پہلی ڈھائی صدیاں محبت اور جوش و خروش کے سال تھیں۔ مدرسہ سے میدان جنگ تک ہر وہ مومن جو قلم اور تلوار تھام سکتا تھا اپنے آپ کو اللہ کی راہ کا دیوانہ سمجھتا،ریاستِ عالیہ، جو اسلام کی معاون بننے کی خواہش رکھتی تھی، کتاب و سنت میں جس چیز کا حکم یا ممانعت ہے، اس کے مطابق لوگوں کو عمل کرواتی اور اسلام کی طرف رہنمائی کرتی۔

ریاست عالیہ کا مقصد

قوم نے اپنی حرمت، گھر، شہر اور ملک کی حفاظت کے لیے محمد ارطغرل غازی کے کیمپ میں سپریم اسٹیٹ قائم کی۔ ہر مجاہد کا مقصد صرف اللہ عزوجل کے نام کی تسبیح کرنا اور اللہ عزوجل کے نام کو کفار کے قلعوں میں بلند کرنا تھا۔ جیسے جیسے ریاست عالیہ کتاب الٰہی کے اصولوں کی تعمیل کرکے مضبوط ہوتی گئی، اسی کے ساتھ دونوں یعنی ریاست اور اسلام نئی سرزمینوں کی طرف منتقل ہونے لگے جس کے ساتھ اسلامی ریاست عالیہ کی سرحدیں پھیلنے لگیں،اور بکھرتی ہوئی امت میں بحالی کا عمل شروع ہوا۔ مسلمان جو یروشلم کی حفاظت سے عاجز تھے، ریاستِ عالیہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور یمن میں بلند ہونے والی تکبیر کی صدائیں ویانا میں سنائی دیں۔ مجاہدین ایک فتح سے دوسری فتح تک آگے بڑھتے چلے گئے۔

اسلامی ریاست عالیہ نہ صرف انسانوں کی محافظ تھی بلکہ ایمان، علم، حکمت، اخلاقیات اور سیاست کی بھی امانتدار تھی۔ یہ ریاست شمال سے روسیوں، مغرب سے صلیبیوں اور مشرق سے ایران کے نہ ختم ہونے والے یلغار کے منصوبوں کے خلاف ایمان کی ایک ناقابل تسخیر دیوار کی طرح کھڑی تھی۔ انہوں نے جو اعلیٰ فرائض سرانجام دیے اس کے لحاظ سے اس نے پوری دنیا کو سکھایا کہ ریاست کیسی ہونی چاہیے۔ وہ ظالم کے خلاف اپنی طاقت اور مظلوموں کے ساتھ اپنی ہمدردی کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ امیروں سے جو لیا، غریبوں کو دیا۔ ان کے قائم کردہ مدارس میں عالمِ اسلام کے ان علماء، مشائخ اور مدبرین نے تربیت حاصل کی جنہوں نے زمانے کے مسائل کو حل کیا۔

ریاست عالیہ میں، موجودہ حکومتوں کی طرح حکومتی مرضی کے مطابق مذہبی اقدار کو تبدیل کرنے کی بجائے ، سلطان نے علمائے کرام کے ساتھ ملکر مذہب کے مطابق نظام حکومت چلایا ۔ سرکاری ملازم کو کسی دفتر میں تعینات کرتے وقت ریاست لوگوں کی نسل اور رنگت کو نہیں دیکھتی تھی بلکہ ان کی قابلیت اور ذہنیت کو جانچا جاتا۔ جہاد ریاستِ عالیہ میں زمینیں وسیع کرنے کے لیے نہیں بلکہ ظالموں کا محاسبہ کرنے یا اولیاء و درویشوں کی دعوت کا راستہ کھولنے کے لیے کیا جاتا تھا۔

ریاست عالیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد

جن کی نظریں اسلام کی سرزمین پر تھیں انہوں نے اتحاد قائم کیا اور اسلام کی محافظ اعلیٰ ریاست پر حملہ کیا۔ اندر سے غدار باہر سے کافر اسلامی نظام حکومت کا تختہ الٹنے پر آمادہ ہو گئے۔ اسلامی ریاست، جو غدار اور لالچی سیاستدانوں کے ہاتھوں تھکی ہوئی اور بوڑھی ہو چکی تھی، اپنی قوم سے جگہ جگہ رابطہ منقطع کر چکی تھی۔ سلطان عبدالحمید خان نے ایسے اقدامات کیے جو ریاست کو مضبوط کرسکتے تھے، نئی روح پھونک سکتے تھے، اس کی تجدید کرسکتے تھے اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکتے تھے۔لیکن وہ اکیلا تھا۔ استنبول کے لوگ اس وجہ کو نہیں سمجھ سکے، جسے دور رہنے والوں نے سمجھا۔ سیاسی، علمی اور فکری محاذ کتاب و سنت سے از سر نو رابطہ قائم نہ کر سکے۔ اس لیے نہ تو ریاست اور نہ ہی علمائے کرام آزادی کی کوئی تحریک پیدا کر سکے۔ اور ریاست خود ہی اپنے آپ میں قیدی بن چکی تھی۔

وہ ترک نوجوان، جن کا مقصد اللہ عزوجل کا قرب تھا،جنکا مقصد اسلام کی سربلندی تھا وہ اپنا مقصد بھولتے گئے ، وہ اسلام کے دشمنوں کی تعریفیں کرتے ہوئے ان مغربی شہروں میں واپس جا بسے جہاں وہ تعلیم حاصل کرنے گئے تھے؛ اس طرح عالمی طاقتوں کا کام اور آسان ہوگیا جو قوم کو اسلامی ریاست عالیہ سے الگ کر کے اسے غلام بنانا چاہتی تھیں۔خیانت،غداری اور بیرونی حملے ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے بڑھتے گئے اور چھ صدیوں تک بلادِ اسلام کی حفاظت کرنے والے بازو گر گئے۔ فرانسیسی، اطالوی، برطانوی، روسیوں نے چاروں اطراف سے حملہ کیا اور ریاست عالیہ کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کو خاتمے تک پہنچا دیا۔

دکھی زندگی کی تقلید کا نام: جدیدیت

غیروں کا ہم پر استحصال کا تسلسل اور اسکی بقاء ملت اسلامیہ کے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنے پر منحصر ہے۔ اس لیے مسلمان بھائیوں کے درمیان سرحدیں کھینچ دی گئیں۔ مصنوعی دشمنیاں پیدا کی گئیں۔ انقلابات سے ملت اسلامیہ کا روحانی جڑوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ خونی انقلابات سے چہرے مغرب کی طرف موڑ دیے گئے۔ دکھی زندگی کی تقلید کا نام جدیدیت ہو گیا۔مغرب اور مشرق میں منہدم ریاستوں کی جگہ نئی ریاستیں قائم کی گئیں۔ نئے سیاسی ڈھانچے بنائے گئے جو جرمن اور روسی دونوں کے قانون کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن ریاست عالیہ کے اپنی بلند اقدار کے ساتھ ہماری دنیا سے مٹ جانے کے بعد کوئی نئی ریاست قائم نہ ہو سکی۔

جب خلافت کا خاتمہ ہوا تو مسلمانوں کو مکمل طور پر لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ اسلام کی سرزمین پر اقلیتوں کو مراعات دی گئیں۔ انہوں نے بھی کفار کی طرف سے پوری لگن سے کام کیا۔ مومنین کے ساتھ ان کے اپنے ہی ملک میں بیگانوں جیسا سلوک کیا گیا۔

ریاست عالیہ کی طرف سفر

موجودہ عالمی نظام جو طاقت کو ترجیح دیتا ہے اور طاقتوروں کو ہر قسم کی مراعات دیتا ہے، اس وقت مرجھا جائے گا جب نئی مسلم نسل، امت کے سامنے اعلیٰ ریاست کے احیاء اور تعمیر کے لیے قدم اٹھائے گی۔

کوئی انسانی نظام جو منہدم ہوا کبھی واپس نہیں آیا۔ تاہم، اسلام ہر وقفے کے بعد مضبوطی سے واپس آیا۔

بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے،ادھر نکلے ادھر ڈوبے، ادھر نکلے

اگر مسلمان دوسری جنگ عظیم کے دوران ابھرتے، جب عالمی ڈاکو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے تھے، قبل اس کے کہ یہ سامراجی ان کی جگہ امت کے غداروں کو ان پر حکمران نافذ کرتے، وہ عالمی ڈاکو بلادِ اسلام کو اپنی تباہی کے ساتھ چھوڑ کر جا چکے ہوتے، تاہم جب استعمار نے باقی معاملات کے ساتھ ساتھ ذہنوں کا بھی استحصال کیا، تب امت کے لوگ وہ اقدام نہیں کر سکے جو امت کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرسکتے، سرحدوں کو ختم کرسکتے اور مختلف قومیتوں میں بٹے مسلمانوں کو یکجا کرسکتے۔
جب مشرق سے مغرب تک اسباب کا سہارا لے کر اتحاد حاصل کیا جائے گا، جہاں مسلمان رہتے ہیں، تب اسلامی ریاست عالیہ دوبارہ قائم ہو گی، اور اسلام کا جھنڈا پھر سے سربلند ہو گا۔ اس دن مظلوم کی آنکھوں کے آنسو پونچھ دیے جائیں گے اور اس کا دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔
ریاست عالیہ کے دوبارہ قیام کا سب سے مشکل مرحلہ دلوں  میں اس کا قیام ہے اور سب سے آسان زمین پر اس کا قیام ہے۔ جب دلوں کو کتاب و سنت کے بلند نظریات سے منور کیا جائے گا تو ریاستِ عالیہ کا ظہور سورج کے طلوع ہونے کی طرح آسان ہوگا۔
مسلم نوجوانوں کو عالمی طاقتوں کی طرف سے قائم کردہ تنظیموں میں جمع کر کے انہیں تباہ کرنے والی قوتوں کا مقصد ریاست عالیہ کے نظریہ کے دفاع کو روکنا ہے، جو مظلوموں کی مددگار ہے اور تحفظ دیتی ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم مسلم نوجوانوں کی ذہن سازی کریں تاکہ اسلامی خلافت کی طرف ہم واپس پلٹ سکیں۔

تحریر: استاد احسان شینوجک

ترجمہ: سید محمد علی ناصر الدین

Follow me
CEO at MADUN Designers
Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager
Syed Muhammad Ali
Follow me

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

اپنے خیالات کا اظہار کریں