میچ کہانی

کنگز قلندرز کے سامنے بے بس

ایک اور دن
ایک اور شکست
ایک اور بار میزبان ہوئے ناکام اور شاید کہ بدنام بھی 🥰

یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہے
مرے شہر کی یہ فضا کس لیے ہے 😁

بڑے ناموں سے مزین کراچی کے نام نہاد “کنگز” کو شکست کی ہیٹ ٹرک مبارک ہو، ملتان اور کوئٹہ سے منہ کی کھانے کے بعد آج اس گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دیا لاہور کے قلندرز نے۔

یہ میچ کراچی اور لاہور کی ڈومیسٹک ٹیموں ہی کا نہیں بلکہ دو روایتی حریفوں کے درمیان جنگ کی سی صورتحال اختیار کر جاتا ہے، آج پھر شومئی قسمت کے بابر ٹاس ہارے اور پہلے بلے بازی کرنا پڑی، شرجیل نے جب تباہ کن آغاز فراہم کیا تو لگ رہا تھا کہ شاید آج روایٹ ٹوٹ جائے اور ٹاس ہارنے والی ٹیم میچ بھی جیت جائے مگر بسا آرزوئے خاک شد

شرجیل کے آؤٹ ہونے تک سکور دو سو پلس ہوتا نظر آ رہا تھا مگر پھر اس مومینٹم کو کنگز برقرار نہ رکھ سکے اور ٹارگٹ ملا 171 کا، کپتان جانی سے محبت اپنی جگہ مگر تنقید بھی سہنی ہو گی جگر کو، جانی یارا۔۔۔!جس پچ پر رضوان اور فخر دو مسلسل نصف سنچریاں بنا چکے ہوں وہاں گیند آپ کے بلے پر کیوں نہیں آ رہی؟ خود کو ٹھیک کریں، کھوئی فارم بحال کریں اور اپنے لیول کے مطابق کھیلیں، یہ کوہلی والی فارم آپ کیلیے ٹھیک نہیں ہے 😒😁

قلندرز کی جانب سے حارث، زمان اور راشد نے اچھی گیند بازی کی اور شاہین کا دوسرا سپیل شاندار رہا۔

فخر نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں سٹارک کو چھکے لگا کر جو فارم پکڑی تھی وہ ہنوز جاری ہے، پہلے میچ میں شاندار نصف سنچری تو دوسرے میچ میں بھی زبردست اور دھواں دھار سنچری سے نہ صرف فتح کی بنیاد رکھی بلکہ میچ قلندرز کی جھولی میں بھی ڈال دیا اور میدان کے چاروں طرف شاندار، جاندار، اعلیٰ اور خوبصورت سٹروک کھیلے، لیٹ کٹ، قدموں کا بہترین استعمال، لیگ سائیڈ پر راکٹ کی سپیڈ سے باؤنڈری کی طرف جاتی ہوئی گیند یا پھر ہوائی راستے سے گیند کو پارکنگ لاٹ تک پہنچانا یہ فوجی کا کام ہے اور فوجی اپنا کام بہترین انداز میں کرتا ہے ۔ 😘 فخرِ پاکستان فخرِ زمانہ جناب فخر زمان کی طوفانی اننگ میں 12 چوکے اور چار فلک بوس چھکے تھے جب گیند آسمانی وسعتوں میں گم ہو گئی ❣️ فخر جب آؤٹ ہوئے تو میچ قلندرز کی طرف جھک چکا تھا اور محض سات گیندوں پر سات رنز درکار تھے، سمت پٹیل نے پہلی دو گیندوں پر دو چوکے لگا کر میچ فنش کیا اور یوں قلندرز نے پہلا میچ جیت لیا ❣️

پروفیسر نے بھی مختصر سی باری کھیلی، البتہ آج دونوں ینگسٹر کامران و عبداللہ اپنے جلوے بکھیرنے میں ناکام رہے، دوسری جانب کراچی پر توقعات کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اتنا ہی رج کر عوام کو مایوس بھی کر رہے ہیں، باڈی لینگویج، فیلڈنگ، بلے بازی، گیند بازی اور کپتانی سبھی چیزیں اچھی نہیں لگ رہیں، ایک فتح کی شاید درکار ہے جس سے یہ مردہ ہوتے شیر 🐯 جاگ سکیں مگر لگتا یہی ہے کہ ایں خیال است و محال است و جنوں

قلندرز نے پلٹ کر جو وار کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ جاگ گئے ہیں اور دنیا کو جگا کر دم لیں گے، ان شاء اللہ ایسی ہی کارکردگی سے بزمِ جہاں کو مہکاتے ہوئے ٹرافی اٹھائیں گے ۔

نہ ہم نے شاخِ گل چھوڑی
نہ ہم نے قافلہ بدلا

ہم (آر جے ساجد) کل بھی اسلام آباد کے ساتھ تھے اور آج بھی اسلام آباد کے ساتھ ہیں ۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں