میچ کہانی

پشاور کے جوان قلندرز کے جال میں پھنس گئے

زلمی میدان میں اترے تو کامران اکمل اور حضرت جی نے باری کا آغاز کیا

گیند شاہین شاہ کے ہاتھ میں تھی اور دل کی دھڑکن رک سی گئی، یکایک دنیا خوبصورت لگنے لگی، اور چہرے کِھل اٹھے، گیند اندر آئی، وکٹوں سے ٹکرانے کی آواز گونجی اور حضرت جی میدان سے باہر

میدان جیسا بھی ہو، پچ جیسی بھی ہو، کھلاڑی سامنے جو بھی ہو، فارمیٹ کوئی سا بھی ہو اور ٹورنامنٹ چاہے جو بھی ہو، آفریدی کے شاہین کا کام ہے پہلے اوور میں ہی وکٹیں لینا 😘 شاباش چیتے

دوسرے اوور میں زمان خان گیند بازی کر رہے تھے تو باؤلر اینڈ پر کھڑے کامی بھائی کا اثر حسین طلعت اور وکٹوں کے پیچھے کھڑے ذیشان اشرف پر براہ راست پڑ رہا تھا، حسین طلعت دل سکوپ کھیلنے گئے، ایج لگا اور شانی نے کامی بھائی کی لاج رکھ لی، خراج تحسین پیش کیا کرونا سے صحت یابی کا اور کیچ چھوڑ دیا 😒

یہ کیچ چھوٹنے کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ قلندر آج اصلی تے نسلی قلندر بنے ہوئے تھے، اسم با مسمی جو ہوئے، جو گیند ہوا میں جاتی اسے لپک کر کیچ کرنے کی بجائے دھمال شروع کر دیتے، فخر زمان نے دو آسان سے کیچ ڈراپ کیے مگر اس سب کے باوجود زلمی کی کشتی منزل تک پہنچ سکی، اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد ذمہ داری کسی حد تک حیدر علی نے قبول کی مگر وہ ناکافی ٹھہری، ردرفورڈ ناکام، شعیب ملک فیل، حسین طلعت بھی ناکامیاب اور بین کٹنگ بھی جادو نہ دکھا سکے۔

قلندرز کی بیٹنگ کی بات کی جائے تو فخر زمان نے ایک بار پھرنہ صرف66 رنز کی شاندار اننگ کھیلی بلکہ پاکستان سپر لیگ کے ٹاپ سکورر بھی بن گئے

راشد خان کے ہیلی کاپٹر شارٹس کی وجہ سے قلندرز 199 کے ٹوٹل تک پہنچے

ان کے علاوہ کامران غلام 30 محمد حفیظ 37 اور عبداللہ شفیق 41 سکور کے ساتھ نمایاں رہے

شاید کامی اور زازئی کے جلد آؤٹ ہونے کے باعث قلندرز سہل پسندی کا شکار ہو گئے تھے، بہرحال جیت کے پردے میں چونکہ بہت سی غلطیاں چھپ جایا کرتی ہیں لیکن کیچز چھوٹنے کو نظر انداز نہیں کرنا، اس لیے کہ اولاً کہا جاتا ہے

کیچ آپ کا
میچ آپ کا

CATCHES, WON THE MATCHES

اور ثانیاً اس سے ہماری لیگ کا معیار گھٹنا شروع ہو جاتا ہے، یہ کوئی پسندیدہ بات تو ہے نہیں۔

زمان خان کی باؤلنگ آج شاندار رہی شاہین شاہ بھی جاندار رہے، اور وہاب کا جو کیچ کیا وہ تو ایفرٹ لیس تھا ❣️ کیچ کے بعد کا ری ایکشن ساری ٹیم کی ناقص فیلڈنگ پر تُف بھیج رہا تھا ۔

امیدِ واثق ہے کہ قلندرز کی یہ دھمال جاری رہے گی اور ٹرافی کی جانب ان کا مارچ آگے بڑھتا رہے گا ۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں