میچ کہانی

کراچی میں چھکوں کی بارش سکور کا سیلاب آیا

کراچی کی ایک سہانی شام میں مصنوعی روشنی تلے شاداب نے ٹاس جیتا اور پھر سے بلے بازی کی دعوت دی ملتان کے سلطانز کو۔

یہ اس میچ کی کہانی ہے جس میں 414 رنز بنے، تین دھواں دھار نصف سنچریاں بنیں، 26 بار گیند ہوائی رستے اور 36 بار زمینی رستے سے باؤنڈری میں پہنچی ۔

اس شاندار اور پیسے وصول میچ کا آغاز ہوا تو رضوان بدقسمتی سے جلدی ہی رن آوٹ ہو گئے، اب تک کی کمزور کڑی ثابت ہونے والے صہیب مقصود بھی اسی انداز میں پویلین لوٹ گئے، صہیب میاں۔۔۔۔! حال ہی میں آپ انٹرنیشنل سٹیج پر جلوہ دکھلانے کیلیے منتخب ہوئے، اور عین عالمی مقابلے شروع ہونے سے چند دن قبل پھر سے باہر 😒 آپ پر پہلے بھی فٹنس کے حوالے سے انگلیاں اٹھتی تھیں اور اب کی بار کارکردگی کے ساتھ ساتھ رننگ اور فٹنس کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے، وگرنہ رضوان اور بابر نے جس طرح سے ٹیم کے اندر نئی روح پھونکی ہے اسے دیکھتے ہوئے آپ اتنا پیچھے چلے جائیں گے کہ بقولِ علامہ

تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں

اب پچ پر تشریف لا چکے تھے روسو مگر دوسری جانب شان نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے کہ روزانہ اگر میں ہی سکور کروں تو باقی کس کام کیلیے ہیں، 43 قیمتی رنز ٹیم کے کھاتے میں جمع کروا کر گئے تو سابقہ قلندری ٹم ڈیوڈ نے انٹری ماری اور ان کے آتے ہی نیشنل سٹیڈیم کراچی کو “نو فلائنگ زون” قرار دے دیا گیا، اوپر سے کوئی بھی جہاز نہ اڑے نہ گذرے کیوں کہ ڈیوڈ صاحب لمبے لمبے چھکے مار رہے تھے، محض 29 گیندوں پر آدھا درجن چھکوں اور آدھے ہی درجن چوکوں کی مدد سے 71 رنز کی طوفانی باری کھیل کر رخصت ہوئے تو اس وقت صرف اسلام آباد والے ہی نہیں بلکہ قلندرز بھی افسوس محسوس کر رہے تھے کہ ہم نے بائیس قیراط کا یہ کھرا سونا کس لیے ڈرافٹ میں بھیج دیا تھا 😒 مگر اب پچھتاوے کیا ہووت، جب سلطان لے گئے ڈیوڈ

ان کے جانے کے بعد مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے روسو نے کمانڈ سنبھالی اور مزید آدھا درجن فلک شگاف چھکے لگا کر اس پی ایس ایل کا سب سے بڑا ٹوٹل 217 بنا ڈالا، روسو کے کھاتے میں آئے 67 رنز ناٹ آؤٹ جس کیلیے انہوں نے 35 گیندیں استعمال کی، یادش بخیر کہ “روٹی گینگ” کے ممبران اور جمیع اسلام آبادی ٹیم کو دھوتے ہوئے سلطانز نے آخری چھ اوورز میں 107 رنز جوڑے ❤️ کمال ہے بھئی واہ

حسن علی اس میچ کے زریعے “شنواری اکیڈمی آف سوئنگ اینڈ ٹرن” میں کوچ کیلیے منتخب ہو گئے ہیں، ان کو مبارکباد دینا مت بھولیے ۔ 😁😂

اسلام آباد نے ٹارگٹ کا پیچھا شروع کیا تو پال سٹرلنگ کو جلد ہی ویلا کر کے بھیج دیا ویلی نے، اور رئیس کی مدد سے ہیلز کو بھی ٹا ٹا کہہ دیا، اوپنرز کے ناکام ہو جانے کے بعد رحمان اللہ نے اپنا گر دکھایا مگر بس ایک چھکے کے بعد وہ بھی ہمت ہار گئے۔

اب کپتان لیڈ فرام دی فرنٹ بنتے ہوئے خود کمان سنبھالنے اترے تو فہیم اشرف ساتھ چھوڑ گئے، ان کیلیے پہلی ہی گیند آخری گیند ثابت ہوئی، شاداب کو اکیلا چھوڑ کر بگ مین اعظم خان بھی میدان سے باہر کو چل دیے تو “دل خوش” ہو چکا تھا سلطانز کا، اب سر آصف علی نے شاداب سے ہاتھ ملایا اور دو زبردست چھکے لگائے مگر اسی میچ میں تین شکار کرنے والے خوشدل شاہ کہاں برداشت کر سکتے تھے، اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ تھاما اور ساتھ ہی میچ بھی تھام لیا۔ چار وکٹیں پارٹ ٹائمر ہو کر 😘 واہ واہ رضوان کی کپتانی، اینڈی فلاور کی پلاننگ اور مشتاق احمد کی کوچنگ نے سلطانز کو نہ صرف ہر حال میں لڑنے والی ٹیم بلکہ خاص طور پر خوشدل کو دو آتشہ تلوار بنا دیا، بلے بازی میں قوت تو گیند بازی میں کاٹ ❣️ اور ہاں شاید اس کو شادی بھی راس آ گئی ہے، ویل پلیڈ شاہ جی ❤️

اب چھ اوورز میں 79 رنز درکار تھے اور شاداب کو نوجوان مبصر کا ساتھ میسر تھا، شاداب کا بلا چل رہا تھا اور خوب چل رہا تھا، 35 گیندوں پر دو سو کے سٹرائیک ریٹ سے 70 ہو چکے تھے اور ابھی شاداب باقی تھا، ابھی امید باقی تھی، چار اوورز میں 55 درکار تھا، ڈیوڈ ویلی کو پھر ایک عدد چھکا لگایا شاداب نے اور اب سکور 43 رہ گیا تھا جبکہ گیندیں 18 رہتی تھیں۔

انور علی نے پہلی گیند وائیڈ پھینکی تو دوسری پر مبصر خان آؤٹ، احسان اللہ نے ہوا میں جست لگا کر شاندار کیچ تھاما، حسن علی کی آمد ہوئی تو رن آوٹ ہو کر چلتے بنے اور کپتان شاداب بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہے، مگر میچ اور امید ابھی بھی باقی تھی کہ وزیرستانی منڈا وسیم جونئیر کریز پر آن پہنچا۔

سیکنڈ لاسٹ اوور کرنے سابقہ اسلام آبادی رومان رئیس پہنچے تو پہلی کی گیند پر سٹریٹ چھکا لگا کر شاداب نے چھکا اور دوسری پر چوکا لگا کر خود کو سنچری اور ٹیم کو فتح کے مزید قریب کیا مگر تیسری گیند سیدھا ٹم ڈیوڈ کے آہنی ہاتھوں میں، 42 گیندوں پر ون مین آرمی بنتے ہوئے 91 رنز کی شاندار باری کھیلی، نو خوبصورت چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے۔ اگر روٹی گینگ کا ایک بھی ممبر کچھ دیر شاداب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جاتا تو اس وقت وفاقی دارالحکومت پہلے سے زیادہ شاداب ہو چکا ہوتا ۔

ملتان سلطان نے بیس رنز سے میچ جیت کر ٹرافی کی طرف پیش قدمی جاری رکھی ہے، اور ان کا پہرہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے ۔

بہرحال پی ایس ایل سوائے پہلے میچ کے اپنے عروج پر ہے، اس کا سرور ہی وکھرا ہے، اس کا سواد ہی جدا ہے، اس کا نشہ ہی انوکھا ہے اور اس کا مزہ ہی سب سے الگ ہے 😘

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ اس کالیول جو دنیا کی کسی اور لیگ کو نصیب نہیں ❣️

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

اپنے خیالات کا اظہار کریں