پوسٹ مارٹم

ہم خطے میں سب سے پیچھے کیوں ہیں؟؟ |ٹروجنرلزم جبلی ویوز

‏‎#ٹروبلاگ
ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟

انڈیا نے اپنا آئین 1949 اور بنگلہ دیش نے 1972 میں بنالیا تھا. ہمیں 9 سال لگے اور 2 سال بعد ہی منسوخ کردیا گیا. 1962 کا آئین بنا لیکن نافذ نہ ہوسکا. 2 ٹکڑے ہونے کے بعد 1973 میں کہیں جاکر آئین پاکستان بنا. 1947 سے لیکر 1962 تک جواہر لال نہرو بھارت ‏کے وزیراعظم رہے.

ان 15 سالوں میں ہر ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کرلیا دوسری طرف پاکستان میں 1958 تک 7 وزرائےاعظم گھر جاچکے تھے. بنگلہ دیش میں 1971 سے 1990 تک 9 وزرائےاعظم آزمائے گئے لیکن پھر 2 عورتوں نے ملک کو استحکام دینے کی ٹھانی خالدہ ضیا نے پہلی بار 1991 سے 96 تک آئینی مدت ‏مکمل کی.

اسکے بعد حسینہ واجد نے 5 سال مکمل کئے اور خالدہ ضیاء دوسری مرتبہ آئیں جنہوں نے پھر 5 سال مکمل کئے. 2008 میں حسینہ واجد آئیں جو 2018 میں مسلسل تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں. 2022 میں 15 سال ہوجائیں گے. اس سیاسی استحکام نے بنگلہ دیش کی برآمدات کو 52 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے.

بھارت میں نہرو کے بعد انکی بیٹی اندرا گاندھی نے 15 سال اور انکے بیٹے راجیو گاندھی نے 5 سال حکومت کی. من موہن سنگھ 2004 سے 2014 تک اور تب سے ابتک مودی وزیراعظم ہیں. بھارت گزشتہ برس دنیا کی طاقتور معیشتوں میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پانچویں نمبر پر آگیا ہے. ‏صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات 150 ارب ڈالر سے زائد ہیں. امریکی خلائی ادارے ناسا میں ہر آٹھواں ورکر بھارتی ہے. 90 کی دہائی میں پاکستان کو 2 نئے سیاستدان ملے تو امید جاگی کہ یہ ملک کو آگے لیکر جائنگے لیکن 1999 تک یہ دونوں ایک دوسرے کو 2 دو مرتبہ گرا کر سینوں پر غرور کے میڈل ‏سجا چکے تھے. 2014 سے بنگلہ دیش اور بھارت میں ایک ہی سربراہ ہے جبکہ اس دوران پاکستان میں چوتھا وزیراعظم ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کررہاہے.

اب تک 23 وزرائے اعظم آچکے لیکن مدت کوئی بھی پوری نہ کرسکا. 75 سالوں میں سے آمریت کے 33 سال نکال دئے جائیں تو باقی 42 سال 23 سربراہوں کے حصے ‏اوسطاً 1 سال اور 8 مہینے آئے. نتیجتاً ڈیفالٹ ہونیکے ہیں. نریندر مودی بھارت کے 15 ویں وزیراعظم ہیں. ہر سربراہ کو اوسطاً 5 سال ملے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں جمہوریت کس قدر مضبوط ہے. حسینہ واجد ملک کی 51 سالہ تاریخ میں 13 ویں وزیراعظم ہیں.

اوسطاً ہر سربراہ کے حصے 4 سال آئے. ‏بطور مسلمان ہمیں دوسروں کی ترقی سے ہر گز حسد نہیں لیکن پاکستانی ہونے کے ناطے افسوس ضرور ہے کہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن پھر بھی سبق سیکھنے کی بجاے ہمارے حکمران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہیں.

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

اپنے خیالات کا اظہار کریں