سیاست

جیل بھرو تحریک کیا ہے |جبلی ویوز

جیل بھرو تحریک کیا ہے؟
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اس بابت انہوں نے کہا ہے کہ تمام کارکنان کو تیار رہنے کی ضرورت ہے اور وہ اس کے لیے جلد از جلد کال دے دیں گے۔
تازہ ترین آن لائن خطاب میں عمران خان نے کہا کہ توڑ پھوڑ اور سڑکوں پر نکلنے سے بہتر ہے کہ جیل بھرو تحریک کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔ میں کال ڈیلیور کر سکتا ہوں اور ہم سب اسی دن گرفتاریاں دینے کے لیے تیار رہیں۔
جیل بھرو تحریک بنیادی طور پر احتجاج کی شکل ہے جس میں لوگ اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے رضاکارانہ طور پر گرفتاری سے گزرتے ہیں۔ اس کا مقصد اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو جیلوں میں جمع کرنا ہے کہ ملک کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔ لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ برصغیر کی تاریخ میں جیلوں کو بھرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔
ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیر کے اندر جیل بھرو تحریک کی روایت پرانی ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی ایسے ملکی قانون کی خلاف ورزی کریں جس کے ذریعے سزا دی جاسکتی ہے۔ وگرنہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ آپ پولیس اسٹیشن یا جیل جائیں اور کہیں کہ مجھے جیل جانا ہے اور پولیس آپ کو جیل بھیج دے۔
ہندوستان میں کانگریس کے سربراہ موہن داس گاندھی کو برصغیر کے اعدادوشمار کے اندر جیل بھرو تحریک اور سول نافرمانی کی تحریک کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر یا ہندوستان میں اس تحریک کو ‘بھارت چھوڑ دو’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں تحریک آزادی کے وقت موہن داس نے اس جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا تو برطانیہ نے اس تحریک کو ناکام بنانے کے لیے اس وقت مسٹر کرپس ہندوستان میں بھیجا اور مشن کو “کرپس مشن” کہا گیا۔ جس نے قائداعظم محمد علی جناح، موہن داس گاندھی، جواہر لعل نہرو اور مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں. مسٹر کرپس نے انگریزوں کے انخلاء اور ہندوستان کو مشترکہ دولت بنانے کی تجویز پیش کی جس کو تمام رہنماؤں نے مسترد کر دیا۔
اس میں ناکامی کے بعد برطانوی حکام نے گاندھی کے ساتھ انڈین نیشنل کانگریس کے بھی ان تمام رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جو اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اس تحریک پر 60,000 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے زیادہ تر کو تقسیم ہند تک بغیر کسی مقدمے کے قید رکھا گیا تھا۔ اسی وجہ سے اس تحریک سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا لیکن پھر بھی تحریک آزادی کو برصغیر کے عوام میں ضرور مقبولیت حاصل ہوئی۔
2011 میں، انا ہزارے نے جیل بھرو تحریک متعارف کرائی، جس نے بھارت میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی اور چاہا کہ پارلیمنٹ میں ایک بل میں اسکی تجاویز شامل کی جائیں ۔ حکومت نے اس تحریک کو بھانپتے ہوئے اسے بل کا حصہ بنایا جس کی وجہ سے اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔
پاکستان میں بھی جیل بھرو تحریک کے شواہد موجود ہیں، جس کا آغاز ضیاءالحق کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد، ایم آر ڈی کی مدد سے کیا گیا تھا۔
بحالی جمہوریت کی اس تحریک کے مطالبات میں ضیاء الحق کا استعفیٰ، قانون کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں کی منسوخی شامل تھی۔ اس وقت بیگم نصرت بھٹو نے لاہور میں اپنی گرفتاری پیش کر کے ایم آر ڈی کی جیل بھرو تحریک شروع کی۔ بعد میں انہیں کراچی منتقل کر دیا گیا جب کہ بے نظیر بھٹو کے پنجاب میں آنے پر پابندی لگا دی گئی۔
جبکہ اسی اثناء میں ذوالفقار نامی تنظیم نے کراچی سے پشاور جانے والا پی آئی اے کا طیارہ ہائی جیک کر لیا۔ اسے پہلے کابل اور بعد میں دمشق لے جایا گیا۔ طیارے میں 146 مسافر سوار تھے جن کی زندگیوں کے بدلے 55 سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ہائی جیکروں نے جہاز میں سوار میجر طارق رحیم کو قتل کر دیا اور لاش کو جہاز سے باہر پھینک دیا۔ اس واقعے کے بعد ضیاء حکام نے پیپلز پارٹی کے ارکان کو جیلوں میں ڈال دیا، کچھ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ایم آر ڈی کی یہ تحریک دم توڑ گئی۔
آج کے حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ عمران خان کی یہ تحریک کس حد تک کامیاب ہوتی ہے کیونکہ اس وقت جہاں برطانوی حکومت پر اثر نہیں پڑا تھا اب بھی یہی لگتا ہے کہ اس تحریک سے یہ حکومت نہیں گرے گی۔ لیکن جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کا واحد مقصد اپنے لوگوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ جب بھی پاکستان میں الیکشن ہوں تو ان کے لوگ الیکشن کے لیے تیار ہوں، اس لیے ان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان صرف کارکنان کی موبلائزیشن سے بڑھ کر کچھ زیادہ اہم نہیں ہے۔ اور اسی موبلائزیشن کے حوالے سے یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک ایسا شخص ہے جو اپنے مخالفین کو مصروف رکھنے کی کامیاب حکمت عملی پر مسلسل عمل پیرا ہے اور اس جیل بھرو تحریک سے بھی وہ موجودہ حکومت کو مصروف رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گا۔

Syed Moin uddin Shah
Ms. Management Sciences
Islamia University Bahawalpur
Follow his Twitter accounthttp://twitter.com/BukhariM9‎
Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

اپنے خیالات کا اظہار کریں