پوسٹ مارٹم

آئین پاکستان اور کون کہاں کھڑا ہے ؟؟

آئین کی بالادستی اور کون کہاں کھڑا ہے؟؟؟
پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جا رہا ہے، اور اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی پے، حالانکہ آئین میں الیکشن کے لیے 90 روز کی پابندی سے رُوگرادنی ممکن نہیں۔
جب سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مذکورہ بالا دونوں صوبوں میں الیکشن کی تاخیر کا ازخود نوٹس لیا ہے، اُن کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع کردی گئی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف جسٹس کے ساتھی ججز آئین کی بالادستی کی اِس لڑائی میں ان کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے ہوتے، لیکن افسوس کوئی بے وقت کی راگنی الاپتے ہوئے سوموٹو اختیارات کے خلاف نکال آیا ہے، کوئی بینچ میں بیٹھ نہیں رہا، کوئی بینچ سے نکل رہا ہے، تو کوئی اپنا پرانا سکور سیٹل کر رہا ہے۔
ایک سیاسی جماعت کو جو الیکشنز سے ہر صورت فرار چاہتی ہے، کو خوش کرنے، اُس کے ایجنڈے کے آگے بڑھانے اور اُس کے کمزور بیانیے کو بے ساکھیاں فراہم کرنے کے لیے بعض مخصوص صحافی بھی اپنا حصہ بقدرِ جُثہ ڈال رہے ہیں۔
یہ لوگ انتخابات ملتوی کرانے کے لیے عجیب و غریب قسم کی تاویلیں گھڑ رہے ہیں اور یہ سب کچھ بغضِ عمران میں ایک سیاسی جماعت کا راستہ روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
جو لوگ بھی اس وقت تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں وہ ہوش کے ناخن لیں اور کم سے کم اِس وقت ذاتی مفاد اور پسند ناپسند کو ایک طرف رکھ کر آئین کی بالادستی کی بات کریں، کیونکہ اگر ایک بار آئین سے انحراف کا راستہ نکال لیا گیا تو پھر یہ آئین مذاق بن کر رہ جائے گا اور ہر حکمران، صاحبِ اختیار یا طاقتور اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے رُوگردانی کا راستہ نکالتا رہے گا۔
ملک کی تاریخ کے اِس اہم ترین مقدمے کا فیصلہ ملکی سیاست پر دُور رس اثرات مرتب کرے گا، اور کون مصلحت، مجبوری یا کسی مفاد کے تحت آئین سے انحراف کرنے کے لیے تاویلیں پیش کرتا رہا، مورخ سب لکھے گا۔

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

اپنے خیالات کا اظہار کریں