اسلام

قرآن مت جلاؤ ….تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

… میری جذباتی تقریر جاری تھی میرے جوشیلے فالوؤرز نعرے لگا رہے تھے اور میں اپنی اس عمل پر سرشار ہو رہا تھا ۔۔۔میں نے کہا: اے یہود و نصاریٰ قرآن مت جلاؤ ۔۔۔۔مت جلاؤ قرآن ۔۔۔۔میرے لہجے کی گھن گرج جاری تھی کہ ایک آواز نے میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔” لیکن قرآن جلانے والوں میں تم بھی تو شامل ہو “۔۔۔۔جسم و جاں میں جاری واہ واہ کی سرشاری کا رقص تھم گیا..” تم بھی شامل ہو ان لوگوں کے سہولت کاروں میں جو ناروے میں قرآن کو جلا رہے تھے “۔۔میں نے بے یقینی کی کیفیت میں پوچھا بھلا میں کیسے شامل تھا۔۔۔؟دوسری جانب سسکیوں کی آواز تھی ۔۔ جب سسکیاں تھمیں تو میں نے کہا سہولت کاری کا الزام بہت بڑا ہے.میری دلیل نے اسے برانگیختہ کر دیا ، آؤ تمہیں وہ تماشہ دکھاؤں جو تم دیکھنا نہیں چاہتے ہو وہ مجھے مجمع کے درمیان میں لے آیا اور مجھ سے کہا ” پوچھو! اس مجمع سے کیا قرآن کی حفاظت کرے گا یہ مجمع۔۔۔۔؟میں نے آواز بلند کی کیا قرآن کی حفاظت کرو گے۔۔۔؟مجمع نے کہا ہاں کریں گے.میں نے کہا حفاظت قرآن کے لیے جان دینی پڑے جان دو گے۔۔۔؟ مجمع نے کہا: ہاں دیں گے۔ میں نے کہا حفاظت قرآن کے لیے مال خرچ کرنا پڑا تو کرو گے۔۔۔۔؟مجمع نے کہا ہاں کریں گےمیں نے تکبر کے ساتھ اس پر نظر ڈالی ۔۔۔وہ مسکرا دیاعجب ڈھٹائی ہے، اس شکست کے بعد بھی یہ مسکرا رہا ہے میں نے دل میں سوچا۔۔۔ تم نے جو چاہا وہ پوچھا اب وہ پوچھو جو میں کہتا ہوں ۔۔۔۔۔ اس نے ایک نیا چیلنج دیا ۔۔میں مسکرا دیا اور مکمل اعتماد کے ساتھ کہاہا ں بتاؤ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو۔۔۔؟اس نے کہا اس مجمع سے پوچھو” آج تلاوت قرآن کس کس نے کی “۔۔۔۔؟” ان سے پوچھو آج تلاوت کے بعد کس آیت پر ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے “…؟ان سے معلوم کرو قرآن ان کی عملی زندگی میں کہاں کہاں ہے “….؟” اور یہ بھی بتائیے حقوق قرآن کی ادائیگی میں آپ کو کس جگہ کھڑا کیا جائے “..؟” کیا ان کے وجود ، ان کے گھر ان کے خاندان ، ان کے محلے ان کے شہر ، ان کی ریاست میں کہیں قرآن اپنی شان کے ساتھ نظر آتا ہے “۔۔۔۔؟؟؟؟” غیر مسلموں کو چھوڑئیے کیا مسلمان ممالک میں قرآن عملی طور پر کسی بھی اسلامی ریاست کا آئین ہے “…. ؟ میں جو قرآن کے حق کے لیے باہر نکلا تھا اب اپنی ہی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا ۔۔۔اس کے سوالات جاری تھے اور مجمع کم ہوتا جارہا تھا۔۔سنو اے اہل درد سنو۔۔۔۔!جب تک قرآن تمہارے گھروں کی طاقوں میں سجا رہے گا اس پر گرد جمع ہوتی رہے گی ناروے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے جس دن یہ قرآن طاقوں سے اتر کر تمہارے دل و دماغ میں سما گیا، کردار کے غلاف میں ملفوف ہو گیا، دنیا تمہارے قدموں میں ہو گی ۔اے اہلِ محبت سُنو ۔۔۔۔!!توڑ دو اس جذباتی خول کو اور بیدار کرو جذبے کو احتجاج کرو قرآن جلانے کے خلاف اور اس کا آغاز اپنے نفس سے شروع کرو جنہوں نے اس قرآن سے سچی محبت کی انہوں نے جہاں بانی کی انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے صدیاں گزر گئیں مگر آج بھی ان کی ہیبت طاری ہے آج بھی ان کی عزت و احترام موجود ہے۔۔ کیا خوب کہا ہے شاعر نے، بات ہی ختم کر دی ۔۔۔” درس قرآن اگر ہم نے نہ بھلایا ہوتا ،یہ وقت نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ۔۔۔ ” طہارتِ جسم ضروری ہے قرآن کی تلاوت کے لیے ,طہارت کردار ضروری ہے قرآن کی حفاظت کے لیے ” … اللہ پاک سمجھ اور ہدایت عطاء فرمائے ۔۔آمین

فالو کریں
میگزین at Jabbli Views
جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔
Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

One thought on “قرآن مت جلاؤ ….تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

اپنے خیالات کا اظہار کریں