خدمت خلق عین عبادت ہے

خدمت خلق عظیم عبادت

بہترین انسان وه ہے جو دوسرے انسانوں کے لئے نافع و مفید ہو الحدیثﷺ ۔
جب انسان کسی دوسرے انسان کی حاجت روائی کرتا ہے تو فطری طور پر دونوں کے درمیان اخوت و بھائی چارگی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں اور الفت و محبّت پروان چڑھنے لگتے ہیں یہی محبت انسانوں میں ہمدردی کی گارنٹی جبکہ اختلافات اور بے قدریوں کے لئے زہر بن کر رہ ثابت ہوتا ہے ۔اور وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی بھی آسان اور خوشگوار ہو جاتی ہے ۔
چونکہ دین اسلام نے خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اور عظیم عبادت قرار دیا ہے اللّه پاک نے انسانوں کو ایک جیسے صلاحیتوں اور صفات سے نہیں نوازا ہے بلکہ ان کے درمیان فرق رکھا ہے اور یہی فرق اس کائنات کے رنگ و بو کا حسن جمال ہے ۔اگر اللّه پاک چاہتے تو سب کو امیر ، طاقتور ، صحت مند ، زہین اور خوبصورت پیدا کر سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں کیا ہے تو اس کے پیچھے بھی ایک بڑا فلسفہ پنہاں ہے ۔میرے مطابق اللّه پاک نے جس امتحان کی خاطر انسان کو پیدا کیا ہے اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا جب سارے انسان ایک جیسے ہوتے تو ۔۔۔!
رب کی پاک ذات نے جس کو بہت کچھ دیا ہے اس کا بھی امتحان ہے اور جسے محروم رکھا ہے اس کا بھی امتحان ہے ۔وه پاک ذات اس بات کو یا پھر اس عمل کو پسند کرتا ہے کہ معاشرے کے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مدد وه لوگ کریں جن کو اللّه پاک نے اپنے فضل سے نوازا ہے ۔ تاکہ انسانوں کے درمیان باہمی محبت کے رشتے استوار ہوں اور مدد کرنے والے کو اللّه پاک کی رضا بھی حاصل ہو ۔وگرنہ وه پاک ذات جو اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی مالک ۔۔۔!!؛
انکے لئے مشکل تو نہیں ۔۔! انکے اک اشارے سے ہر وه کام ہو جاتا ہے جسے بڑے سے بڑا اور طاقت وار انسان بھی ناممکن سمجھ رہا ہوتا ہے ۔
چونکہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اس لئے سماج سے الگ ہٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا ۔اس کے تمام تر مشکلات کا سماج ہی میں موجود ہے ۔انسان کتنا ہی دولت مند کیوں نہ ہو ، کتنی ہی صلاحیتوں اور خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ۔۔! پھر بھی ہے تو انسان نا ۔۔۔!
کسی نا کسی کام میں دوسرے انسانوں کا محتاج ہی رہتا ہے ۔اس لئے اس محتاجی کے خاتمے کیلئے ایک دوسرے کا ہمدرد اور خیر خواہ ہونا ضروری ہے ۔
اس ہمدردی ہی کی بنیاد پر ایک معاشرہ خوشحال اور پر امن رہتا ہے ۔اسی ہمدردی کی وجہ سے آپس میں نفرتیں ختم اور میعاری رشتے قائم ہوجاتے ہیں اور جہاں رشتے موجود ہوں وہاں مشکلات بھی کم ہو جاتی ہیں یہ رشتے چاہے دوستی کے ہوں یا پھر کسی اور نوعیت کے ۔۔!!
انسانیت کی خدمت کے بہت سے طریقے ہیں مثلا بیواؤں اور یتیموں کی مدد ، مسافروں ، فقرہ اور مسکینوں سے ہمدردی ، بیماروں اور معذوروں کی مدد اور ہر قسم کے مصیبت زدگان کی مدد ، یہ سب خدمت خلق میں شمار کیے جاتے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
” علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے “
اس حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے کسی غریب کے بچے /بچوں جن کی گنجائش میں پڑھائی ممکن نہ ہو کو پڑھانا ایک طرف جہالت کے خلاف جہاد ہے تو دوسری طرف رسول اللّهﷺ کی سنت کی تکمیل جبکہ تیسری طرف عظیم خدمت خلق بھی ہے ہے ۔
بحیثیت مسلمان ہم یہ دیکھیں کہ قرآن مجید میں بھی جا بجا اس عمل کا ذکر آیا ہے ۔
اس کے علاوہ کسی بے سہارے کو مستقل طور پر روزگار مہیا کرنا بھی عظیم خدمت خلق ہے اس سے یہ ہوگا کہ وه بھیک مانگنے سے بچ جائے گا کیونکہ دین اسلام نے بھیک مانگنے سے منع کیا ہے اور اس عمل کو یعنی بھیک مانگنے کو نبی ﷺ نے بھی ناپسند کیا ہے ۔بدقسمتی سے آج کے دور میں مسلمان معاشروں میں کئی لوگوں نے اس عمل کو پیشے کے طور پر اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ پہچان نہ ہونے کی وجہ سے حقدار کو حق کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
علاوہ ازیں خدمت خلق میں مسلم اور غیر مسلم میں اتنا خاص فرق نہیں ہاں البتہ مسلمان سے ہمدردی زیادہ ثواب کا باعث ہے لیکن اگر کوئی غیر مسلم بھی مدد کا حقدار ہو تو اس کی بھی مدد کرنی چاہئے کیونکہ آخر کار وه بھی اللّه کا بندہ ہے ۔۔؛
اللّه پاک سب کو کشادہ اور حلال رزق عطاء فرمائے ۔اور ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ اور طاقت عطاء فرمائے آمین ۔

تحریر اسد ولی انصاری
https://twitter.com/Rustamaay?s=09

https://twitter.com/Rustamaay?s=09
Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: