شرم وحیاء

شرم و حیاء

آج اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا دور دورہ ہے ۔ اچھے خاصے اسلامی تہذیب اور بظاہر اسلامی گھرانے بھی اس آگ سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس بے حیائی کی آگ پہلے کیبل نیٹ ورک نے پروان چڑھایا رہی سہی کسر اسمارٹ موبائل-فون اور اس کے ذریعے سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے ۔ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو جیسی موبائل ایپلیکیشنز نے ہر گھر کی سِکریسی تباہ کر دی ہے۔
بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری ہمیں شرم و حیاء کا دامن قطعاً نہیں چھوڑنا چاہیے۔ خاص کر ایک مسلمان کو یہ جان لینا چاہیے کہ شرم و حیاء ایمان کا لازمی جزو ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم شریف نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث محفوظ کی ہے،
“والحياء شعبة من الإيمان “(١٥٢)
یعنی حیاہ ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
شرم و حیاء کے بغیر نہ ایمان محفوظ ہے، نہ کوئی گھر اور نہ ہی کوئی معاشرہ محفوظ ہے۔

یہاں حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا واقعہ رقم کرنا چاہتاہوں کہ جب آپ علیہ السلام ایک مرتبہ جنگل میں سفر پر تھے اور کچھ دیر آرام کی غرض سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ سامنے نگاہ پڑی تو دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر ایک کنواں ہے اور وہاں پر لوگ اپنے جانوروں یعنی بھیڑ بکریوں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن اس کنویں سے کچھ فاصلے پر دو خواتین اپنی بکریوں کو روک کر کھڑی ہیں۔

اشتہار



آپ علیہ السلام چل کر انکے پاس جاتے ہیں اور دریافت فرماتے ہیں کہ وہ کیوں دور کھڑی ہیں تو جواب دیتی ہیں کہ انکا کوئی بھائی نہیں اور باپ بوڑھا ہے جو گھر پر ہے تو جب یہ لوگ چلے جائیں گے تو تب ہی وہ اپنی بکریوں کو پانی پلا کر گھر جائیں گی۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود کنواں چلا کر بکریوں کو پانی پلا دیا اور وہ گھر چلی گئیں۔
یہ نوجوان خواتین دیگر مردوں سے شرم و حیاء کے باعث ایک طرف کھڑی رہ کر روزانہ انکے جانے جانے کا انتظار کرتیں اور آخر میں گھر جاتیں لیکن اس دن زرا جلدی گھر گئیں تو انکے والد حضرت شعیب علیہ السلام جو خود بھی نبی تھے تو اپنی بیٹیوں سے دریافت کیا کہ آج جلدی کیسے آگئیں تو انہوں نے سارا واقعہ سنا دیا۔
اسے قرآن پاک نے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے،
،،
فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ” (القصص ٢٤)
اس پر موسیٰ نے ان کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا ، ( ١٣ ) پھر مڑ کر ایک سائے کی جگہ چلے گئے ، اور کہنے لگے : میرے پروردگار ! جو کوئی بہتری تو مجھ پر اوپر سے نازل کردے ، میں اس کا محتاج ہوں ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سے فرمایا اس شخص کو بلا لاؤ ہم اسے اچھا بدلہ دیں گے۔ تو جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے گئیں تو قرآن پاک نے اسطرح اسے بیان فرمایا ہے،

“تھوڑی دیر بعد ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کے پاس شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی ، ( ١٥ ) کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں ، تاکہ آپ کو اس بات کا انعام دیں کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو پانی پلایا ہے ۔ ( ١٦ ) چنانچہ جب وہ عورتوں کے والد کے پاس پہنچے اور ان کو ساری سرگذشت سنائی ، تو انہوں نے کہا : کوئی اندیشہ نہ کرو ، تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو ۔ “(القصص ٢٥)

اس نوجوان لڑکی کے آنے اور بات کرنے میں اس قدر شرم و حیاء تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کا حصہ بنا دیا۔ اور پھر کچھ وقت بعد حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی ایک بیٹی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نکاح میں دے دی۔

عملی اعتبار سے اس حیا کے بھی تین شعبے ہیں
(۱) اللہ تعالیٰ سے حیا
(۲) لوگوں سے حیا
(۳) اپنے نفس سے حیا

👈اللہ تعالیٰ سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کو نہ توڑے
لوگوں سے حیا یہ کہ حقوق العباد کو ادا کرے
👈لوگوں کے سامنے جن باتوں کے اظہار کو محبوب اور برا سمجھا جاتا ہے،اُن کے اظہار سے بچے
👈اور اپنے نفس سے حیاء یہ ہے کہ نفس کو ہر برے اور قابل مذمت کام سے بچائے
شرم و حیاء ایمانی زیور ہےاپنی زندگی میں ہر قدم ایسے پھونک پھونک کر رکھیں کہ ایمان کے لٹیرے اور عزتوں کے ڈاکو کہیں شرم و حیاء کی یہ قیمتی دولت آپ سے چھین نہ لیں۔

آج ہمیں بھی اس شرم و حیاء کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی طلب کرنی ہے۔ اور ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی سکھانا ہے کہ بے حیائی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔
اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ثم آمین۔

سید معین الدین

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: