شہادت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ


‏حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت


ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی

 اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے،اس حدیث کو ابو نعیم نے روایت کیاہے۔حضرت عثمان غنیؓ کاسلسلۂ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر رسول اللہ ﷺسےجاملتاہے۔حضرت عثمان غنیؓ کی نانی رسول اللہﷺ کی سگی پھوپھی اور رسول اللہﷺْ کے والدحضرت عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپ رسول اللہﷺْکےقریبی رشتے دار تھے۔اللہ تعالیٰ نےحضرت عثمان غنیؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھااور وہ اس مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہ کے آخری رسولﷺ نے آپ کو “غنی” کا لقب عطا فرمایا۔حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔

سیدناحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 24 ھجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ مقر ر ہوئے تو شروع میں آپ نے 22 لاکھ مربع میل پر حکومت کی. مختلف ممالک کو فتح کر کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے مُتصف فرماکر صحابہ میں ممتاز فرمایا جو اُن ہی کا حصہ ہے ۔حضرت عثمان  غنیؓ  حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے تھے ۔آپ عشرۂ مُبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضور نبی کریم ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔حضرت عثمان   غنیؓ  نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے اور اسی سبب آپ کو “ذوالنورین” کہا جاتا ہے۔

ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی

حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد تین دنوں میں گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے بعد حضرت عثمان بن عفانؓ کوخلیفہ سوم منتخب کیا گیا۔ منتخب ہونے کے بعدآپؓ نے خطبہ میں فرمایا ’’یاد رکھو دنیا سراپا فریب ہے۔دنیا کی زندگی تمہیں غلط فہمیوں میں ڈال کر شیطان کے پنجہ وساوس میں مبتلا نہ کر دے۔ فانی عمر کی مہلت کافی حد تک گزر چکی ہے نہ جانے کس وقت پیغام اجل آجائے۔ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو۔ اللہ نے دنیا کی مہلت اس لئے دی ہے کہ آخرت سنوار لو‘‘آپؓ نے تقریباًبارہ سال تک امور خلافت سر انجام دیئے۔ آخری دور میں ایک یہودی النسل عبداللہ بن سبا نے کوفہ، بصرہ اور مصر کے فسادی گروہوں کو جمع کیا اور اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کی۔ آپؓ پر طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ آپؓ نے ہر سوال کا معقول جواب دیا۔ ذوالحج کے مہینہ میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ شریف چلے گئے تھے۔ سازشیوں کو موقع مل گیا اور آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ’’میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا‘‘ آپؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود حضورﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری۔ اس طرح بروز جمعۃ المبارک بمطابق 18 ذو الحج 35 ؁ء ہجری میں انتہائی درد ناک انداز میں آپؓ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کی قبر مبارک مسجد نبوی شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے

آپؓ کا شمار ان دس جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے جنہیں نبی کریمﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔ دو مرتبہ آپؓ کو اللہ کے راستے میں ہجرت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک دفعہ آپؓ نے اپنی اہلیہ حضرت رقیہؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریمﷺ کے مدینہ شریف جانے کے بعد وہاں سے ہی آپؓ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ آپؓ نے پوری امت کو ایک قرأتِ قرآن پر جمع کیا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کے سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپؓ کے دور میں طرابلس، شام، افریقہ، جزیرہ قبرص، جزیرہ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، خراسان، طبرستان اور کئی ایک مزید علاقے فتح ہوئے۔ آپؓ نے مدینہ پاک میں نہری نظام کو مضبوط کیا۔ سیلاب سے بچاؤ کیلئے ڈیم تعمیر کئے۔ کنویں کھدوائے۔ آپؓ حد درجہ شرم و حیا کرنے والے تھے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ایامِ تشریق میں ہوئی او ر آپ شنبہ کی شب میں مغرب و عشاء کے درمیان بقیع شریف میں مدفون ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر بیاسی سال کی ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نمازحضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھی اور انہوں نے آپ کو دفن کیا اور یہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت تھی

ابن عساکر نے یزید بن حبیب سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یورِش کرنے والوں میں سے اکثر لوگ مجنون و دیوانہ ہوگئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلا فتنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شہید کیا جاناہے اور آخرِ فِتَن دجال کا خروج۔

 غرض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت نے ایک عجیب ہِیْجان پیدا کردیا اور وہ اس سے خائف ہوگئے اور سمجھنے لگے کہ اب فتنوں کا دروازہ کھلا اور دین میں رَخْنے پیدا ہونے شروع ہوئے۔ حضرت سَمُرَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام ایک محکم قلعہ میں محفوظ تھاحضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اسلام میں پہلا رَخنہ ہے اور ایسا رخنہ جس کا اِنْسِداد قیامت تک نہ ہوگا۔

تحریر فاطمہ بلوچ ‎

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: