میں بھی انسان ہوں صحراء میں سسکتی زندگی

میں بھی تو انسان ہوں۔
صحرا میں سسکتی زندگی

میں بھی انسان ہوں۔
زندگی اک جبر مسلسل ہے۔ اک سانس کو چلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ اس راہ میں کچھ بہت آگے نکل جاتے ہیں ترقی کی جیسے ساری راہیں طے کر جاتے ہیں مشکلات پہ قابو پا لیتے ہیں اور کچھ دوسروں پہ اپنی تکالیف کا وزن ڈال کر انکی راحتیں لے کر زندگی کی راہوں پہ چل نکلتے ہیں۔
جس طرح انسانی جسم کو زندہ رہنے کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہے اسی طرح اس کو صاف پانی اور متوازن غذا کی بھی ضرورت ہے۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک پانی جیسی نعمت سے مالا مال ہے لیکن پھر بھی یہاں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پانی بلکل بھی میسر نہیں۔ ایسے علاقوں میں نہ تو آج تک گورنمنٹ لوگوں کو یہ سہولیات دے سکی اور نہ وہاں کے باسی خود اپنے لیے پانی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے مکین آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا صدی مکمل ہونے کو ہے لیکن وہاں ان علاقوں میں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات تک میسر نہ ہو سکیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں وہاں کے باشندوں کی خوراک ، صحت ، تعلیم ، رہن سہن ، بودوباش اور پینے کے صاف پانی کے مسائل اج تک کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ کون آئے گا جو انکے ان مسائل کو حل کرے گا؟
کون آئے گا جو ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا؟
کون ہے جو انکے درد کو بانٹے گا؟ کون ہے جو ان کو جینے کا حق دے گا؟
کیا انکو جینے کا کوئی حق نہیں؟
انسانی ضروریات کی بنیادی سہولیات کون مہیا کرے گا انکو؟
کیسے وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کو دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کو ترس آتا ہے۔ ان کے پینے کے پانی کا انحصار بھی بارشوں کے جمع شدہ تالابوں اور جوہڑوں پہ ہوتا ہے جو کہ بارش ہونے پہ بھر جاتے ہیں اور پھر وہیں سے جانور پانی پیتے ہیں وہیں سے وہاں کے رہنے والے لوگ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں۔ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ کا انسان ایسا پانی پی رہا ہے جو کہ عام استعمال کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ لیکن کیا کریں کس کو پکاریں انکی آواز نیسلے پینے والوں کے کانوں تک کہاں پہنچتی ہے؟
ہزاروں لوگ سالانہ خشک سالی سے مر جاتے ہیں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی جوہڑوں اور تالابوں سے خشک ہو جاتا لوگ پیاس سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں تو کچھ حکومتی نمائندے اپنے گناہوں پہ پردہ ڈالنے اور اپنا ووٹ بچانے کیلئے کچھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر وہاں پہنچ جاتے ہیں کچھ تصویریں بنا کر اور کچھ ویڈیو بنا کر اپنے مخلص ہونے کا ثبوت دے آتے ہیں۔
لیکن ان کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔
ہر سال ہزاروں لوگ گندے پانی کے استعمال سے مختلف جان لیوا وبا کا شکار ہو جاتے ہیں کچھ اس میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں اور کچھ ان وباوں سے معذور ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ امتیازی سلوک کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا انکو یہ حق حاصل نہیں کہ انکو بھی عام لوگوں کی طرح سہولیات زندگی دی جائیں؟
یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہماری سوچ انفرادی نہیں اجتماعی ہو گی۔ آج ہر ایک کو اپنی زندگی اپنی خوشی اور اپنی سہولتوں کا خیال ہے ہم ان لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں یہ سوچ کر شاید کہ ہم تو خوش ہیں ہمیں تو پرابلم نہیں۔ لیکن انکی آواز تو بن سکتے ہیں ان کی بات کو حاکم وقت تک تو پہنچا سکتے ہیں سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے پھر بھی ہم خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ وہاں زندگی کی کوئی دوسری سہولت نہیں انٹرنیٹ نہیں موبائل سروس نہیں لوگ احتجاج نہیں کر سکتے لوگ اپنے ہی غموں میں ڈوبے ہیں لیکن ہم تو آزاد ہیں ان کی آواز بن سکتے ہیں انکے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں تو پھر ہم خاموش کیوں ہیں؟
ہم حکومت وقت سے ان لوگوں کی زندگیوں کا حساب کیوں نہیں مانگتے؟
وہ بھی انسان ہیں ہماری طرح جینا انکا بھی بنیادی حق ہے انکے جذبات بھی ہماری طرح ہیں ان کے دلوں میں بھی وطن اور اپنوں کی محبت ہے وہ بھی پاکستانی ہیں وہ بھی محب وطن ہیں وہ بھی وطن پہ جان دینے کو اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔
ہم تکالیف میں گھرتے ہیں تو وہ بھی اس کا درد محسوس کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان کا درد کیوں نہیں محسوس ہوتا؟ آخر کیوں؟

تحریر بشارت حسین
https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: