ستاروں سے سیاروں تک

ستاروں سے سیاروں تک۔۔۔درست انداز سمت کا تعین وقت اور رفتار کے ساتھ ساتھ درخت کی ٹھنڈی چھاؤں تازہ پھلوں لہلہاتے پھولوں خوشبو دار زمین کی بہترین منصوبہ بندی، نقش بندی۔زمین و آسمان ہر مادہ ایک خاص اہمیت اور خصوصیت کے ساتھ وقت،رفتار،

گردش اپنی عمر کے پورے ہونے کے انتظار میں وقت کا ٹہراو اور ساکن پن ایک بوجھ ایک حقیقت۔ہوا اور اس کے اندر موجود تمام تخلیقاتی اجسام کا ساکن پن یا حرکت کرنے سے حاصل شدہ سبق۔ایک سمت روشنی اندھیرا نا امیدی خوف گھبراہٹ طویل داستانیں نا مکمل اور نا ہی تسلیم شدہ۔راستوں میں جدت روشنی میں جدت سفر یا نا ختم ہونیوالی گہرائی۔ایک خاص عمل خاص مقصد نہ روشنی اور نہ ہی اندھیرا نہ ہی زندگی ایک مدار ایک انتظار۔زندگی ایک مدار مکمل شدہ دوسرے کیلئے خود اورخود کی صلاحیت کو قابلیت کو ارد گرد کا ماحول اور وقت کی رفتار کو زیر بحث لانے کے بعد ایک طویل سفر طویل داستان۔اصولوں میں تقسیم شدہ قوانین میں وزن اور خصوصیت میں تقسیم شدہ اجسام کا ایک دوسرے سے نہ گلہ اور نہ ہی شکوہ بے جان بے اثر ماحول صحت افزا خوشبو دار ہوا وقت کے طویل ہونے میں معاون۔زمین سے لے کر آسمان تک خلا میں موجود ہر چیز کا ایک دوسرے کے ساتھ قوت کے ساتھ جڑا ہونا بیک وقت ساکن اور حرکت کی حالت میں ہونا انسان کے لئے سبق اور مشعل راہ ہے۔وہی قوت وہی جستجو نہ زندہ کا نہ ہی بے جان کے ساتھ موازنہ کرنا دو نتائج کو جنم دیتا ہے۔ایک سوال کیا تمام زندہ اجسام کا زمین پر پایا جانا ممکن ہے؟؟

جواب کی تلاش میں مذہب،سائنس، دوسرے علوم کے بارے میں

علم اور تحقیق کا ہونا ضروری۔زندہ اجسام میں خوشی اور غمی میں ایک ساتھ ہونا اور اگر نہ ہوئے تو غیر زندہ اجزاء میں شمار کئے جانا۔وہ تمام اجزاء جن پر ہم منحصر اور جو ہم پر منحصر کیا اختتام کیا زندہ کسی خاص قوت کےزیر اثر پرورش پانا مزید اپنے اوپر بوجھ اور ذمہ داریوں کے اضافے کے ساتھ ساتھ ایک تسلسل قائم ایک مقصد قائم۔کیا وقت اور اس میں تبدیلی ماحول اور انسان کے رویّؤں اور جدت میں تبدیلی ایک نئے دور کے آغاز میں تمام امور کو زیر بحث لائے بغیر اگلا قدم اگلا وقت سخت بے جان۔زمین کے اندر اور باہر بڑی مقدار میں بے جان اجزاء کی موجودگی مختلف اشکال میں پایا جانا ماضی بعید اور شواہدات کیا حاصل کتاب کے ایک صفحہ میں اضافہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: