آپ کی آواز کب مرے گی اواز کے متعلق حیران کن معلومات

‏آپکی آواز کب مرئے گی؟
میڈیم ویو 828کلوہرٹز پریہ ریڈیو پاکستان ہے۔یہ فقرہ یقیننا آپ نے سنا ہوگا۔کئی نے تو غور بھی کیا ہوگا کہ اس فقرئے کا کیا مطلب ہے اور جواب بھی ڈھونڈ لیا ہوگا کہ ریڈیو پاکستان لاہور کی یہ آواز پورئے پاکستان میں ہواوں کے دوش یعنی ریڈیو ویوز کی صورت میں سفر کرتی تھی اور اسی فریکوئنسی پر لگا ریڈیو سیٹ اسکو کیچ کرکے سامعین کو محظوظ کرتا تھا۔

آج کے جدید دور میں اگر آپ اپنے کسی بزرگ کو بتائیں کہ سیٹلائٹ ٹی وی کی شعاعیں پہلے 35 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے خلا میں جاتی ہیں اور پھر وہاں سے منعکس ہوکر واپس چھت پر نصب ڈش انٹینا پر وصول ہوتی ہیں. جبکہ موبائل سگنلز کابھی یہی طریقہ کارہے تووہ ضرور اسکو جادو کہیں گے۔اور اگر کسی کو آپ یہ کہہ دیں کہ ہمارئے نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز کائنات میں اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے تو ہوسکتا ہے آپ پر کفر کا فتوی لگادئے۔

لیکن سائنس ایک ایسا شعبہ ہے جو حقائق کی بنا پر ہرحیرانی کو حقیقت میں بدلنے کے سفر پر محوہے۔کائنات میں موجود ہرشے کی کوئی نہ کوئی آواز ضرور ہے۔ہر ایک کی ساخت بھی مختلف ہے جسکو سمجھنے کے لئے قابلیت بھی الگ الگ درکار ہے۔

آواز فضا میں موجودہوا کے سہارئے دوسروں تک پہنچتی ہے جسے سگنل بھی کہا جاتا ہے۔چونکہ آواز لہروں میں تحلیل ہوجاتی ہے اس لئے ہوا کی طرح یہ بھی نظر نہیں آتی۔البتہ ہر سیکنڈ میں اپنی ہئیت تبدیل کرتی ہے جسے انگریزی میں سائیکلز کہتے ہیں۔انہی سائیکلز کی فی سیکنڈ بدلتی صورتحال کو ماپنے کا عمل اردو میں تعدد جبکہ انگریزی میں فریکوئنسی کہلاتاہے۔آواز کا اپنا دباو بھی ہوتا ہے۔

جسے انگریزی میں ڈی بی لیول یا والیم کہتے ہیں۔جبکہ آوازکا تعلق طاقت سے بھی ہے۔ جتنی طاقت سے بھیجی جائے گی اتنا ہی فاصلہ طے کرے گی۔البتہ موسم کا آواز کی مسافت پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔صاف موسم طے کردہ فاصلے کو بڑھاتا جبکہ ابر آلود یا بارش میں یہ فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔ اسکی بہترین مثال سیٹلائٹ ٹی وی کی ہے جو بارش کے دوران نو سگنل دکھانا شروع کردیتا ہے۔

کائنات کی تمام آوازوں کو فریکوئنسی اسپیکٹرم یا ریڈیو سپیکٹرم کہا جاتا ہے۔یہ گراف 30ہرٹز سے شروع ہوکر 3ٹیرا ہرٹز تک جاتا ہے۔ 30ہرٹز کا سگنل 1000 سے 10ہزار کلومیٹر تک سفر کرتا ہے۔ جبکہ یہ سینکڑوں میٹر تک پانی میں بھی داخل ہوجاتا ہے۔ اسی لئے روس امریکہ اور انڈیا اپنی آبدوزوں سے انتہائی نچلی فریکوئنسویوں پر رابطہ رکھتے ہیں۔

لیکن ان سگنلز کو ٹرانسمٹ کرنے کے لئے میلوں رقبے پر پھیلے بڑئے بڑئے اینٹیناز کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ جیسے جیسے فریکوئنسی ہائی ہوتی جاتی ہے۔ انٹینا کا سائز چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔سب سے ہائی فریکوئنسی ٹیرا ہرٹرز میں ہے۔ جو انفراریڈ ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ انٹینا سائز انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ فریکوئنسی جتنی بڑی ہوگی۔ اسکی رینج اتنی ہی کم ہوگی۔ ایک انسان20 ہرٹز سے 20 کلو ہرٹز تک کی فریکوئنسی سن سکتا ہے۔

اس سے کم کی فریکوئنسی سننے کے لئے کانوں کا سائز بڑا کرنا پڑئے گا جبکہ ہائی فریکوئنسی کی آواز کانوں کے پردئے پھاڑ دئے گی۔ہاتھی 14ہرٹز کی فریکونسی بھی سن سکتا ہے اسی لئے اسے باقی جانوروں سے پہلے بارش اور طوفان کی خبر ہوجاتی ہے۔کیونکہ 14 ہرٹز کا سگنل کافی کمزور ہوتا ہے جسے سننے کے لئے انٹینا بڑا ہونا چاہے چونکہ ہاتھی کے کان کافی بڑئے ہوتے ہیں اس لئے وہ آسانی سے سن لیتا ہے۔

دنیا میں چیونٹیوں کی 1200 سے زائد اقسام ہیں۔جبکہ مجموعی تعداد 15 ارب سے بھی زائد ہے۔امریکی ڈاکٹر رابرٹ ہکلنگ براون نے سالوں تک چیونٹیوں پر تحقیق میں گزارئے اور 2006 میں اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ چیونٹیاں سن بھی سکتی ہیں اور بول بھی۔

جبکہ قرآن مجید کی سورۃ نمل کی آئت نمبر 18 نے 1400 سال پہلے ہی اسکی تصدیق کردی تھی جس میں ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو جب کہا تھا کہ اپنی بلوں میں چھپ جاو ایسانہ ہوکہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

چیونٹی کی بولنے کی فریکوئنسی گیگا ہرٹز میں ہے۔اگر دنیا کی تمام چیونٹیاں بولیں اور انسانی کان اسکو سنیں تو کچھ سیکنڈ میں دنیا کے تمام انسانوں کے کان پھٹ جائیں گے۔فریکوئنسی یا ریڈیو اسپیکٹرم کو 12 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہیں فریکوئنسی بینڈز کہا جاتا ہے۔ بہت سارئے لوگ تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ساونڈ ویوز اور فریکوئنسی میں کیا فرق ہے؟ تو سادہ سا کلیہ ہے کہ ساونڈ ایک ویو جسے فی سیکنڈکے حساب سے ماپنے کا عمل فریکوئنسی یا تعدد کہلاتا ہے۔کسی بھی ریڈیو کے ذریعے جو لہریں بنتی ہیں انہیں ریڈیو ویوز یا الیکٹرو میگنیٹ ویوز بھی کہتے ہیں۔

انکو سب سے پہلے سکاٹ لینڈ کے ماہر ریاضیات جیمز کلارک میکسویل نے 1855میں دریافت کیا جبکہ 1862میں ساونڈ ویوز کی رفتار سپیڈ آف لائٹ کے برابر ہونیکا نظریہ بھی پیش کیا۔ 1886میں جرمن ماہر طبیعات ہینری روڈلف ہرٹز نے میکسویل کے نظرئے کو تجربات سے ثابت کیا جس نے ریڈیائی لہروں سے پیغام رسانی کے عمل کو جلابخشی۔

1930

میں عالمی کمیشن نے ہرٹز کی خدمات کے اعتراف میں فریکوئنسی کی پیمائش کی اکائی کو ہرٹز کا نام دیدیا۔1842میں ٹیلی گراف باقاعدہ فعال ہوئی تو پوری دنیا اسکو حاصل کرنے لئے دوڑ پڑی۔ 1865میں سوئٹزلینڈ کے شہر جنیوا میں انٹرنیشنل ٹیلی گراف یونین قائم ہوئی۔

جس نے ٹیلی گراف کے نظام کو دنیا بھر میں پھیلانے اور کنٹرول کرنے کے قوانین متعارف کروائے۔1895میں ریڈیو کی ایجاد نے ریڈیو ویوز کی ٹرم کو حقیقت میں بدل دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ریڈیو اسٹیشن کھلنا شروع ہوئے۔

تو ایک جیسی فریکوئنسی استعمال کرنے کے مسائل نے جنم لیا جسے ختم کرنے کے لئے انٹرنیشنل ٹیلی گراف یونین کو ٹیلی کمیونیکیشن یونین کا نام دیدیا گیا۔آج پوری دنیا میں جتنے بھی ریڈیو، ٹی وی چینلز یا موبائل سروسز ہیں ان سب کو یہی یونین فریکوئنسی الاٹ کرتی ہے۔

یہ یونین اس وقت 40 مختلف اقسام کی ریڈیو ویوز کو ہینڈل کررہی ہے۔جبکہ دنیا کا ہر ملک اسکاممبر ہے۔ دنیا کی سب پرانی فعال یونین ہے جو اقوام متحدہ کا ایک اہم ادارہ بن چکی ہے۔ جیسے فریکوئنسی سپکیٹرم کو ایک سے دوسرئے کمیونیکیشن سسٹم کو نقصان سے بچانے کے لئے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اسی طرح قدرت نے بھی ہر جاندار کو الگ الگ بولنے اور سننے کی فریکوئنسی عطا کی ہے۔

ایک سائنسی نظریہ ہے کہ جو بھی آوازپیدا ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں ہواوں کے دوش پر سفر کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات کے باعث کمزورضرو ہوتی جاتی ہے لیکن وجود کبھی ختم نہیں ہوتا۔ایسے میں یہ نظریہ خود بخود وجود میں آجاتا ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارک سے جو بھی الفاظ ادا ہوئے وہ یقینناآج بھی کہیں نہ کہیں ہواوں کے دوش پر محو سفر ہیں۔اللہ کرئے کہ کوئی مسلم سائنسدان اس نظرئے کی روشنی میں کسی دن رحمت دو جہاں کی آواز مبار ک کو تلاش کرلے۔

تحقیق اور نئے رحجانات میں دنیا کی اول نمبر ایری زونا نامی امریکی یونیورسٹی کے ماہرین ایک مخصوص انٹینا کے ذریعے دنیا کے سب سے پرانے سگنل کو ریسیو کرنیکا دعوی کرچکے ہیں جو 13.6ارب سال پرانا بتایا گیاہے۔یہ سگنل کائنات کے پہلے ستارئے کے وجود میں آنے سے متعلق ہے۔ جو کائنات کی تخلیق کے 800 ملین سال بعد نمودار ہوا۔ ناسا کی ہبل ٹیلی اسکوپ کو بگ بینگ کے دھماکے کے 400 ملین سال بعد تک کے حالات دیکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔

امریکی سائنسدان جون گریمر کا کہنا ہے کہ کائنا ت کی سب سے پہلی آواز تب پیدا ہوئی جب بگ بینگ کا دھماکہ ہوا۔اس نے اپنے آفس میں اس دھماکے کی آواز کو جب تجربات کی روشنی میں تخلیق کرکے چلایا تو کمرئے کی دیواریں تک لرز اٹھیں حالانکہ آواز کا ڈی بی لیول انسانی بصری رینج میں تھا۔اب تک دنیا کی سب سے بلند آواز کا لیول180ڈی بی ریکارڈکیاگیا ہے جو 1883 میں انڈونیشیا کے جزیرئے کراکتوا پر لاوا پھٹنے کی وجہ سے پیداہوئی۔ اس آواز کو 5000 کلومیٹر تک سنا گیا۔جبکہ وہیل مچھلیاں آپس میں لڑتی ہیں تو زیر آب ارتعاش کا لیول 188ڈی بی تک ماپا گیا ہے۔1860 میں سب سے پہلے فرانسیسی سائنسدانوں نے آواز کو ریکارڈ کیا۔ جبکہ1875 میں گراہم بیل نے آواز کو تار کے ذریعے ٹرانسمٹ کیا۔1900 میں امریکی سائنسدان اوبرئے فیسڈن نے اپنی ہی آواز کو50 فٹ کے فاصلے پر نصب دو ٹاورز کے مابین بغیر تار کے ٹرانسمٹ اور ریسیو کیا۔

آج اگر ایک انسان اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے تو اسکے ارد گرد 5 موبائل کمپنیوں، 15 سے زائد سیٹلائٹ اور12 سے زائد ریڈیو اسٹیشن کے سگنلز مختلف فریکوئنسیوں کی صورت میں موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک سمیت دوسری ماحولیاتی آوازیں اسکے علاوہ ہیں۔

باقی شہر جہاں شوروغل زیادہ ہے وہاں یہ تعداداور بھی زیادہ ہوگی۔اسلام آباد قدرئے خاموش شہر ہے اس لئے امیر لوگ یہاں رہنا پسند کرتے ہیں۔ انسانی کان صفر سے لیکر 85ڈی بی تک کی آواز سن سکتا ہے۔ایک نظریہ ہے کہ مردچونکہ عورت کی نسبت زیادہ عرصہ زیادہ آوازں میں رہتا ہے اس لئے اسکی بصری قوت عورت کی نسبت پہلے کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

ایک انسان کے بولنے کی فریکوئنسی 150 ہرٹز سے 8 کلو ہرٹز ہے۔ کانوں میں سرگوشی کی فریکوئنسی 120 سے 160 ہرٹز تک ہوتی ہے جبکہ 8 کلوہرٹز کی آواز 180 کلومیٹرکا فاصلہ طے کرتی ہے۔180 مربع میٹر میں ایک انسان بہت سارئے انسانوں سے مخاطب ہوسکتا ہے جسے براڈکاسٹ میتھڈ کہتے ہیں۔ایک انسانی کان ایک وقت میں 20 آوازوں تک ڈسٹرب نہیں ہوتا لیکن جب تعداد اس سے تجاوز کرتی ہے تو شور میں بدل جاتی ہے۔جبکہ ایک اسپیکر سے بھی 20مختلف آوازیں ٹرانسمٹ کی جاسکتی ہیں البتہ سب کی آواز کا لیول مختلف رکھنا پڑئے گا۔یہ بہت وسیع موضوع ہے۔ قید کرنا ناممکن ہے۔لہذا یہیں پر اختتام کیا جاتا ہے۔لیکن یہ اطمینان رکھئے کہ آپ تو مرجائیں گے لیکن آپکی آواز ہمیشہ کہیں نہ کہیں موجود رہے گی۔ حتی کہ وہا ں وہاں بھی جائے گی جہاں آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔۔۔۔

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: