والدین اور اولاد کے حقوق

‏والدین و اولاد کے حقوق

اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
1۔ بہترین نام رکھو۔
2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
“بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

کالم غلام رسول
‎@pak4army

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: