مجھے کمراٹ کیوں پسند ہے؟؟

مجھے اکثر لوگ کہتے ہیں جناب آپ کے آباؤ واجداد کا تعلق کمراٹ سے نہیں کوہستان سے ہے، پھر بھی آپ کمراٹ نامی جگہ سے محبت کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟

تو آج میں کمراٹ کے ساتھ تھوڑا اپنا تعلق بتانے لگا ہوں، دل تھام کہ پڑھئیے گا کیونکہ میرے الفاظ شائد آپ نہ پڑھ پائیں۔

یہ بات سن 80ء سے پہلے کی ہے جب میرے والد صاحب کوہستان میں رہتے تھے، وہ اکثر ہمیں خود پر گزرے حالات بتاتے رہتے، میرے والد صاحب کے مطابق کوہستان میں ہماری زمین نہیں تھی اور وہاں ذریعہ معاش اس وقت کھیتی باڑی کے علاوہ کوئی نہ تھا، کسی آدمی سے زمین تیسرے حصے پر لیتے اور اس میں چھ ماہ محنت کرتے، جس کے نتیجے میں بطور تیسرا حصہ جو تھوڑا کچھ اناج بچتا اس سے سال بھر گزارہ ہوتا تھا۔ مکئی اور گھی بطور کرنسی استعمال ہوتی تھی، کوئی امیر آدمی ہو تو اس کے پاس پیسے ہوتے تھے۔
باقی سال بھر بکریاں چراتے گزارہ ہوجاتا اور مکئی بھی نایاب تھی، وجہ یہ تھی کہ اس وقت مکئی کی جو فصل ہوا کرتی تھی اس کی پیداواری صلاحیت کم تھی۔

کپڑے اور دیگر ضروریات کیلئے پیدل سفر کرکہ کالام اور وہاں سے سوات جانا پڑتا تھا، انہی حالات سے تنگ آکر میرے والد صاحب اور چچا نے فیصلہ کیا کہ کوہستان چھوڑ دیتے ہیں تاکہ کم از کم پیٹ تو بھر سکیں۔

آبائی گاؤں چھوڑنا کافی مشکل فیصلہ تھا کئی سالوں سے وہ گاؤں چھوڑنا چاہتے تھے لیکن فیصلہ نہیں کرپا رہے تھے کہ پرائے علاقے میں جا کر رہیں گے کہاں اور ان لوگوں کا رویہ کیسا ہوگا؟ یہ وہ سوالات تھے جو انہیں پریشان کررہے تھے، والد صاحب کا سایہ بچپن میں چھن چکا تھا اور انتہائی نا موافق حالات میں انہوں نے عمر گزاری تھی، کتنی ہی راتیں بھوکی گزاریں اور عزت نفس کی وجہ سے مانگ بھی نہیں سکتے تھے، مکئی (جو کہ اس وقت کوہستان کی واحد غذاء تھی) کے دام زیادہ ہوا کرتے تھے ایک سیر گھی کے بدلے ہی پانچ کلو مکئی کا آٹا مل رہا تھا، اچھا کھانا کسی تہوار پر یا شادی وغیرہ میں ہی نصیب ہوتا تھا۔

مجھے کمراٹ اسلئے نہیں پسند کہ وہ ایک خوبصورت علاقہ ہے بلکہ وہ تو میرا گھر ہے جب ہمیں اپنے آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا تب کمراٹ میں ہی ہمیں سہارا ملا

ایسے حالات میں کوہستان چھوڑنے کا فیصلہ زیادہ مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے ان کی اولاد ایک بہتر زندگی گزار سکیں انہوں نے جو مشکلات جھیلیں وہ ان کی اولاد نہ جھیلیں، آخرکار فیصلہ ہوگیا اور وہ اپنوں اور اپنے وطن کو الوداع کہتے ہوئے دوسرے مسکن کی طرف نکل پڑے، اس حالت میں کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ جگہہ کیسی ہوگی لوگ کیسے ہوں گے وہاں رہیں گے کہاں لیکن بھوک اور پیاس کے سامنے یہ کچھ نہ تھا، کہیں محنت مزدوری کریں گے تین ٹائم کا کھانا تو ملے گا۔

خیر وہ اپنی منزل کی طرف نکل پڑے جو کہ ضلع اپر دیر کا ایک پرفضا مقام وادی کمراٹ تھا، اس وقت تک کمراٹ کو عام عوام میں مقبولیت نہیں تھی پورے ایریا کو ملی زے کے نام سے پہچانا جاتا تھا، تو ملی زے ان کی منزل تھی جیسے ہی وہ ملی زے (وادی کمراٹ) پہنچتے ہیں، لوگوں کا ردعمل نہایت ہی اعلی رہا انتہائی خوشدلی سے انہوں نے میرے والد اور چچا کا استقبال کیا گویا وہ ان کے بچھڑے ہوئے بھائی ہوں۔

پہلا امتحان پاس ہوچکا تھا لوگوں کے روئیے سے وہ خوش تھے، ان لوگوں نے فورا ہی دو گھر انہیں رہنے کیلئے دے دئے۔

اب اگلا امتحان کچھ کمانے کا تھا تو اس کا بھی بندوبست ہوگیا کچھ لوگوں نے اپنی زمین زراعت کے قابل بنانے کیلئے، ٹھیکے پہ انہیں دی اور معاہدہ کیا کہ ذراعت کے قابل ہونے کے بعد سات سال کی فصل آپ کی ہوگی بغیر کسی کرائے کے، اور وہیں سے حالت بدلنی شروع ہوگئی انہوں نے آلو کی فصل لگائی، میرے بڑے بھائی عمر میں چھوٹے ہونے کے ساتھ میرے والد کے ساتھ ملکر کام کرنے لگے۔ اس زمیندار نے انہیں گھر دیا اسی گھر میں میں نے اپنی زندگی کے سترہ سال گزارے۔
خیر آلو کی فصل بک گئی پہلے سال کی جو کمائی آئی وہ 12000 روپے تھی،اور یہ اس وقت کے حساب سے ہمارے لئے ایک بڑی رقم تھی۔
میرے والد صاحب کے مطابق ان کے آنکھوں میں آنسو آگئے،اچھے دن آنے کی امید اب پوری ہوچکی تھی، یوں سال گزرنے کے ساتھ مالی حالت بہتر ہوتی گئی۔

لیکن میرے والد صاحب رفتہ رفتہ بیمار ہونے لگے، میری پیدائش سے کچھ عرصہ بعد ان پر شدید قسم کا اٹیک آیا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مزید زندگی دینی تھی سو اللہ تعالی نے انہی بچالیا لیکن اب زمہ داری ساری میرے بڑے بھائی کے کندھوں پہ آئی تھی، میرے والد صاحب اب صرف فصل میں پانی لگانے میں ہی ان کی مدد کرسکتے تھے۔ میرے دو چھوٹے بھائیوں کی بھی پیدائش ہوئی جو الحمد للہ اب جوان ہیں اور بڑے بھائی کا ہاتھ بٹارہے ہیں۔

سال 2007 تھا میری عمر صرف آٹھ سال تھی والدہ کی فرمائش پہ مدرسے میں داخلہ لیا اور 12 سال بعد 2019 میں مدرسے کی تعلیم سے فراغت حاصل کی لیکن وہ دن میرے والد صاحب نہ دیکھ پائے کیونکہ وہ 26 فروری 2016 کو اس فانی دنیا کو خیرباد کہہ چکے تھے وہ دن میرے زندگی کا سب سے مشکل ترین دن تھا۔

وادی کمراٹ چھوڑنے کے کچھ عرصے بعد جب میں کمراٹ گیا تو گویا پہاڑ چٹانیں درخت اور میری چلی ہوئی جگہیں مجھے پہچان رہی ہوں اور شکایت بھرے نظروں سے گویا خوش آمدید کہہ رہی ہوں میری کیفیت اس وقت ایک وصال کیلئے تڑپتے عاشق کے سی تھی جب وہ محبوب سے ملاقات کررہا ہو ، میری آنکھیں اب مزید بوجھ برداشت کرنے سے قاصر تھیں


اب آتے ہیں پوائنٹ کی طرف کوہستان سے ہماری محبت فطری ہے وہ اپنی جگہہ لیکن اگر میرے والد صاحب کمراٹ ہجرت نہ کرتے تو شائد میں اس مقام پہ نہ ہوتا، پڑھائی لکھائی سے تو کوسوں دور شائد کہیں بکریاں چرا رہا ہوتا، کیونکہ کوہستان میں جو ہماری حالت تھی وہ میں بیان کرچکا ہوں اس حالت میں پڑھائی لکھائی ناممکن ہے۔
سو کمراٹ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے رزق میں اضافے کا سبب بنایا، ہماری تعلیم کا سبب بنایا اور ہمیں ایک پہچان دی، میں کیوں نہ اس سے محبت کروں، میں کیوں نہ اسکا پرچار کروں اور اس کی خوبصورتی کو پرموٹ کروں۔


اگر وہ دنیا کا بدصورت ترین مقام ہوتا تب بھی مجھے اس مقام سے محبت ہوتی پر اس کا تو دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، تو کیوں نہ اس کی پروموشن میں میں اپنا تھوڑا ہی صحیح لیکن کردار ادا کرتا ہوں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ میرے والد صاحب اور چچا جان کو کروٹ کروٹ نعمتوں راحتوں سے نوازے آمین

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: