قرآن کے سائنسی معجزات، قرآن و سائنس، اور بادلوں کی پیدائش, ‏پارٹ ۱۰

ڈسکرپشن:قرآن مجید میں 1400 سال قبل بیان بادل کی تشکیل کے بارے میں تفصیلات کو حال ہی میں سائنس نے جدید آلات اور سیٹلائیٹ سے دریافت نے کیا ہے۔

سائنسدانوں نے بادل کی اقسام کا مطالعہ کیا ہے اور انھیں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بارش بارش برسانے والے بادل ایک خاص نظام اور مخصوص اقسام کی ہوا اور بادلوں سے جڑے بعض اقدامات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں اور شکل اختیار کرتے ہیں۔

بارش کے بادل کی ایک قسم کملونمبس بادل ہے۔ ماہرین موسمیات نے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ کمولونمبس بادل کیسے بنتے ہیں اور بارش ، اولے ، اور آسمانی بجلی پیدا کرتے ہیں۔

١) ہوا بادلوں کو آگئے ہانکتی ہے: کمولونمبس بادل بننے لگتے ہیں جب ہوا بادلوں کے کچھ چھوٹے ٹکڑوں (کمولس بادلوں) کو کسی ایسے علاقے میں ہانک دیتی ہے جہاں یہ بادل متحد ہوجاتے ہیں۔ اس علاقے کو کنورژن زون کہتے ہیں

(تصاویر ١ اور ٢ دیکھیں)

تصویر١: سیٹلائٹ تصویر میں بادل اجماعی علاقے/کنورژن زون “بی” کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر میں موجود تیر ہوا کی سمت کی نشاندہی کررہے ہیں. (The Use of Satellite Pictures in Weather Analysis and Forecasting, Anderson and others, p. 188.)



تصویر٢: افق کے قریب کنورژن زون کی طرف بڑھتے ہوئے بادلوں کے چھوٹے ٹکڑے (کمولس بادل) ، جہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بڑا کمولونمبس بادل ہے۔(Clouds and Storms, Ludlam, plate 7.4.)

٢) اکھٹے ہونا : پھر چھوٹے بادل مل کر ایک بڑے بادل کی تشکیل کرتے ہیں[1] (تصویر ٣ میں اے اور بی دیکھیں)

تصویر ٣: (اے )الگ تھلگ بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے (کمولس بادل)
(بی) جب چھوٹے بادل اکٹھے ہوجائیں تو ، بڑے بادل میں “اپ ڈرافٹس”[7] بڑھ جاتے ہیں ، لہذا بادل ایک بڑے ڈھیر کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پانی کے قطرے اس کی نشاندہی کررہے ہیں
(The Atmosphere, Anthes and others, p. 269.)

٣) اسٹیکنگ: جب چھوٹے بادل اکٹھے ہوجائیں تو ، بڑے بادل میں اپ ڈرافٹس بڑھ جاتے ہیں۔ بادل کے مرکز کے قریب پاے جانے والے اپ ڈرافٹس(ہوا کا اوپر کی طرف بہاؤ) کناروں کے قریب پائے جانے والے اپ ڈرافٹس سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں[2].



یہ اپ ڈرافٹس بادل کے جسم کو عمودا بڑھنے کا باعث بنتے ہیں ، لہٰذا بادل ایک عمودی تہہ بر تہہ ڈھیر کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے(تصویر ٣ کا بی حصہ,تصویر ۴ اور ۵ دیکھیں)

اس عمودی نشوونما کے سبب بادل کا جسم فضا کے ٹھنڈے ریجنز میں بلند ہو جاتا ہے ، جہاں پانی اور اولے کے قطرے بنتے ہیں اور بڑے ہونے لگتے ہیں۔ جب اولوں اور پانی کے یہ قطرے بہت زیادہ بھاری ہوجاتے ہیں کہ اپ ڈیٹرافٹس ان کو فضا میں تھامنے سے قاصر ہو جائیں تو ، وہ بادل سے بارش ، اولے وغیرہ کی شکل میں گرنا شروع کردیتے ہیں۔[3]

تصویر ۴: ایک کمولونمبس بادل۔ بادل کے عموداَ ڈھیر نما تشکیل پانے کے بعد ، اس میں سے بارش آتی ہے۔(Weather and Climate, Bodin, p.123.)
تصویر ۵:ایک کمولونمبس بادل
(A Colour Guide to Clouds, Scorer and Wexler, p. 23.)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزۡجِیۡ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیۡنَہٗ ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ رُکَامًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ……

سورت 24 آیت 43

ترجمہ:کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتا ہے ، پھر ان کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے ، پھر انہیں تہہ بر تہہ گھٹا میں تبدیل کردیتا ہے ، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے برس رہی ہے……

ماہر موسمیات نے ابھی حال ہی میں جدید آلات جیسا کہ سیٹلائیٹس، کمپیوٹر، موسمی غبارے اور ہوائی جہاز وغیرہ کا استعمال کرکے بادل کی تشکیل ، ساخت اور فنکشن کی تفصیلات، ہوا اور اس کی سمت کا مطالعہ، نمی اور اس کی مختلف حالتوں کو ناپنا ، اور ماحولیاتی دباؤ کی سطح اور تغیرات کا تعین جیسی معلومات حاصل کی ہیں[4]۔

سابقہ ​​آیت ، بادلوں اور بارش کے ذکر کے بعد ، اولے اور آسمانی بجلی کے بارے میں بات کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ جِبَالٍ فِیۡہَا مِنۡۢ بَرَدٍ فَیُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَصۡرِفُہٗ عَنۡ مَّنۡ یَّشَآءُ ؕ یَکَادُ سَنَا بَرۡقِہٖ یَذۡہَبُ بِالۡاَبۡصَارِ 24:48

ترجمہ: ۔۔۔۔۔اور آسمان میں ( بادلوں کی شکل میں ) جو پہاڑ کے پہاڑ ہوتے ہیں ، اللہ ان سے اولے برساتا ہے ، پھر جس کے لیے چاہتا ہے ، ان کو مصیبت بنا دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے ، ان کا رخ پھیر دیتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بینائی اچک لے جائے گی۔

ماہرین موسمیات نے مطالعے کی بعد یہ معلوم کیا ہے کہ یہ کمولونمبس بادل ، جو اولے برساتے ہیں ، 25،000 سے 30،000 فٹ (4.7 سے 5.7 میل) کی اونچائی تک پہنچتے ہیں ، بلکل پہاڑوں کے جیسے ،جیسا کہ قرآن کریم کہتا ہے۔۔۔۔۔اور آسمان میں ( بادلوں کی شکل میں ) جو پہاڑ کے پہاڑ ہوتے ہیں ، اللہ ان سے اولے برساتا ہے،[5]۔۔۔۔”(اوپر موجود تصویر ۵ دیکھیں)

اس آیت سے ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ اس آیت میں اولے کے حوالے سے “اسکی بجلی” (ایسا لگتا ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بینائی اچک لے۔۔۔۔) کیوں کہا گیا ہے؟

آئیے دیکھتے ہیں کہ “موسمیات آج” کے عنوان سے کتاب اس کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

یہ کتاب کہتی ہے کہ بادل اس وقت الیکٹری فائی ہوجاتا ہے جب اولے بادل کے اس ریجن سے گزرتے ہوئے گرتے ہیں جو سپر کولڈ ڈراپلٹس اور برف کرسٹلز پر مشتمل ہوتا ہے۔

چونکہ مائع پانی کی ڈارپلٹس کسی اولے کے ٹکڑا کے ساتھ ٹکراتی ہیں ، وہ رابطے پر جم جاتے ہیں اور نتیجتاً حرارت چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے اردگرد کے برف کے کرسٹلز کی نسبت اولے کے ٹکرے کی سطح گرم رہتی ہے۔

جب اولے کا ٹکڑا آئس کرسٹل کے ساتھ رابطے میں آتا ہے تو ، ایک اہم واقعہ پیش آتا ہے: الیکٹران سرد جسم سے گرم جسم کی طرف بہہ جاتے ہیں۔لہذا ، اولوں کے ٹکڑوں پر منفی چارج پیدا ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح کا اثر اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب سپر کولڈ ڈارپلٹس مثبت چارچڈ اولے کے ٹکڑے اور برف کے چھوٹے چھوٹے ذرات کے ساتھ رابطے آتے ہیں۔ اس کے بعد ہلکے مثبت چارج والے ذرات اپ ڈرافٹس کے ذریعہ بادل کے اوپری حصے تک پہنچ جاتے ہیں اور اوپر کا حصہ مثبت طور پر چارجڈ ہو جاتا ہے۔

منفی چارج کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیئے ہوئے اولے کے ٹکڑے، بادل کے نیچے کی طرف آ جاتے ہیں ، اس طرح بادل کا نچلا حصہ منفی چارج ہوجاتا ہے۔

پھر یہ منفی طور چارچڈ پارٹیکلز بجلی کے چمکنے کے ڈسچارج ہو جاتے ہیں [6]۔

ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اولے آسمانی بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا عنصر ہیں۔

بجلی سے متعلق یہ معلومات حال ہی میں دریافت ہوئی ہیں جو کہ 1400 سال قبل قرآن مجید میں پہلے سے ہی بیان ہوچکی تھیں۔ تقریباً 1600 ء تک ، موسمیات کے بارے میں ارسطو کے نظریات غالب تھے۔ مثال کے طور پر ، اس نے کہا کہ ماحول دو قسم کے سانس ، نم اور خشک پر مشتمل ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ گرج ہمسایہ بادلوں کے ساتھ ماحولیاتی خشک سانس کے تصادم کی آواز ہے اور آسمانی بجلی دراصل ماحول کے خشک سانس کے جلنے کے نتیجے میں روشنی کی پیدائش سے نظر آتی ہے[7]۔

ہاشیہ

  1. See The Atmosphere, Anthes and others, pp. 268-269, and Elements of Meteorology , Miller and Thompson, p. 141.
  2. The updrafts near the center are stronger, because they are protected from the cooling effects by the outer portion of the cloud.
  3. See The Atmosphere , Anthes and others, p. 269, and Elements of Meteorology, Miller and Thompson, pp. 141-142.
  4. See Eejaz al-Quran al-Kareem fee Wasf Anwa al-Riyah, al-Sohob, al-Matar, Makky and others,p. 55.
  5. Elements of Meteorology, Miller and Thompson, p. 141.
  6. Meteorology Today, Ahrens, p. 437.
  7. The Works of Aristotle Translated intoEnglish: Meteorologica, vol. 3, Ross and others, pp 369a-369b.

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: