‏غار ثور میں مکڑی 700 سال سے آپ ﷺ کے دیدار کا انتظار کر رہی تھی

 غار ثور وہ مقدس غار ہے جہاں مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق خاص حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوقت ہجرت تین رات قیام پذیر رہے۔ جبل ثور مکہ مکرمہ کی دائیں جانب کم و بیش چار کلومیٹر پر واقع ہے۔ جبل ثور پر چار غار ہیں جن میں سے تیسرا غار ثور ہے دو نیچے اور ایک اس سے اوپر ہے۔

اس غار کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے اندر جو کوئی بھی اونچی آواز میں بات کرتاہے تو باہر آواز قطعی نہیں آتی اور جو کوئی غار کے باہر آہستہ بات بھی کرے تو غار کے اندر بہت تیز آواز آجاتی ہے۔پیارے آقا مصطفیٰ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شب ہجرت اس غار میں تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اس پہاڑ کی بلندی کو طے کیا تاکہ اگر تعاقب میں آنے والے مشرکین پیروں کے نشانات دیکھیں تو انہیں ادراک ہوکہ دو افراد نہیں بلکہ ایک ہی شخص کے پیروں کے نشان ہیں۔جبل ثور کے انتہائی بلندی کے دوسری جانب کچھ نشیب اور پھر بلندی پر ڈھلوان کی جانب غارِ ثور واقع ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، اپنے آقا، دوعالم کے والی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر غار ثور تک گئے۔ یاد رکھیے! شب ہجرت ۲۸ یا ۲۹ صفرتھی جس میں چاند غروب ہوتا ہے۔ جبل ثور مکمل تاریکی میں تھا اور اس پر سنگریزے بہت تھے اوپر جانے کا راستہ نہیں تھا اس لیے کہ یہ تقریباً تیرہ ہزار فٹ بلند ہے یعنی اس بلندی کو سطح زمین پر دیکھیں تو یہ فاصلہ تقریباً ڈھائی میل پیمائش ہوگا۔ اتنی بلندی پر عام طور پر اہل عرب گریز کرتے تھے اس لیے راستہ دشوار گزار تھا بمقابلہ جبل نور جہاں غار حرا واقع ہے وہاں لوگوں کے جاتے جاتے ایک پگڈنڈی سی وجود میں آگئی تھی

اور جانا آسان ہوگیا تھالیکن جبل ثور پر چڑھنا آسان نہ تھا جبکہ ایسی صورت میں کہ رات کا اندھیرا ہو، ننگے پیر ہوں، سنگریزے ہوں، صرف پنجوں کے بل چلنا ہو اور سارے جہاں کا بار لیے ہوئے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کندھوں پر ہوں اور یہ کندھے سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہوں سبحان اللہ …سوائے سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کسی کے بس کی بات نہیں۔ غار کے دہانے پر پہنچ کر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ یہاں ٹھہرئیے میں پہلے اندر جاتا ہوں اور غار کی صفائی کرتا ہوں تاکہ کوئی کیڑا یا جانور آپ کو نقصان نہ پہنچادے۔ غار میں متعدد سوراخ تھے اپنی چادر سے ٹکڑے بنا بنا کر تمام سوراخ بند کردیے۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا اور موجودکپڑا ختم ہوگیا، حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ پر اپنے پاؤں کی ایڑی رکھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ادب سے اندر تشریف لانے کو کہا۔ سرکار نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام غار میں تشریف لے گئے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زانوؤں پر سر رکھ کر آرام فرما ہوئے۔ اسی غار میں وہ سانپ برسہا برس سے جمال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کا خواہش من تھا،

سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غار میں تشریف فرما ہونے پر غار منور ہوگیا، شب کی تاریکی اور تیرگی محبوب خدا کی نورانیت کے صدقے دور ہوگئی غار ثور نبوت سے منور اور ریحان رسالت سے معطر ہوگیا۔ سانپ نے جان لیا کہ قسمت یاوری کرگئی ہے اور یقینا آج کی شب اس غار میں نبی آخر الزماں کی جلوہ گری ہوگئی ہے چنانچہ اُس نے آنا چاہا تو سوراخ بند تھا یعنی کپڑا لگا ہوا تھا ایک ایک کرکے تمام سوراخوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن ممکن نہ ہوسکا تو پھر اُسے جب ایک سوراخ پر کپڑے کے بجائے گوشت پوست کی کوئی چیز یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایڑی محسوس ہوئی تو اس نے اپنی فطرت کے مطابق ان کی ایڑی پر کاٹا یعنی ڈسا، تاکہ باہر نکلنے کا راستہ بنے۔ وہ سانپ صحرائے سیناکا رہنے والا تھا انتہائی زہریلا تھا یہاں مکہ میں بھی اُسے رہتے ہوئے دوہزار برس ہوگئے تھے اور مکہ کی شدید گرمی اور پہاڑ کی حدت میں زہر کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو فورا پیر ہٹا لیتا، لیکن یہ یار غار ہیں اور جاں نثار ہیں، شدید تکلیف ہورہی ہے، زہر جسم میں سرایت کررہا ہے لیکن استقامت کے پیکر بنے اپنی ایڑی سے سوراخ بند کیا ہوا ہے۔ شدت تکلیف سے آنکھوں میں آنسو آگئے اور دوجہاں مالک کون ومکاں صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا چہرۂ اقدس پر آنسو گرے۔

تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خوابیدہ چشمان مقدس کھولیں اور حضرت ابوبکرسے دریافت فرمایا! کیا بات ہے ؟ انہوں نے سارا ماجرا عرض کیا کہ ایڑی میں کسی زہریلی شئے نے کاٹا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! اپنی ایڑی سوراخ سے ہٹاؤ۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوراخ سے ایڑی ہٹائی تو وہ سانپ باہر آیا اور ادب سے ’’السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ کہا ! اور صدیوں پر پھیلی اپنے اشتیاق ومحبت کی داستان عرض کی۔ یہاں ایک بات وجدانِ محبت کی یہ عرض کرنا چاہتا ہوں روایت اور کتاب سے اس کا تعلق نہیں بلکہ محبت کی بات ہے، سانپ نے شاید یہ عرض بھی کیا ہو کہ میں آپ کے ساتھی کو ڈسنے کا سبب بنا ہوں، مقصد زیارت تھا، اب جبکہ زیارت ہوگئی اور میں تو کئی ہزار برس زندگی گذار چکا ہوں تو میں اپنے ہی زہر کو چوس کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی کی تکلیف کو دور کردیتا ہوں لیکن اس کے نتیجے میں سانپ کی موت واقع ہوجاتی لہٰذا ہمارا وجدانِ ایمان کہتا ہے کہ میرے سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ گوارا نہیں فرمایا ہوگا۔ کہ میری بارگاہ میں سلام عرض کرنے جو آئے تو جواب میں اُسے سلامتی ہی ملے گی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے منع فرمادیا ہوگا کہ اے سانپ! تجھے زہر تقسیم کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے زہر واپس لینے کی قوت نہیں بخشی۔ جبکہ میرے خالق ومالک، رب ذوالجلال نے مجھے راحت، نعمت، شفا اور صحت بخشنے کی قوت عطا فرمائی ہے۔ میں مصیبت دور کرکے مسرت وفرحت عطا کرتا ہوں،

چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سلامتی سانپ کو بھی عطا کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایڑی کے زخم پر اپنا لعاب دھن لگادیا، جس کے نتیجے میں سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو صحت وراحت نصیب ہوئی۔

ایک مرتبہ رحمۃاللعالمین نے مدینۃ المنورہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ’’میرے ابوبکر سے نہ الجھا کرو یہ تو وہ ہے جس نے مکہ میں مجھ پر دو مرتبہ جان قربان کی ہے۔ ایک مرتبہ بیت اللہ شریف کے صحن یعنی مطاف میں اور دوسری مرتبہ غار ثور میں‘‘۔غار ثور میں سرور عالم، نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے دومعجزے ظاہر ہوئے اور غار ثور کے باہر دروازے پر بھی دو معجزے ظاہر ہوئے۔ مشرکین مکہ تعاقب وتلاش میں جبل ثور کے دامن تک آئے پھر یقین وبے یقینی کی کشمکش میں پہاڑ کے اوپر مختلف غاروں میں تلاش کرتے رہے جبل ثور پر کئی غار واقع تھے۔ یہاں تک وہ غار ثور کے دھانے پر بھی آئے۔

روایت میں آتا ہے کہ غارِ ثور کے دھانے پر جو کبوتری کے انڈے تھے ان انڈوں سے کبوتروں کی جو نسل جاری ہے وہ آج بھی کثرت سے مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ میں موجود ہیں۔

تحریر محمد اسماعیل رونجھو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: