قرآن کے سائنسی معجزات پارٹ ۱۱, قرآن مجید، رومیوں کی فتح اور زمین کا سب سے نچلا مقام

ساتویں صدی کے اوائل میں ، اس وقت کی دو سب سے طاقتور سلطنتیں بازنطینی اور فارسی سلطنتیں تھیں۔

سن 613-614عیسوی میں [1]، دونوں سلطنتوں کے درمیان جنگ لڑی گئی ، جس میں بازنطینیوں کو فارسیوں کے ہاتھوں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دمشق اور یروشلم دونوں سلطنت فارس کے قبضے میں آگئے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ اس واقعے کا تذکرہ سورت روم میں فرماتا ہے کہ بازنطینیوں نے ایک بہت بڑی شکست کھائی تھی ، لیکن انکی طرف سے جلد ہی فتح حاصل کرلی جائے گی۔

غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾

رومی لوگ قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ،

فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے ۔

فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

چند ہی سالوں میں ! سارا اختیار اللہ ہی کا ہے ، پہلے بھی اور بعد میں بھی ۔ اور اس دن ایمان والے اللہ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے

سورت روم آیت 2 تا 4

مذکورہ بالا آیات 620 کے لگ بھگ نازل ہوئی تھیں ، مشرکین پارسیوں کے ہاتھوں عیسائی بازنطینیوں کی شدید شکست کے تقریبا 7 سال بعد۔ اس بری طرح کی شکست کے باوجود بھی ان آیات کی یہ پیشنگوئی تھی کہ بازنطینی جلد ہی فاتح ہوجائیں گی۔

در حقیقت ، بازنطینیوں کو اس قدر بھاری شکست ہوئی تھی کہ ایک نئی جنگ میں فتح حاصل کرنا درکنار ، اس سلطنت کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی ناممکن لگتا تھا۔

بازنطینی سلطنت کی اس جنگ کے بعد یہ حالت تھی کہ نہ صرف فارسی ، بلکہ قفقازی آوار، سلاوی اور لمبرڈس (بازنطینی سلطنت کے شمال اور مغرب میں واقع اقوام) بھی بازنطینی سلطنت کی خودمختاری کے لئے شدید خطرہ پیدا کررہے تھے۔ اور یہاں تک کہ آواری فوجیں قسطنطنیہ کی دیواروں تک آ پہنچیں اور خود شہنشاہ کو بھی قید کرنے کے قریب تھے۔

بہت سے گورنروں اور درباریوں نے شہنشاہ ہرقل کے خلاف بغاوت کردی، اور سلطنت تباہی کے مقام پر پہنچ چکی تھی۔



میسوپوٹیمیا ، شام ، فلسطین ، مصر اور آرمینیا ، جو پہلے بازنطینی سلطنت کا حصہ تھے ، پر فارس نے حملہ کیا اور ان پر قبضے شروع کردیے۔

مختصرا ، ہر ایک توقع کر رہا تھا کہ بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہوجائے گا ، لیکن اسی وقت سورت روم کی پہلی 4 آیات کا نزول ہوا جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بازنطینی سلطنت چند سالوں میں فتح حاصل کرلے گی۔ اس انکشاف کے فورا بعد ہی ، بازنطینی شہنشاہ نے گرجا گھروں میں موجود سونے چاندی کو پگھلانے اور رقم میں بدلنے کا حکم دے دیا تاکہ دونوں فوجیوں کی تنخواہیں اور جنگی ساز و سامان کی تیاری کے اخراجات کو پورا کیا جاسکے ، اور کھوئے ہوئے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اپنی مہم کی مالی معاونت بھی کی جاسکے۔

آخر کار سورت روم کی پہلی آیات کے نزول کے تقریبا 7 سال بعد ، دسمبر ، 627 عیسوی میں ، بحر مردار کے آس پاس کے علاقے میں بازنطینی سلطنت اور فارس سلطنت کے مابین فیصلہ کن جنگ لڑی گئی[2] اور اس بار یہ بازنطینی فوج تھی جس نے حیرت انگیز طور پر فارسیوں کو شکست دی۔ کچھ ماہ بعد ، فارسیوں کو بازنطینیوں کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت وہ ان علاقوں کو واپس کرنے پر مجبور ہوئے جو انہوں نے بازنطینیوں سے چھینے تھے۔ چنانچہ ، آخر کار ، رومیوں کی فتح مکمل ہوئی جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں معجزانہ طور پر اعلان پہلے ہی کر دیا تھا۔

مذکورہ آیات میں نازل کردہ ایک اور معجزہ ایک جغرافیائی حقیقت کا اعلان ہے کہ جس کے متعلق اس دور میں کوئی بھی دریافت نہیں کرسکتا تھا۔

سورت روم کی آیت نمبر تین میں ارشاد کے کہ “وہ پاس کی زمین میں (فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ) اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے”۔

لیکن اگر ہم فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ کا اصل معنی نکالیں تو اس مطلب بنتا ہے “نچلی زمین میں”۔

اہم بات یہ ہے کہ جن جگہوں پر رومیوں اور فارسیوں کی مرکزی لڑائیاں ہوئی تھیں (دمشق اور یروشلم میں) وہ جگہیں “دی گریٹ رفٹ ویلی” کہلانے والے نشیبی ریجنز کے وسیع و عریض علاقے میں واقع ہیں۔



گریٹ رفٹ ویلی زمین کی پرت میں تقریباً 7000 کلومیٹر کی خطیر لائن ہے جو وسطی ایشیاء میں شمالی شام سے مشرقی افریقہ میں وسطی موزمبیق تک پھیلی ہوئی ہے۔

شمالی توسیع شام ، لبنان ، فلسطین اور اردن سے ہوتی ہوئی، اس کے بعد یہ عظیم رفٹ خلیج عدن تک جنوب میں پھیلا ہوئی ہے ،اس کے بعد یہ مشرقی افریقہ سے ہوتی ہوئی آخر کار موزمبیق میں موجود دریائے زیمبیزی کی وادی میں ختم ہوتی ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت جو حال ہی میں مصنوعی سیارہ کی تصاویر کی مدد سے دریافت کی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ بحیرہ مردار کے ارد گرد کے علاقے (وادی عظیم رفٹ میں واقع) زمین کی سب سے کم اونچائی رکھنے والے یا دوسرے لفظوں میں سب سے نچلی سطح (فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ) والے علاقوں میں سے ایک ہیں۔

در حقیقت ، زمین پر سب سے کم اونچا علاقہ بحیرہ مردار کی ساحل کا ہے ، جس کی بلندی سطح سمندر سے 400 میٹر نیچے ہے[3]۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتہائی نچلے حصے پر ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بحر مردار کا پانی اس بحر/سمندر سے نہیں نکلتا۔ زمین کا کوئی بھی علاقہ ایسا موجود نہیں کہ جو بحر مردار کی طرح سطح سمندر سے اتنا نیچے ہو[4]۔

بحر مردار رفٹ ویلی ، مقبوضہ فلسطین(اسرائیل) اور اردن, اکتوبر 1984۔ اس قریب ترین عمودی تصویر میں 350 کلومیٹر کی اونچائی سے دیکھا گیا ہے،بحیرہ مردار رفٹ ویلی جنوب مشرق کو مشرق وسطی سے الگ کررہی ہے۔ بحیرہ مردار، سطح سمندر سے 1292 فٹ (394 میٹر) نیچے ہونے کی وجہ سے ، خشکی کا سب سے گہرا مقام ہے۔
(Courtesy: The Image Science & Analysis Laboratory, NASA Johnson Space Center, Photo #: STS41G-120-56, http://eol.jsc.nasa.gov)

لہذا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں سورت روم[5] میں آیت تین میں جو ارشاد ہے کہ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ

نچلی (کم اونچائی والی) زمین میں اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے ۔

اور اس طرح سے فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ کے معنی کا بحر مردار کے خدو خال پر پورا اترانا اور

اس آیت کے نزول کے بعد بحر مردار میں ہی رومی بازنطینیوں کی

فیصلہ کن لڑائیوں میں فتح حاصل کرنا، بے شک قرآن مجید کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔



بحر مردار کے خدو خال کے متعلق بغیر جدید سٹیلائٹس کی مدد کے،آج سے 14 سو سال قبل یہ حقائق دریافت کرنا بلکل ناممکن تھا۔ بے شک ان حقائق کو اس وقت وہی بیان کرسکتا تھا جو ان کا خالق ہو یا پھر وہ جس کو اس خالق نے اپنی طرف علم عطاء کیا ہو۔

ہاشیہ

  1. The Arabs also refer to the Byzantines as the Romans.
  2. The History of Persia Part I: Ancient Persia by Scott Peoples
  3. http://hypertextbook.com/facts/2000/SanjeevMenon.shtml
  4. http://www.elnaggarzr.com/index.php?l=ar&id=51&cat=6
  5. سورت روم کی ان آیات کی مزید مختصر تفسیر الگ موضوع کے ساتھ جلد پوسٹ کی جائے گی

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: