پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی کے فروغ کی گھٹیا کوششیں | محمد حارث ملک

‏عنوان: پاکستانی معاشرہ میں ہم جنس پرستی کی گھٹیا کوششیں
نام: Muhammad Haris MalikZada
ٹویٹر ہینڈل: ‎@HarisMalikzada
آرٹیکل: “اور اللہ نے ان سے تمہاری شریک حیات(عورت) کو پیدا کیا ، ان کے ذریعے اس نے زمین کو کئی مردوں اور عورتوں کے ساتھ آباد کیا۔(سورة النساء -١ )”
ہم جنس پرستی (ایل جی بی ٹی) بھی کہا جاتا ہے کہ جس کا مطلب ایک جیسے جنس مراد ، مرد مرد اور عورت عورت کا جوڑا ہے۔جس کی مثال تو اسلامی تاریخ سے ملتی ہے جبکہ اس کے بعد تقریبا ہم جنس پرستی کا خاتمہ ہوچکا تھالیکن پچھلے 50 سالوں میں نظر دوڑائے تویہ مغربی معاشرہ میں اُبھر رہی ہے، وہاں اس کو کافی پسند کیا جاتاہےاور عمل بھی ہورہاہے،جوکہ اللہ تعالیٰ کے نظام سے بلکل الٹ/ متضاد ہے،اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانی زندگی کا آغاز مرد و عورت کے جوڑے مطلب حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ سے کیا ہے۔
وہ (میاں)تمہارے(بیوی) لئے لباس ہیں اور تم (بیوی)ان(میاں) کے لئے لباس ہو (سورت البقرہ:187)
ہم جنس پرستی کو بھی خواجہ سراء کی طرح حقیقی دنیا کے نظام سے الگ ایک قدرتی لحاظ سے کمیونٹی تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب اسے دنیا میں اس وقت حقیقت بناکر انسانی حقوق کے طور پر اس کی حوصلہ افزائی سے پھلایا جارہاہے کہ اس کو محفوظ کرنے کے لیے شادیوں کا نام دےکر ہم جنس پرستی کی بنیاد پر چوڑے تشکیل دیئے جارہے ہیں، جو کہ مغربی معاشرہ کی زینت ہوسکتی ہیں، لیکن یہ اسلامی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ تباہی کا ذریعہ ہے۔
اگر مسلمان ہم جنس پرستی سے متعلق تاریخ سے کچھ جاننایا سیکھنا چاہتے ہیں تو”قومِ لوط” کے اجتماعی اعمال اور انجام کے بارے میں آگاہ ہوکر عبرت حاصل کرسکتے ہیں، حضرت لوطؑ کے تبلیغ اور کوشش کے باوجود ان کی قوم اس سے باز نہیں رہی اور یہ بے حیائی اتنی عام ہو گی تھی کے وہ اپنے اس برے کام کو برا نہیں سمجھتےتھے، وہ اس پر فخر کرتے تھےبلکہ ان کو بستی سے بے دخل کردیا ، لیکن اس کے بدلہ میں اللہ پاک قوم نے لوط کو پتھروں کی بارش سے ہلاک کردیا،

اسی لیے ہمیں اس انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے، اس نظام کو امت مسلمہ میں پھلنے سے بچاناہوگا، تاکہ امت تباہی اور اللہ پاک کی ناراضگی سے بچائے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جانوروں کو جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ہے ، جیسے نر اور مادہ ، انسانو ں میں مرد اور عورت تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ پاگیزگی اور سکون کے ساتھ رہےاور حیادار معاشرہ کوپروان چڑھائیں۔اللہ تعالی نے اسلامی معاشرہ میں ماں باپ، میاں بیوی ، بیٹا، بیٹی، بہن بھائی، نانانانی، دادادادی، وغیرہ جیسے پاک ، خوبصورت، بےتکلف، عزت احترام، پیار شفقت پیار والے رشتہ قائم کیے۔
احادیث کے مطابق اسلام میں ہم جنس پرستی چاہے مرد کی یا عورت کی مکمل حرام اور ناجائز ہے بلکہ اس کی سخت گرفت کرتے ہوئے سخت سزاؤں کا حکم دیا ہے
ہم جنس پرستی کی سزائیں:
“حدیث میں حکم ہے جو کوئی بھی مرد عورت ہم جنس پرستی کا مرتکب قرار پائے تو دونوں کو قانونی طور پر قتل یا سنگسار کردو “
“رسول پاکﷺنے فرمایا کہ جس کا مفہوم ہے کہ جوکوئی بھی قوم لوط والا عمل کرے گاوہ ملعون ہےمطلب اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے”
“ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایاجس کا مفہوم ہے کہ جو کوئی بھی مرد عورت ہم جنس پرستی یا قوم لوط والا عمل کرے گا قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر بھی نہیں فرمائے گے۔”

دنیا میں اس وقت ہم جنس پرستی کی بنیاد پر نام نہاد شادی اب تقریبا 30 ممالک میں قانونی ہے۔
اس بےحیائی اور گھٹیا نظام کو پاکستانی معاشرہ میں سپورٹ اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، پاکستان حاصل کرنے کا مقصد اسلامی قوانین کے مطابق زندگی گزاری جائے، پاکستان میں اسلامی معاشرہ میاں بیوی کے جوڑا سے شروع ہوا ہےلیکن پچھلے دو تین سالوں سے مغربی کلچر و معاشرہ سے متاثر ہوکر چند لبرلز اور فیمنسٹ حقوق نسواں کو ڈھال بنا کر عورت مارچ کے ذریعے ملک میں تمام گندی ذہنیت کے لوگوں کو اکھٹا کر کے گندے اور بے حیائی نعروں اور سلوگن کے ساتھ پاکستان میں مردو عورت ہم جنس پرستی کو پھلا رہے ہیں۔ پاکستان میں ملکی و غیر ملکی این جی اوز(NGOs) ،نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کی عالیہ بخشل، ماروی سرمد، ملالہ یوسف زئی،ملتان سے عائشہ نذئر،اسلام آباد سے طوبہ سید،نگہت داد،عمیرہ علوی ،رباب زہرہ،زینب نجیب،منیزہ احمد،عاصم سجاداختر وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان میں کچھ ادکار و ادکارہ بھی ہم جنس پرستی کو فخریہ انداز میں سپورٹ کرتے ہیں ، جن میں نادیہ حسین، مہر بانو، ایمان مزاری، وینا ملک ،عثمان بٹ، مائرہ خان، شرمین عبید ، علی گل پیر،صوفیا جمیل وغیرہ۔

بدقسمتی سے پاکستانی سیاست و صحافت سے لوگ مثلا فرحت اللہ بابر ،بختاور بھٹو، شرمیلا فاروقی ، حنا پرویز بٹ،مہمل سرفراز، حامد میر ۔
پاکستان پینل کوڈ کے تحت ہم جنس پرستی کا تعلق غیر قانونی و پابندی ہےاور کہا گیا ہے ،جو بھی مرد ، عورت فطرت کے حکم کے خلاف ہم جنس پرستی اختیار کرے گا، اسے عمر قید کی سزا دی جائے گی ،پاکستان کے مذہبی رہنماؤں نے ایل جی بی ٹی ہم جنس پرستی کو اسلام کے آئین کے تحت غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
ایک مسلمان اور جدید اسلامی ماحول میں تربیت حاصل کرنے کی وجہ سے ہم جنس پرستی سے متعلق اللہ تعالیٰ اور رسول پاکﷺ کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہوئے پاکستان حکومت، علماء اکرام ، عدالتوں، ہر متعلقہ ادارہ سے مطالبہ ہے کہ پاکستان میں ہم جنس پرستی کی لعنت کے حق میں بڑھتی کوششوں کو عام نہ سمجھائے ، کہی پانی سر سے گزر نہ جائے، اس پر خصوصی توجہ دی جائے ، تاکہ پاک اسلامی معاشرہ اس لعنت اور بے حیائی سے بچ جائے اور اس کوشش والے تمام کارکنوں کا سر کچلا جائے۔
اورمیں ذاتی طور پر میرے نزدیک یہ دنیا کا سب سے بڑا گھٹیا ، غلیظ اور گندا کام یا تعلق ہے، میرے دل و دماغ میں ہم جنس پرستی سے متعلق شدید نفرت و غصہ اور تشویش ہے، یہ کوئی انسانی حقوق نہیں ہے،نام نہاد انسانی حقوق کے جھنڈے تلے پناہ دی ہوئی ہے، لیکن یہ صرف امت مسلمہ کی تباہی کا ایک راستہ ہے، خداراہ اس طرف توجہ دی جائے ، اس پر مکمل گرفت کرکے پابندی عائد اور سزائیں نافذ کی جائیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہم جنس پرستی اور بے حیائی سے پناہ دیں، آمین!
عورت مارچ والوں کا ایک چھوٹا سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ لبرلز عورت کی آزادی کی مانگ کرتے ہیں جبکہ زمانہ جہالت میں اسلام کے پھیلاؤ سے پہلے عورتوں کو زندہ دفن کردیتے تھے لیکن عورت کوسب سے بڑی آزادی صرف اسلام نے دی ہے، نہیں تو رہتی دنیاتک عورتوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفناتے ہی رہے ۔

@malikharisrwp

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: