پاک فوج اور قائدانہ صلاحیتیں | حبیب الرحمان خان

تحریر:حبیب الرحمٰن خان
عنوان:پاک فوج اور قائدانہ صلاحیتیں

ہم کچھ زیادہ ہی جذباتی قوم ہیں معاملات کو سمجھے بغیر دوڑ لگا دیتے ہیں جیسا کہ جب جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے سے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد مزید شعبوں کو بھی اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لیے جانب منزل رواں دواں ہوۓ تو ہم نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ انھیں واپس ڈی جی آئی ایس پی آر ہی لگایا جاۓ اس میں کوہی شبہ نہیں کہ محترم آصف غفور برکاتہ جواب دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور الفاظ کا چناؤ ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
پاک فوج کے عملی اقدامات کو الفاظ میں ایسے بیان کرتے کہ گویا ابھی انھی کے ہاتھوں یہ واقعہ ہوا ہے اور ہم اس واقعے کو اصلی حالت میں دیکھ رہے ہیں
ان کے بعد محترم جنرل بابر افتخار آۓ ہیں جو کم گو ہیں نپی تلی بات کرتے ہیں
تجسس بھی باقی رہتا ہے
اسی طرح جب جنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی آہۓ تو ہمارے جذبات بام عروج پر تھے
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر کوہی جنرل ایک لمبے عرصے تک ایک ہی عہدے پر براجمان رہے گا تو دشمنوں میں یہ تاثر جاۓ گا کہ شاید پاک فوج کے پاس بہترین ذہنوں کی کمی ہے اور شاید ہو سکتا ہے کہ اسی بات کو لے کر ہمارا مذاق اڑایا جاۓ مزید برآں یہ کہ متعلقہ شخصیت دوسرے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار نہیں لا سکے گی اور پاک فوج ایک عظیم باصلاحیت شخصیت سے استفادہ نہ کر سکے گی
ابھی نئے ڈی جی آئی ایس آئی محترم ندیم انجم آۓ ہیں جو اس سے پہلے کور کمانڈر کراچی رہ چکے ہیں اور بلوچستان میں تو انکل سام اور اس کے حواریوں کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں ۔ انتہائی باصلاحیت اور قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والے جنرل ہیں اور ہمیں ان سے بھی بہت ساری توقعات ہیں
چونکہ پاک فوج میں تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے تو امید کرتے ہیں کہ محترم آصف غفور بھی جلد ہی بطور کور کمانڈر تعینات ہو جاہیں گے
میری فوج کا ہر جوان اپنے اندر ایک باوقار محافظ ایک بہترین پاکستانی کے جذبات رکھتا ہےاور مملکت خداداد کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے
میری فوج میری جان
پاکستان پائندہ باد
پاک فوج زندہ باد

حبیب_خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: