فضائل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ احادیث کی روشنی میں | تعریف اللہ

‏حضرت ابوبکر رضی اللہ عنه کی فضائل احادیث کی روشنی میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضى الله عنهم.
ترجمہ:ہم سے عبدالعز یز بن عبداللہ نے بیان کیا ہم سے سلیمان نے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے زمانے ہی میں ابو بکرؓ کو افضل سمجھتے پھر عمرؓ کو پھر عثمانؓ کو ۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ” وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ، أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي
ترجمہ:ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیاہم سے وہیب نے کہا ہم سے ایوب نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا اگر میں اللہ کے سوا کسی کو جانی دوست بنانے والا ہوتا تو ابو بکرؓ کو بناتا لیکن ( وہ میرے دینی) بھائی اور دوست ہیں ۔

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ. قَالَتْ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَقُولُ الْمَوْتَ. قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ” إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ “.
ترجمہ:ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی اور محمد بن عبید اللہ نے بیان کیا دو نوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا انہوں نے اپنے باپ سے کہا انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے انہوں نے کہا ایک عورت (نام نا معلوم ) نبیﷺ کے پاس آئی آپ نے فر مایا پھر آئیو۔ اس نے کہا بتلائیے اگر میں آؤں اور آپ نہ ملیں ( آپ کی وفات ہو جائے ) آپ نے فرمایا ( اگر میں نہ ہوں تو ) ابو بکرؓ کے پاس آنا۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا مَعَهُ إِلاَّ خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ

ترجمہ:ہم سے احمد بن ابی الطیب نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن مجالد نے کہا ہم سے بیان بن بشر نےانہوں نے وبرہ بن عبدالر حمٰن سے انہوں نے ہمام سے انہوں نے کہا ہم نے عمار بن یا سر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ کے ساتھ (یعنی مسلمان کوئی نہ تھا مگر پانچ غلام دو عورتیں اور ابو بکرؓ ۔

حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” أَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ “. فَسَلَّمَ، وَقَالَ إِنِّي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَىْءٌ فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ نَدِمْتُ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي فَأَبَى عَلَىَّ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ فَقَالَ ” يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ “. ثَلاَثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَ أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ فَقَالُوا لاَ. فَأَتَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ أَنَا كُنْتُ أَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ. وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي “. مَرَّتَيْنِ فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا.
ترجمہ:ہم سے ہشام بن عمارنے بیان کیا کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے کہا ہم سے زید بن واقد نے انہوں نے بسر بن عبید اللہ سے انہوں نے ابو ادریس عائد اللہ سے انہوں نے ابو درداء سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ابو بکرؓ آئے کپڑوں کا کونہ اٹھائے اپنے گھٹنے کھولے نبیﷺ نے فر مایا تمہارے صاحب ( یعنی ابو بکرؓ ) کسی سے لڑ کر آئے ہیں انہوں نے سلام کیا نبیﷺ کو اور بیٹھے پھر کہنے لگا مجھ میں اور خطاب کے بیٹے(یعنی حضرت عمرؓ ) میں کچھ تکرار ہو گئی تھی ۔

میں نے جلدی سے ان کو سست کہہ دیا پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی لیکن انہوں نے انکار کیا اب میں آپ کے پاس آیا ہوں ( آپ ان کو سمجھائیے ) یہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا ابو بکر اللہ تم کو بخشے تین بار یہی فرمایا ۔پھر ایسا ہوا کہ حضرت عمرؓ شرمندہ ہوئے اور ابو بکرؓ کے گھر پر آئے پوچھا ابو بکرؓ ہیں لو گوں نے کہا ہیں آخر رسول اللہﷺ کے پاس آئے آپ کو سلام کیا آپ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا ۔(حضرت ابو بکرﷺ ڈرے کہیں نبی ﷺ حضرت عمرؓ پر خفا نہ ہو ں ) وہ دوزانوں (مودب) ہو کے بیٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ خطا میری٘ تھی خطا میری تھی ( میں نے ہی عمرؓ کو سست کہا تھا ) اس وقت نبیﷺ نے فر مایا ( لوگوں یہ سمجھ لو ) اللہ نے مجھ کو تمھاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن تم نے مجھ کو جھوٹا کہا ۔ ابو بکرؓ نے مجھ کو سچا کہا اور اپنے مال اور جان سے میری خدمت کی تم میرے دوست کو ستا نا چھوڑ تے ہو یا نہیں آپ کے یہ فر مانے کے بعدابو بکرؓ کو کسی نے نہیں ستایا ۔

تحریر:تعریف اللہ
‎@TareefUllah6

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: