نکاح کا حکم احادیث میں |تعریف اللہ

نکاح کا حکم احادیث میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ‏.‏ قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا‏.‏ وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

ترجمہ:ہم سے سعید بن ابی مر یم نے بیا ن کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی کہا مجھ کو حمید بن ابی حمید نے انہوں نے انس بن ما لک سے سنا وہ کہتے تھے تین آدمی نبیﷺکی بی بیوں کے گھرپرآ ئے(حضرت علی،عبد اللہ بن عمر و بن ا لعا ص اور عثما ن بن مظعو ن )اور آپ کی عبا دت کا حا ل پو چھا جب ان کو بتلا یا گیا تو انہو ں نے اس عبا دت کو کم خیا ل کیا کہنے لگے ہم کہاں پیغمبرﷺصا حب کہاں ہم کو آپ سے کیا نسبت،آپؐ کو تو اللہ تعا لیٰ نےاگلے پچھلے سب قصو ر بخش دیے ہیں ہم لو گ گنہگا ر ہیں ہم کو بہت عبا دت کر نا چا ہیے ۔ ان میں سے ایک کہنے لگا میں تو سا ری عمر رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا اور دو سرا کہنے لگا میں ہمیشہ روزہ دا ر ر ہو ں گا کبھی دن کو ا فطا ر نہیں کر نے کا ۔ تیسر ا کہنے لگا میں تو عمر بھر عو ر تو ں سے ا لگ ر ہو ں گا نکا ح نہیں کر نے کا ۔اتنے مٰیں رسول اللہﷺ تشریف لے آ ئے آپ نے فر ما یا کیو ں تم لو گو ں نے ا یسی ایسی با تیں کہیں ۔ سن لو میں تم سب سے زیا دہ اللہ سے ڈرتا ہو ں اور تم سب سے بڑھ کر پر ہیزگا ر ہو ں مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں ر ا ت کو نما ز بھی پڑھتا ہو ں سو تا بھی ہو ں عو ر تو ں سے نکا ح بھی کر تا ہو ں جو میر ے طر یق کو پسند نہ کرے وہ میرا نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏”‏‏

ترجمہ:ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیا ن کیا کہا ہم سے و ا لد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے عما رہ بن عمیر نے کہا انہو ں نے عبدالرحمان بن یز ید سے انہو ں نے کہا میں علقمہ اور اسود کے سا تھ عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس گیا وہ کہنے لگے ہم جوان جوان نبیﷺ کی خدمت میں تھے مگر ہم کو کچھ مقدور نہ تھا ( جو شا دی کر سکتے) آ پ ﷺ نے فر مایا، “جوانو! جو کوئی تم میں عورت کا مقدور رکھتا ہو (صحبت اور خانہ داری کا خرچ وغیرہ کا ) وہ تو نکا ح کر لے نکاح سے نگاہ خوب نیچی اور شرم گاہ خوب بچی ر ہے گی اور جو شخص یہ مقدور نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھا کرے روزہ اس کو نامرد بنا دے گا ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً‏

ترجمہ:ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نےانہو ں نے رقبہ بن مصقلہ سے انہوں نے طلحہ بن مصرف یا می سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہو ں نے کہا ابن عبا سؓ نے مجھ سے پوچھا تو نے نکاح کیا میں نے کہا نہیں، انہو ں نے کہا تو نکا ح کر لے اس لیے کہ اس امت کے بہتر شخص جو تھے (یعنی آپﷺ )ان کی بہت سی بیبیا ں تھیں ۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَكْشِفُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ

ترجمہ:حضرت عا ئشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا : “میں نے تمہیں دو بار خواب میں دیکھا، ایک شخص (جبرائیل) تمہیں ریشم کے کپڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے، یہ آپ ﷺ کی بیوی ہیں۔ میں نے جو وہ کپڑا کھولا تو تم نکلی۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ضرور پورا کرے گا۔”

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ‏”‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ ‏”‏ أَنْ تَسْكُتَ

ترجمہ:ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ابو ہریرہؓ نے بیا ن کیا کہ نبیﷺنے فرمایا، “بیوہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے صاف صاف زبان سے اجازت نہ لی جائے اسطرح کنواری لڑکی کا بھی نکاح نہ کیا جائے جب تک وہ اذن نہ دے۔” لوگوں نے عرض کیا، “یا رسول اللہﷺ وہ اذن کیونکر دے گی۔” آپ ﷺ نے فرمایا، “اسکا اذن یہی ہے کہ وہ سن کر چپ ہو جائے۔”
تحریر:تعریف اللہ
@TareefUllah6

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: