حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

‏( حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کی حالات)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کی ولادت باسعادت ۵ ربیع الثانی ۱۲۸۰ ھ کو ہوئی خاندانی اعتبار سے آپ رح فاروقی النسل شیخ ہیں اور ایک بہت بڑے رئیس شیخ عبدالحق تھانوی رح کے چشم وچراغ ہیں ۰آپ رح کی پرورش بہت نازونعمت میں ہوئی اور قدرت نے آپ رح کو عجیب مزاج سے نوازا تھا۰عربی کی ابتدائی کتابیں مولانا فتح محمد رح سے تھانہ بھون رہ کر پڑھیں اور ۱۲۹۵ھ میں اپ رح حصول تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور ۱۳۰۱ھ میں فارغ التحصیل ہوئے اپ رح کے مربی اور شفیق اساتذہ میں حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رح مولانا قاسم نانوتوی رح ،شیخ الہند مولانا محمودالحسن رح اور مولانا سیداحمد رح وغیرہ شامل ہیں۰
دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپ رح ۱۳۰۱ھ میں کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کیا ۰چودہ سال تک وہاں درس وتدریس ،افتاء اور وعظ وتبلیغ کی خدمت سرانجام دیتے رہے۰ ۱۳۱۵ھ میں اپ رح کانپور سے تھانہ بھون واپس تشریف لائے اور حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح کی خانقاہ کو اباد کیا اور ایک مدرسہ اشرفیہ قائم کیا جہاں اخر دم تک دینی علمی اور روحانی خدمات سر انجام دیتے رہے۰
علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد اپ رح کے دل میں تزکیہ باطن کی تڑپ پیدا ہوئی۰اپ رح ابتداء میں حضرت گنگوہی رح سے بیعت ہونا چاہتے تھے مگر جب اپ رح کے والد ماجد حج تشریف لے گئے تو اپ رح بھی ہمراہ تھے اور مکہ معظمہ پہنچ کرشیخ العرب والعجم حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح کے خدام میں داخل ہوگئے اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے اور ان کے تلقین کردہ ذکر وفکر میں مشغول ہوگۓ۰ان کے ذوق وشوق اور مزاجکو دیکھتے ہوئے حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح فرمایا کرتے تھے بس میاں اشرف علی پورے پورے میرے طریقے پر ہے۰اور جب حکیم الامت کی کوئی تحریر دیکھنے یا تقریر سننے کا اتفاق ہوتا تو حوش ہوکر فرماتے جزاکم اللہ تم نے میرے سینے کی شرح کردی۰

یوںتو چشم فلک نے بڑی بڑی عالم فاضل ہستیاں،بڑے بڑے عابد اور زاہد انسان اور بڑے بڑے متقی وتہجد گزار بندے اس خطہ اراضی میں دیکھے ہوں گے مگر شریعت وطریقت کا ایسا حسین امتزاج شائد ہی کسی نے دیکھا ہو جیسے اپ رح تھے ۰کوئی صرف عالم ہوتا ہے اور طریقت سے کورا ،کوئی محض صوفی ہوتا ہے اور علوم شرعیہ سے ناشنا ۰حضرت حکیم الامت رح ایک ہی وقت میں صوفی بھی تھے ،عالم بے بدل بھی ،رومی عصر بھی تھے اور رازی وقت بھی ۰اپ رح نے جس طرح شریعت ظاہرہ کو جہالت وضلالت کی تاریکیوں سے نکالنے کا کام کیا اسی طرح طریقت باطنہ کو بھی افراط وتفریط کی بھول بھلیوں سے نجات دلائی ۰دراصل حضرت تھانوی رح کے یہاں طریقت کا خلاصہ یہی تھا کہ انسان بنو اور ادمیت سیکھو،چناں چہ اپ رح فرماتے تھے بھائی میں اپنی محفل سو بزرگوں کی محفل نہیں بنانا چاہتا ،ادمیوں کا محفل بنانا چاہتا ہوں۰
اللہ تعالی نے حضرت تھانوی کو دور حاضر کے مجدد کے منصب پر فائز فرمایا تھا اس لئے حضرت تھانوی رح نے مسلمانوں کے ہر شعبہ زندگی میں بڑھتے ہوئے انحطاط کو دیکھ کر سینکڑوں ہزاروں میل سفر طے کرکے اپنے مواعظ حسنہ ملفوظات اور عام مجالس کے ذریعے لوگوں کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کیا وہاں اپ رح نے اپنی عظیم تصنیفات کے ذریعے عوام وحواص کی رہبری فرمائی اور ان کو صحیح دین سے اشنا کیا ۰نشر واشاعت کے اس دور میں حضرت تھانوی کا ایک عظیم اور امتیازی کارنامہ ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے زائد تصانیف اپ رح کے قلم سے رقم ہوئیں ۰ہر علم وفن پر تصانیف اس قدر تالیف فرمائیں کہ بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ متعقدین ومتاخرین میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہیں۰
اپ رح نہایت لطیف مزاج اور اصول وضوابط کے پابند تھے۰مزاج کے اعتبار سے اپ رح کو مرزامظہر جان جاناں رح ثانی کہا جاسکتا ہے ۰حقیقت یہ ہے کہ اگر اپ مترتب المزاج اور اصول ضوابط کے پابند نہ ہوتے تو اصلاح مسلمین کے اتنے عظیم کارنامے اور ہزاروں تصنیف وتالیف کے کاطم ہر گز پائیہ تکمیل تک نہ پہنچاسکتے۰بلاشبہ اپ رح حکیم الامت اور مجدد ملت تھے اور اپ رح نے ساری زندگی خدمت اسلام میں گزاری۰
اپ رح ۱۶ رجب المراجب ۱۳۶۲ مطابق ۲۰ جولائی ۱۹۴۳ء کو اس دار فانی سے رحلت فرماگئے۰اپ رح کی عمر ۸۳ سال تھی۰
تحریر:تعریف اللہ عفی عنه
‎@TareefUllah6

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: