مفتی محمود رح کون تھے؟؟

‏ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لیے وقف تھیں۔
آپ 1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں پنیالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ایک سال تک دارالعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کیلئے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے۔
حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا۔ دوران تعلیم ہی میں آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کیا۔ 1943 میں آپ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو ”ہندوستان چھوڑدو“ کی تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک انگریزوں کے دور کی بہت ہی اہم اور دور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی۔ آپ ہی نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔
آپ 1944 کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے۔ اور سرحد جمعیت پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ بے پناہ قربانیوں، صلاحیتوں اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کیوجہ سے جلد ہی حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علماء کے کونسلر منتخب ہوگئے۔
قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی اور تعلیمی ادارے جامعہ قاسم العلوم میں مدرس کی حیثیت سے علمی زندگی کا آغاز کیا۔ یہاں پر حضرت مفتی صاحب شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت اور عظمت ملک و بیرون میں تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ نے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ حضرت مفتی صاحب کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علماء کرام میں ہوتا تھا۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، نکتہ سنج فقہیہ، عمدہ مفسر، بہترین ادیب، محقق اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانوں و سیاست اور سائنس و فلسفہ پر عبور رکھتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر گہری دسترس حاصل تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا سیاسی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لئے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے برصغیر کے تقسیم سے پہلے سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور برطانیہ کے استعمار کے خلاف قومی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ بھی لے لیا۔

قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگادی گئی اور علماء کرام (وہ علماء کرام جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کردیا گیا اور انہیں صرف اور صرف مساجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کردیا گیا تو اس وقت حضرت مفتی صاحب پہلے ہی شخص تھے جو نہایت ناخوشگوار حالات، مالی وسائل اور پروپیگنڈوں سے تہی دست ہوتے ہوئے ملک میں علماء کی سیاست کو تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علماء حق کا سکہ پھر سے رائج کیا اور پھر سے ملک میں اسلام کی بقاء قائم رکھنے کیلئے 1956ء میں سکندر مرزا کی صدارت میں دوران سیاسی سٹیج پر نہایت آہستگی اور توازن سے نمودار ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی سیاسی عدم و استحکام اور افراتفری کا شکار تھا۔ سکندر مرزا نے وزارتوں کو اکھاڑ پچھاڑ کاسلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ سے چند معاہدوں کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر امریکی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نظام حکومت مکمل طور پر نوکر شاہی کے ہاتھوں جاچکا تھا۔
1956ء ہی میں پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ جس میں اسلام کا صرف اور صرف نام ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حقیقی اسلام کی عکاسی اس سے نہیں ہوتی تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے 1956ء کے درمیان میں علماء کا ملگ گیر کنونشن بلایا۔ جس مقصد یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حمایتی افراد جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ مفتی صاحب کا پہلا سیاسی اقدام تھا مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں باقاعدہ جمعیت علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیتہ علماء اسلام کا پہلا امیر منتخب کیا گیا جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے۔ ان کے بنوانے میں جمعیتہ اور حضرت مفتی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ مئ 1962ء میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔
حضرت مفتی سرحد (خیبرپختونخوا) کا زیراعلیٰ بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ حضرت مفتی صاحب نے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں شراب مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے قرون اولیٰ کے درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک دن بھی دفعہ 144 نہ لگا، جہیز پر پابندی، سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ جمعہ کی تعطیل کی سفارش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں فراموش نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی سیاست پہلی مرتبہ یہ روایات بھی حضرت مفتی صاحب نے قائم کی کہ جسکی اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوں نے بھی احتجاجاً اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا۔ جب 1973ء میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو حضرت مفتی صاحب نے بھٹو نے اس اقدام پر جرتمندی اور بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہ خیال نہ تھا کہ مفتی محمود رحمہ اللہ استعفیٰ دینگے۔ تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا، آپ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ آپ استعفیٰ واپس لیں، حضرت مفتی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایات کا تدارک کریں جو استعفیٰ کا باعث بنی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کئ دن تک اس کا استعفیٰ منظور نہ کیا اور حضرت مفتی صاحب کو استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر انہوں اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں روشن و تابندہ مثال قائم کی۔ ذولفقار علی بھٹو نے حضرت مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات جی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ : ” ہم آئین کے پابند ہیں اور اسکی بالادستی کا حلف لیا ہے اسلئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا است درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہونگے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا “۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماردی اور یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی سیای اور مادی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی جو اس کی ضرورت تھی، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ یقیناً وزیراعلیٰ کے منصب کو عوام کی امانت کو جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔ 1973ء کے آئین کو اسلامی بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بہت اہم کردار ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئینی سطح پر ہر کسی سے ٹکر لی۔ قومی اسمبلی سے7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں حضرت مفتی صاحب کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر جو علمی جرح کی، وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔
1977ء کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تو مفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوقیں اٹھائیں گے بندوق سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عام نے علماء کرام اور جمعیتہ علماء اسلام پر اعتماد کرنے ہیں۔ جس کے جمعیتہ علماء اسلام کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل ”قبائلی جرگہ“ ہی پر اثر پلیٹ فارم ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاز نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان کے قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔
حضرت مفتی صاحب حج کے لئے روانہ ہوئے کراچی پہنچ کرایک علمی موضوع پرحضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید،حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ،مفتی محمد جمیل خان شہید،حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق سکندرکی موجودگی میں ایک خالص فقہی مسئلے پر گفتگو کر تے ہوئے 14اکتوبر1980کواچانک سفرآخرت پرروانہ ہوئے۔
Twitter / ‎@IhsanMarwat_786

https://t.co/HSu9bOtI3f‎
Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: