قرآن مجید کے سائنسی معجزات پارٹ ۱۲، قرآن و سائنس اور لوہے کی پیدائش

ڈسکرپشن:قرآن کا لوہے کے متعلق بیان کا انداز یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوہا ایسی چیز ہے جو “نازل ہوا” تھا ، نہ کہ اس زمین کے اندر پیدا ہوا ، یہ معلومات 20ویں صدی تک سائنس دانوں کو میسر نہیں تھیں۔

لوہا قرآن مجید میں نمایاں طور پر بیان کردہ عناصر میں سے ایک ہے۔ الحدید کے نام سے موجود سورت ، جس کا معنی لوہا ہے ،کی آیت 25 میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے:



۔۔۔۔وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ۔۔۔۔

۔۔۔۔اور لوہا نازل کیا جس میں بڑا زور ہے اور لوگ کے لئے منافع ہیں۔۔۔۔

لفظ “اَنۡزَلۡنَا” ، جسے “نازل” کے طور پر ترجمہ کیا جاتا ہے اور آیت میں لوہے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ، کے بارے میں یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ لوہا لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دیا گیا ہے۔

لیکن ، جب ہم اس لفظ کے لغوی معنی پر غور کریں ، جس کا مطلب ہے ، “جسمانی طور پر آسمان سے اتارا جانا” ، کیوں کہ قرآن کے اس لفظ کو لوہے کے لئے،بارش کے برسنے یا وحی کے نزول کی طرح لفظی طور پر استعمال نہیں کیا گیا تھا وہ اس لئے کہ پہلے لوگوں کے مطابق اسکا معنی لفظی نہیں ہوسکتا تھا،کیونکہ بظاہر لوہا زمین سے برآمد ہوتا ہے نہ کہ آسمان سے،اس کی وجہ یہ تھی کہ سائنسی علم میں ترقی نہ ہونے کی وجہ لوہے کی پیدائش کے متعلق حقائق سے لوگ بے علم تھے، یہاں تک کہ 20ویں صدی تک سائنس ان حقائق سے ناآشنا تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت ایک بہت ہی اہم سائنسی معجزہ کی علامت ہے۔کیونکہ ، جدید فلکیاتی تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری زمین میں پائے جانے والا لوہا مقامی نہیں ہے،بلکہ بیرونی خلاء میں موجود بڑے ستاروں سے آیا ہے[1]۔



نہ صرف زمین پر ہی ، بلکہ پورے نظام شمسی میں موجود لوہا بیرونی خلا سے آتا ہے ، کیونکہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے گرم حصے یعنی سورج کے مرکز میں موجود شدید درجہ حرارت بھی لوہے کی پیدائش کے لئے بلکل ناکافی ہے۔

سورج کی سطح کا درجہ حرارت6،000 ڈگری سیلسیس ہے ، اور اس کے مرکز یعنی کور کا درجہ حرارت تقریبا 20 ملین ڈگری ہے۔ لوہے کی پیدائش صرف ان ستاروں میں ممکن ہے جو ہمارے ستارے یعنی سورج کے مقابلے میں کافی بڑے ہوتے ہیں ، جہاں درجہ حرارت کئی سو ملین ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، جو کہ سورج کے مرکز کے درجہ حرارت سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔جب کسی ستارے میں لوہے کی مقدار ایک خاص سطح سے تجاوز کر جاتی ہے ، تو ستارہ اب اس کو ایڈجسٹ نہیں کرسکتا ، اور آخر کار اس وجہ سے پھٹ پڑتا ہے جس عمل کو “نووا” یا “سپرنووا” کہا جاتا ہے۔ ان دھماکوں سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوہا خلاء میں اربوں کھربوں میل تک پھیل جاتا ہے اور یہ پتھر نما لوہا رستے میں آنے والے ستاروں اور سیاروں سے ٹکراتا رہتا ہے اور انکے جسم کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے[2]۔

ایک سائنسی سورس اس موضوع پر درج ذیل معلومات فراہم کرتا ہے۔“پرانے سپرنووا کے واقعات کا بھی ثبوت موجود ہے: گہرے سمندر میں موجود تلچھٹ میں آئرن-60 کی افزودہ سطح اس بات کی نشاندھی کرتی ہے کہ 5 ملین سال پہلے ہمارے سورج سے 90 ملین نوری سال دور ایک “سپر نووا” دھماکا ہوا، آئرن -60 لوہے کا ایک تابکاری آاسوٹوپ ہے ، جو سپرنووا دھماکوں میں پیدا ہوتا ہے ، جو ڈیڑھ ملین سال کی نصف زندگی کے ساتھ زوال پذیر ہوتا ہے۔

جیولوجک پرت میں اس آاسوٹوپ کی بڑھتی ہوئی موجودگی خلا میں قریب موجود عناصر کی حالیہ نیوکلیو سنتھیت اور اس کے نتیجے میں زمین پر انکی برسات کی نشاندھی کرتی ہے(شاید دھول کے دانے کے سائز کے برابر )[3]”

اس سب سے پتہ چلتا ہے کہ لوہا زمین پر نہیں بنا، بلکہ سورج سے کئے گنا بڑے ستاروں کے مرکز میں شدید درجہ حرارت پر بنتا ہے، اور جب کور میں لوہے کی مقدار حد سے تجاوز کرتی ہے تو وہ ستارہ شیدید دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے جسے سوپرنوا کے دھماکے کے ساتھ نکلتا ہے، اور “زمین پر بھیج دیا جاتا ہے” جیسا کہ آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ یہ حقیقت ساتویں صدی میں معلوم نہیں ہوسکتی تھی جب قرآن مجید کا نزول ہوا۔ بہر حال ، یہ حقائق قرآن مجید جو کہ رب العالمین کا کلام ہے، میں موجود ہیں، جو اپنے لامحدود علم میں ، اس کائنات کی ساری چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے۔اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ یہ دریافتیں 20 ویں صدی کے آخر میں کی گئیں، اس آیت میں خاص طور پر “لوہے” کے متعلق ان حقائق کا تذکرہ کافی حیران کن ہے،

اپنی کتاب “فطرت کی تقدیر” میں ، معروف مائکرو بایوولوجسٹ مائیکل ڈینٹن نے لوہے کی اہمیت پر زور دیتے ہو کہتے  ہیں:”تمام دھاتوں میں سے زندگی کے لئے لوہے کے علاوہ کوئی اور دھات اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ یہ ستارے کے بیچ میں لوہے کا انبار ہی ہے جو ایک سپرنووا دھماکے کا باعث بنتا ہے ، اور اس کے نتیجے میں کائنات کی وسعتوں میں زندگی کا یہ اہم جوہر(آئرن ایٹم) بکھر جاتا ہے،یہ ابتدائی زمین کے وسط میں لوہے کے ایٹموں کی کشش ثقل ہی تھی جس نے گرمی پیدا کی،جو زمین کی ابتدائی کیمیائی تفریق ، ابتدائی ماحول کی آؤٹ گیسنگ اور بالآخر ہائیڈرو اسفئیر کی تشکیل کا سبب بنی۔یہ زمین کے وسط میں پگھلا ہوا لوہا ہی ہے جو ایک دیوہیکل ڈائنمو کی طرح کام کرتے ہوئے زمین کا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں وین ایلن تابکاری بیلٹس تخلیق ہوتی ہیں جو زمین کی سطح کو تباہ کن ہائی انرجی پینی ٹریٹنگ کاسمک/کائناتی تابکاری سے بچاتی ہیں اور اوزون کی اہم پرت کو کاسمک-رے کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچاتی ہیں…..”

“لوہے کے ایٹم کے بغیر ، کائنات میں کاربن پر مبنی زندگی نہیں ہوگی۔  اگر لوہے کو اس کائنات سے ہٹا دیا جائے تو کوئی سپرنووا نہیں ہوگا، نا ہی قدیم زمین کی حرارت ،اور نا ہی ماحول یا ہائیڈرو سفئر (جو زمین پر زندگی کے لئے اہم ہے)۔نا ہی کوئی حفاظتی مقناطیسی میدان ، نا ہی کوئی وان ایلن تابکاری بیلٹ ، نا ہی کوئی اوزون تہہ ،نا ہی کوئی ہیموگلوبن بنانے کے لئے کوئی دھات [انسان کے خون میں] ، نا ہی آکسیجن کی رد عمل کو روکنے کے لئے کوئی دھات ، اور نا ہی  کوئی آکسیڈیٹیو میٹابولزم ممکن ہو سکے گا”

لوہا کائنات میں موجود زندگی کی زنجیر میں موجود کَڑیوں میں سے ایک کَڑی ہے، اگر لوہا کی اس کَڑی کو ہٹا دیا جائے تو باقی تمام کَڑیاں ایک ساتھ ٹوٹ کر ختم ہو جائیں گی۔

یہ سب واضح طور پر آئرن ایٹم کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں آئرن کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔

“زندگی اور لوہے کے مابین ، دل کے سرخ رنگ اور کسی دور دراز ستارے کی موت کے مابین دلچسپ اور گہرا تعلق ، نہ صرف حیاتیات سے دھاتوں کی مطابقت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ کائنات کی بائیو سینٹریٹی سے بھی….[4]”

مزید یہ کہ حالیہ کچھ سالوں میں کینسر کے علاج میں آئرن آکسائڈ ذرات کا استعمال کیا گیا تھا اور نتیجتاً مثبت پیشرفت دیکھی گئی۔جرمنی میں دنیا کے مشہور چیریٹ اسپتال میں ڈاکٹر آندریاس جارڈن کی سربراہی میں ایک ٹیم ، کینسر کے علاج کے لئے تیار کردہ اس نئی تکنیک سے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس تکنیک کے نتیجے میں ، پہلے 26 سالہ نیکولاس ایچ(مریض) پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، اگلے تین ماہ میں مریض میں کینسر کے نئے خلیات نہیں دیکھے گئے۔

اس طریقہ علاج کا خلاصہ اس طرح کیا جاسکتا ہے:مائع کو آئرن آکسائڈ ذرات پر مشتمل ایک خاص سرنج کے ذریعہ ٹیومر میں داخل کیا جاتا ہے۔  یہ ذرات پورے ٹیومر خلیوں میں پھیل جاتے ہیں۔  ایک  کیوبک سینٹی میٹر میں یہ مائع ہزاروں لاکھوں ذرات پر مشتمل ہوتا ہے ، جو سرخ خون کے خلیات سے 1،000 گنا چھوٹے ہوتے ہیں ،اور  آسانی سے خون کی  تمام رگوں میں سفر کرسکتے ہیں[5]۔

اس کے بعد مریض کو ایک طاقتور مقناطیسی فیلڈ والی مشین میں رکھا جاتا ہے۔

بیرونی طور پر لاگو ہونے والا یہ مقناطیسی فیلڈ، ٹیومر میں آئرن کے ذرات کو حرکت میں لانا شروع کرتا ہے۔ اس وقت کے دوران ، آئرن آکسائڈ ذرات پر مشتمل ٹیومر میں درجہ حرارت 45 ڈگری تک بڑھ جاتا ہے۔

کچھ ہی منٹوں میں کینسر کے خلیے ، جو خود کو گرمی سے بچانے کے قابل نہیں ، یا تو کمزور ہوجاتے ہیں یا ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد کیمو تھراپی سے ٹیومر کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے[6]۔

اس علاج میں یہ صرف کینسر کے خلیات ہیں جو مقناطیسی میدان سے متاثر ہوتے ہیں ، کیونکہ صرف ان میں آئرن آکسائڈ کے ذرات ہوتے ہیں۔اس مہلک بیماری کے علاج میں اس تکنیک کا پھیلاؤ ایک اہم پیشرفت ہے۔انیمیا میں مبتلا افراد کے لئے بھی لوہے میں اس بیماری کا علاج پایا گیا ہے۔
اس طرح کی وسیع بیماریوں کے علاج میں ، قرآن مجید میں “اور لوہا نازل کیا جس میں بڑی طاقت ہے اور جس کا انسانوں کے لئے بہت سے استعمال ہیں”(سورت 57/آیت 25) کے اظہار کا استعمال خاص طور پر صاحب عقل حضرات کے لئے قابل غور ہے۔
در حقیقت ، اس آیت میں قرآن مجید ، ناصرف یہ کہ لوہا زمین کا نہیں بلکہ زمین پر کائنات کی گہرائیوں سے نازل کیاگیا ،بلکہ انسانی صحت کے لئے اس کے فوائد کی بھی نشاندہی کر رہا ہے۔ بے شک قرآن میں عقل والوں کے لیے کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

ہاشیہ:

  1. Dr. Mazhar U. Kazi, 130 Evident Miracles in the Qur’an (New York, USA: Crescent Publishing House: 1998), 110-111; and www.wamy.co.uk/announcements3.html, from Prof. Zighloul Raghib El-Naggar’s speech.
  2. Ibid.
  3. Priscilla Frisch, “The Galactic Environment of the Sun,” American Scientist, January-February 2000, www.americanscientist.org/template/AssetDetail/assetid/21173?fulltext=true.
  4. Michael J. Denton, Nature’s Destiny (The Free Press: 1998), 198.
  5. www.inm-gmbh.de/cgi-bin/frame/frameloader.pl?sprache=en&url=http://www.inm-gmbh.de/htdocs/technologien/highlights/highlights_en.htm.
  6. “Nanotechnology successfully helps cancer therapies,” IIC Fast Track, Nanotech News from Eastern Germany, Industrial Investment Council, October 2003; www.iic.de/uploads/media/NANO_FT_Nov2003_01.pdf

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: