ترسیل کا نظام بہتر بنانے کی کوشش

‏بجلی کی ترسیل کو بہتر بنانے کا منصوبہ

وزیر توانائی کے مطابق اگلے 3 سال میں 111 ارب روپے کی لاگت سے بجلی کے نظام ترسیل کو اپ گریڈ کردیا جاے گا.

جس سے ترسیل کی موجودہ 24 ہزار میگاواٹ کی شرح 31 ہزار 500 میگاواٹ ہوجاے گی. نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی 2 ہزار انجنئیرز بھی بھرتی ‏کریگی جو نظام میں آنیوالی کسی بھی خرابی کو فوری ٹھیک کریں گے.

اس وقت پاکستان کی بجلی پیدا کرنیکی صلاحیت 37 ہزار میگاواٹ ہے. جبکہ ترسیل لگ بھگ 24 ہزار تک ہوپاتی ہے. 2018 میں پیداواری صلاحیت لگ بھگ 33 ہزارجبکہ ترسیل 20 ہزار800میگاواٹ تک تھی. موجودہ حکومت ترسیل کےنظام کو بہتربنانے ‏کی مسلسل کوششوں میں ہے.

کیونکہ بجلی بنانیوالی کمپنیوں کو قیمت37 ہزارمیگاواٹ اداکیجاتی ہے لیکن ترسیل کے بوسیدہ نظام کے باعث 13 ہزار میگاواٹ استعمال میں نہیں آپاتی. گرمیوں میں کھپت 25 ہزارمیگاواٹ سے زائد ہوجاتی ہےجسکی وجہ سےضرورت سے زائد پیداوار کے باوجود لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے.

‏نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی نے تمام پرانی لائنیں اور ٹرانسفارمرز تبدیل کرنیکی رپورٹ مکمل کرلی ہے. اپ گریڈیشن کا تخمینہ 111 ارب لگایا گیا ہے.

جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ممکن بنایا جاے گا. 3 سالہ منصوبے کے تحت تقریباً 2500 میگاواٹ سالانہ کےحساب سے ترسیل میں اضافہ ہوگا.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: