کل کرکٹ کی دنیا میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات

کل کرکٹ کی دنیا میں تین ناخوشگوار واقعات پیش آئے جنہوں نے مجھ سمیت لاکھوں قومی و بین الااقوامی کرکٹ فینز کو مایوس کردیا۔

اشتہارات


Qries

1- کوئنٹن ڈی کاک۔

کوئنٹن ڈی کاک ساؤتھ افریقہ کے نامور وکٹ کپیر بلےباز اور سابق کپتان بھی ہیں۔ ڈی کاک کا شمار اس وقت دنیا کے چند بہترین وکٹ کیپر بلے بازوں میں ہوتا ہے۔
کل ساؤتھ افریقہ کے ویسٹ انڈیز سے میچ سے قبل ساؤتھ افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ میچ سے قبل ہر پلئیر نسل پرستی کے خلاف گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر کالے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرے گا۔
کوئنٹن ڈی کاک نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہونے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ ہر پلئیر کا ذاتی فیصلہ ہے کوئی بورڈ اسے مجبور نہیں کرسکتا ۔
جواباً انکے کرکٹ بورڈ نے کوئنٹن ڈی کاک کو بتادیا کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ میچ کھیلنے والے ہر کھلاڑی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

ڈی کاک نے بورڈ کے ایسے رویے پر ذاتی وجوہات کی بناء پر اپنا نام ٹیم سے واپس لے لیا اور اب شائد ڈی کاک دوبارہ کبھی ساؤتھ افریقہ کے لئے کھیل نہ پائیں گے۔
کیونکہ ماضی میں بھی سیاست کی وجہ سے افریقی کرکٹ بورڈ کئی پلئیرز کا کیرئیر برباد کرچکا ہے اور اب درجنوں حقدار پلئیرز کا کیرئیر کوٹہ سسٹم شروع کرکے برباد کیا جارہا ہے۔

(یاد رہے ماضی میں بھی ساؤتھ افریقہ کرکٹ نسلی تعصب کی وجہ سے 1970 سے لیکر 1991 سے ہر قسم کی انٹرنیشنل کرکٹ پر پابندی کا شکار رہ چکی ہے)

2- وقار یونس

وقار یونس صاحب جو کہ پاکستان کے سابق کپتان اور کوچ بھی رہ چکے ہیں انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے دی پویلین نامی شو میں رضوان کو ہندؤں کے سامنے نماز پڑھنے کو انکی ہار اور پاکستان کی فتح کو مسلمانوں کی فتح قرار دینے جیسے کمنٹس دیے جس پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انکے کمنٹس کو بھی بڑا ہائی لائیٹ کیا گیا ۔
یقیناً جس طرح کی بات انہوں نے کی تھی وہ نہایت نامناسب اور تضحیک ّآمیز تھی جس میں پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی تضحیک بھی شامل تھی لہذا اس نے اپنی غلطی کو بھانپتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے اور اپنے الفاظ کو ہیٹ آف دی مومنٹ قرار دیا ہے۔

3- شعیب اختر

اب آتے ہیں سب سے بڑے ایشو یعنی شعیب اختت والے ایشو پر۔ شعیب کو کل رات پوسٹ میچ پریزینٹیشن میں ویو رچرڈز اور ڈیوڈ گوور کے سامنے نواز شریف کے چمچے اور جنرل نیاز کے بیٹے نعمان نیاز کے تضحیک آمیز الفاظ سے مخاطب کیا اور شو سے جانے کو کہا۔
نعمان نیاز کافی سالوں سے پی ٹی وی سپورٹس پر گیم آن ہے نامی شو کا ہوسٹ ہے اور اس شو میں اس کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی کسی کرکٹ میچ میں چئیرلیڈرز کی ہوتی ہے۔

نعمان نیاز کا لہحہ نہایت متکبرانہ اور غیرمہذب تھا مگر شعیب اختر نے خلاف توقع صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فارن لیجنڈز کے سامنے تماشہ کرنے سے گریز کیا اور بات کو افہام و تفہیم سے ختم کرنے کی کوشش کہ مگر جب نعمان نیاز نے اپنی روش نہ بدلی اور شعیب کو یکسر نظرانداز کردیا تو شعیب نے شو چھوڑنے کا اعلان کردیا اور شو سے اٹھ کر چلا گیا۔

یقیناً نیشنل ٹی وی پر ہونے والا یہ کام ساری دنیا نے دیکھا اور ساری دنیا کے سامنے تماشہ بنانے والا نعمان نیاز کے خلاف ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔
پاکستان ٹیلی ویژن کی مینجمنٹ کو نعمان نیاز کے خلاف لازماً سخت سے سخت کاروائی کرنی چاہیے اور اسے
ادارے سے اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئے ۔

(مجھے کمنٹس میں کوئی بھاشن نہ دے کہ شعیب اختر بھی بدتمیز ہے۔ کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ منہ پھٹ ضرور ہے مگر نہ تو وہ فکسر ہے اور نہ ہی پرچی پلئیر مگر پھر بھی قومی ٹیلی ویژن پر ساری دنیا اور کرکٹ لیجنڈز کے سامنے نعمان نیاز کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے کرکٹ سٹارز کا اس طرح سے تماشہ بنایے یہ اس کے باپ کا چینل نہیں ہے)
ساجد عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: