امید کے تلاش میں | شہاب ثاقب

امید کی تلاش میں۔

۔۔قیام امن کی کوششوں میں مگن تمام طبقہ فکر کے لوگوں میں جو جذبہ اور مقصد پایا جاتا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔امن اور ظلم ایک ساتھ اکٹھے نہیں چل سکتے تاریخ ان کے اوپر تفصیل کے ساتھ لکھی جا چکی ہے۔کافی تنظیمیں امن کے لبادے میں ظلم کا غلاف اوڑھے کافی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں۔

اشتہارات


Qries

اپنا کام شروع کر چکی ہیں۔دنیا کی حمایت وصول کر چکی ہیں کیا دنیا اندھی ہے لوگ اندھے ہیں خالی ذہن کے جو مالک بن چکے ہیں۔ماضی قریب میں ان کی تعداد میں ایک تیز رفتار کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مقصد اور نصب العین تو پرانا ہے۔ لوگ تبدیل ہوئے ہیں سوچ تبدیل ہوئی ہے بظاہر دنیا کے حمایت یافتہ لوگ اور تنظیموں کی طرفداری ایک خاص طبقہ کے اوپر لازمی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ظلم بڑھ رہا ہے امن کا وجود خطرے میں ہے۔

نسل پرست اور بنیاد پرست طبقہ میں ایک نئ روح ایک نئ جدت دیکھنے میں آئی ہے۔ایک سوچ نہیں رہی اور نہ ہی ایک مقصد رہا امن کے حصول میں فقدان ایک دوسرے کیلئے تباہی کے آلات اور اوزاروں کی مانگ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ تنظیمیں اچھی بھی ہیں اور بری بھی ہیں مقاصد بیان کرتے ہیں ان کے نصب العین اور کردار کام کرنے کی صلاحیت اور منصفانہ تقسیم کردار کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

نام نہاد تنظیموں کے مالکان اندھے ہو ہوچکے ہیں اپنے نظریے کی اہمیت اور تقویت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ان کے نظریے میں اب پہلے والی مضبوطی نہیں رہی۔ انسانوں کیلئے تباہی کا سامان جمع کرنے میں مگن ہیں۔ظالم لوگوں کو نجات دہندہ اور امن پرست لوگوں کو دہشت گرد کا نام دینا ذہنی غلامی کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔دنیا میں تباہی کے ذمہ داران یہی سربراہان ہیں ہیں

مجرم ہیں دولت اور اس کا نشہ بڑی مشکل کے ساتھ جان لیتا ہے۔ اگر اس نشہ میں مذہب اور غیر مہذب لوگوں کا موازنہ کیا جائے اور تو مقاصد کا حصول کچھ مشکل نہیں۔ یہی تنظیمیں غربت کے اوپر تیزی کے ساتھ اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے ذمہ دار ہم لوگ ہیں۔ خالی پیٹ انسان سب کچھ قبول کر لیتا ہے ۔ تفریق انسانیت کے باعث ہر شعبہ میں تفریق کے عوامل نے یکساں نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

یکساں نظام نہ تو پہلے قبول کیا جاتا اور نہ آج کے انسان اس کیلئے رضامند ہیں۔وہی سب سے بڑے ظالم لوگ ہیں ظلم کو ہوا دیتے ہیں ہر برے کام کے ذمہ دار وہی لوگ ہوتے ہیں۔تفریق کو ختم کرنا چاہیئے تاکہ نظم و نسق کو بہتر ماحول میں لاگو کیا جا سکے۔

ہر غریب کے حوصلے بلند ہوں ایک مقصد ہو ایک ایمان اتحاد تنظیم کے منشور میں ایک سوچ ہو ملک و ملت کی ترقی کیلئے سب کی منزل ایک ہو۔بڑے وقت سے پہلے انسانوں کو خواب غفلت سے جگانا ہے ایک ہونا ہے قوم بننا ہے اپنا دفاع کرنا ہے مقابلہ کرنا ہے حقوق کی یکساں تقسیم کرنی ہے ہر میدان میں جیتنا ہے ان تنظیموں کے منشور سے آگاہ کرنا ہے۔

خود کو بچانا ہے قوم کو بچانا ہے

اشتہارات


Qries

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: