مصائب اور مشکلات کی وجوہات قرآن وسنت کی روشنی میں |فاطمہ بلوچ

‏قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مصائب اور مشکلات آنے کی دو وجوہات ہیں

اشتہارات


Qries

۔1۔

بعض دفعہ اللہ رب العزت بندوں کو بطور امتحان مصائب و مشکلات میں مبتلا کردیا2۔ بعض دفعہ اللہ رب العزت بندوں کے گناہوں کی وجہ سے انہیں مصائب سے دو چار کر دیتے ہیں۔1-” بطورِ امتحان مصائب و مشکلات “اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اور ہم ضرور تمہیں خوف اور فاقہ میں مبتلا کر کے، نیز جان ومال اور پھلوں کے خسارہ میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے اور (اے نبی ﷺ !) ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ : ہم (خود بھی) اللہ ہی کی مِلک ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔(سورت بقرہ آیت 155,156)جو آدمی مصائب میں (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تعمیر کردا دیتے ہیں۔سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب کسی آدمی کا بیٹا فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتے ہیں تم نے میرے بندے کے بیٹے کو قبض کر لیا؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں! پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں تب میرے بندے نے کیا کہا تھا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اس نے تیرا شکر ادا کیا اور (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تم میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام ’’بیت الحمد‘‘ یعنی شکرانے کا گھر رکھ دو۔(ترمذی شریف)پہلی امتوں کو بھی بطور آزمائش مصائب و مشکلات میں ڈالا گیا۔ اللہ رب العزت نے پہلی امتوں کو بھی آزمانے کے لیے ان کو مصائب، مشکلات، پریشانیوں وغیرہ میں مبتلا کیا

۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا! آزمائش مومن مرد اور مومن عورت کا پیچھا نہیں چھوڑتیں کبھی خود اس پر مصیبت آ جاتی ہے کبھی اس کی اولاد پر اور کبھی اس کے مال پر یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔( ترمذی شریف )2-“مصائب و مشکلات انسان کے بُرے اعمال کا نتیجہ”مصائب و مشکلات وغیرہ نازل ہونے کا دوسرا بڑا سبب خود انسان کے بُرے اعمال ہیں۔

بُرے اعمال کی اصلی سزا تو مرنے کے بعد ملے گی مگر اللہ رب العزت دنیا میں بھی گناہوں کی وجہ سے بندوں کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما لیتےہیں۔

( سورت شورٰی آیت 30 )

یعنی کچھ برائیاں اور گناہ ایسے ہیں جن کی معمولی سزا دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے اور اکثر گناہوں سے تو اللہ تعالیٰ درگزر فرما لیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے تمام گناہوں پر دنیا میں ہی پکڑ فرمانا شروع کر دیں تو دنیا میں انسان و جنات تو کیا چرند و پرند اور دیگر مخلوقات کا بھی نام و نشان مٹ جائے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے! اور اگر اللہ رب العزت انسانوں کے اعمال (گناہوں، کرتوتوں وغیرہ) پرفورا مؤاخذہ شروع دیں تو زمین پر کوئی بھی چلنے والا باقی نہ رہے۔(سورت فاطر آیت 45)تحریر فاطمہ بلوچ ‎@Zalmayx

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: