فاروقی طرز حکومت اور جمہوریت کا اصلی چہرہ

‏”فاروقی طرز حکومت
جمہوریت کا اصل چہرہ “
ہمارے ملک میں جمہوریت اور اس سے جڑے ایوانوں کے لئےسیاست دانوں کی طرف سے “مقدس ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے کیا یہ ایوان اور ان سے جڑے افراد واقعی “مقدس ” ہیں ?
کہتے ہیں عزت کمانا پڑتی ہے کیا ہمارے ملک میں سیاست اب کوئ معزز شے ہے ?
کوئ محترم شے ہے ? غریبوں کے زخموں پر مرہم کا کام کرتی ہے ?
بلکل بھی نہیں
اب جمہوریت دراصل ایک فریب کانام ہے
اگر جمہوریت کا اصل چہرہ دیکھنا ہے تو تاریخ کے ورق پلٹ کر دیکھیں خلفائے راشدین کے دور کو پڑھیں خاص طور پر عہد فاروقی کو پڑھیئے اپ کو جمہوریت کا اصل اور روشن چہرہ دیکھنے کو ملے گا
روم ,ایران ,بیت المقدس ,مصر ,سکندریہ کی شاندار فتوحات ,ملکی اور فوجی اصلاحات کے علاوہ مذہبی احکام کی روشنی میں ایک ایسا عادلانہ اور جمہوری طرز حکومت نظر اتا ہے جسکی نظیر اج بھی ممکن نہیں

قیصر و کسریٰ ہوئے زیرِ نگینِ اسلام
ان کی تسخیر کا سہرا ترے سر آتا ہے

مساوات اور برابری کی سب سے بڑی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب بیت المقدس کی فتح کے بعد اپ مفتوحہ علاقے میں اپنے خادم کے ساتھ داخل ہوئے اور اس وقت اونٹ پر سواری کی باری خادم کی تھی
چشم فلک ایسا نظارہ دیکھنے کے لئے
اج بھی منتظر ہے کہ :
ائے تھے ایک دن میرے گھر ائے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر ائے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر “عمر “ائے تھے

“جمہوریت ” حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نظام حکومت کی اصل روح تھی
ہر کام صحابہ کرام کے مشورے سے کیا جاتا خاص حالات میں عام مسلمانوں سے بھی رائے لی جاتی
عہد فاروقی شوری کا بہترین دور گنا جاتا ہے شوری میں اہم معاملے پر بحث کرنے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے عام مسلمانوں کے سامنے رکھا جاتا
سوچ بچار اور عوام کی رائے لینے کے بعد اخری فیصلہ کیا جاتا
جنگ قادسیہ کے وقت حضرت عمر فوج کی کمان خود سنبھالنا چاہتے تھے لیکن مجلس شوری اسکے حق میں نہیں تھی مسجد میں عام مسلمانوں سے رائے لی گئ انہوں نے بھی شوری کے دلائل سے اتفاق کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا اور لشکر کی کمان حضرت سعد بن ابی وقاص کے سپرد کردی

حضرت عمر فاروق کا عدل وانصاف ضرب المثل ہے انصاف کے معاملے میں وہ کسی سے کوئ رعایت نہیں برتتے تھے
انصاف کے محکمے کو قضاء کا محکمہ کہا جاتا ۔قاضی تمام مقدمات کا فیصلہ قرانی احکامات کی روشنی میں کرتے کسی معاملے میں قران خاموش ہوتا تو حدیث کی پیروی کی جاتی ضرورت پڑنے پر اجتہاد سے کام لیا جاتا
قاضی منتخب کرنے کے لئے انتہائ احتیاط سے کام لیا جاتا۔علم تقوی ۔امانت اور دیانت کو مدنظر رکھا جاتا
صرف معزز لوگ ہی اس منصب کے اہل تھے
پولیس کے محکمے کی بنیاد رکھی
محکمہ مال گزاری کی بنیاد رکھی
حقیقی مشاورت انکے عہد کی سب سے بڑی خوبی جو ہر معاملے میں نظر اتی ہے
جسمیں صحابہ کرام ,اہل علم اور عام مسلمان یکساں اہم نظر اتے ہیں
ہر مسلمان کو ازادئ رائے اور حکومت پر تنقید کا پورا حق حاصل تھا
اپ معمولی انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اپکی خدمت میں جانے کے لئے کوئ روک ٹوک نہیں تھی وہ سب کی شکایات سننے کے لئے تیار رہتے تھے بلکہ راتوں کو اٹھ کر عوام کی خبر گیری بھی کرتے یہاں تک کہ دریائے فرات کے کنارے ایک بھوکے کتے کے لئے بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے
اج کی جمہوریت اس احساس سے بہت حدتک عاری ہے
حکام کی تعیناتی کے وقت انکے مال واسباب کی فہرست تیار کی جاتی منصب کے اختتام یا تعیناتی والے علاقے سے واپسی پر سامان فہرست سے زیادہ ہونے پر باز پرس کی جاتی اور زائد مال ضبط کرکے بیت المال میں داخل کردیا جاتا
یہ منصب سے تجاوز کرنے پر احتساب کی بہترین مثال ہے جس میں کسی سے کوئ رعایت نہیں کی جاتی
ملک عزیز میں تو انصاف ہی ناپید ہوچکا
حج کے موقع پر اعلان کیا جاتا کہ جس عامل کے خلاف شکایت ہو اسے پیش کیا جائے
شکایت کی تحقیق کی جاتی اور قصوروار عامل کو مجمع عام میں سزا دی جاتی اور عہدے سے معزول کردیا جاتا
کاش یہ چلن ہم بھی اپنالیں
عوامی بہبود کے کاموں کی ایک طویل فہرست عہد فاروقی میں نظر اتی ہے جسمیں مسافر خانے ,سڑکیں ,پل ,چوکیاں ,حوض اور متعدد نہریں بھی شامل ہیں
اپکے دور میں تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دی گئ تعلیم مذہبی نوعیت کی ہوتی تھی اپکے فوجی افسروں کی فہرست میں بھی ممتاز علماء کے نام پائے جاتے ہیں
معلم ,موءذن ,امام اور قاری سب کی تنخواہیں مقرر تھیں
فوج کاباقاعدہ محکمہ تھا
“ریزرو فوج “بھی موجود تھی جسے بوقت ضرورت بلایا جاتا تھا
عہد فاروقی نا صرف فتوحات بلکہ فلاح عامہ اور تہذیب وتمدن کا بھی درخشاں باب ہے جسے ایک نشست میں مکمل کرنا ممکن نہیں
لیکن جمہوریت کا یہ حسن مزید نکھرنے کی بجائے ہمارے معاشرے میں جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کیا جاتا ہےاور عوامی نمائندے عوام کی دسترس سے دور کسی اور ہی سیارے کے باسی لگتے ہیں حقیقی جمہوریت اور اسکے ثمرات اج بھی ہمارے لئے ایک سہانا خواب ہیں اور کچھ نہیں

‎@Nucleus_Pak

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: