جعلی پیروں کا پوسٹ مارٹم

‏” پیروں کا پوسٹ مارٹم
ویسے تو یہ لطیفہ ہے کہ ایک میراثی کے گھر ایک پیر صاحب آیا کرتے تھے
میراثی کی بیوی بھی پیر صاحب کی مرید تھی اور خیر سے خوبصورت بھی تھی، لہذا پیر صاحب اپنی مریدنی کا خاص خیال رکھتے اور جب بھی آتے ہفتوں قیام رہتا
ایک بار جب پیر صاحب کچھ دن رہ کر واپس جانے‏لگے تو میراثی نے ہاتھ باندھ کر ادب سے کہا :
” سرکار ! اگاں توں نہ آیا جے ساڈا ہن گھر دا پیر جمن آلا اے

اشتہارات


Qries


میں نے جب حق کی کھوج کیلئے مرشد کامل کی تلاش شروع کی تو گلی گلی میں ایسے پاکھنڈیوں کو بیٹھا پایا
کچھ قبرستانوں میں ڈیرے جما کر بیٹھے تھے تو کچھ درباروں کے آس پاس اڈے سجا کر ‏بیٹھے تھے
چند تعویزات ،گنڈے اور جنتر منتر سے اپنا دھندہ چلا رہے تھے
مخلوق خدا کو بیوقوف بنانا اور پھر مال بنانا ان سب کا مشترکہ مقصد تھا
کچھ اچھے لوگ بھی تھے مگر اکثریت رانگ نمبرز کی ہی تھی
اگر ان سب کا تفصیلاً احوال بیان کروں تو پوری ایک کتاب لکھنی پڑ جائے
ایک اور چیز جو ان ‏میں مشترک تو وہ عیاری تھی
یعنی ڈرا کر بھولے بھالے لوگوں کو اپنے جال میں پھسا لینا
اور ان کا آسان شکار بدقسمتی سے خواتین ہی ہوتی ہیں
جو اپنی ضعف الاعتقادی کی وجہ سے جلدی ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتی ہیں
بے روزگار اور معاشی طور پر کمزور طبقہ ان کا سب سے بڑا گاہک ہے
اور دوسرا ‏گھریلو سیاست کھیلنے والی خواتین جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتی تھی
میں خود جب لاہور میں ایک استاد کے پاس تعویز دھاگہ سیکھتا تھا تو کچھ خواتین ایسی ایسی آفرز کرتی تھی کہ کانوں سے دھواں نکل جاتا تھا
اور بدلے میں وہ کیا چاہ رہی ہوتی تھیں کہ فلاں کو طلاق ہو جائے
فلاں ہمارے گھر سے چلا جائے
فلاں کا کاروبار بیٹھ جائے
یہ سب حسد کے شاخسانے ہوتے تھے
اور میں کانپ کر رہ جاتا تھا
کچھ لوگ ایسے بھی آتے تھے جو کسی کے ظلم کا شکار ہوتے تھے
ان پر جادو ٹونے کا سخت وار ہوتا تھا
جن کا علاج کلام اللہ سے ہو جاتا تھا
مگر رانگ نمبرز پیر ‏اور عامل اس کا خوفناک معاوضہ وصول کرتے تھے
مولویوں اور سانپوں کی طرح پیروں کی بھی بے شمار قسمیں ہیں
سب سے بڑے پیر وہ ہیں
جو بڑے بڑے بزرگوں کی اولادیں ہیں
برصغیر پاک و ہند میں دین کی تبلیغ کی غرض سے آنے والے بزرگانِ دین کے مزارات اگرچہ ان کے نشانات کے طور پر بنائے گئے تھے تاکہ ‏ان کی یاد باقی رہے اور مخلوق خدا ان اولیا اللہ کے وسیلے سے خدا کی رحمت حاصل کرتی رہے
مگر بدقسمتی سے ایک دو نسلوں بعد ہی ان کی اولادوں نے آگے اسے بہت بڑا دھندہ بنا لیا
مفت میں ہاتھ آئی دولت ،لاکھوں عقیدت مندوں کی فوج نے ان کا سیاسی اثر و رسوخ قائم کیا
اور یہ کنگ میکر بن گئے ‏اب بھی یہ مختلف پارٹیوں میں رہ کر ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں
ان کے آبائی گھر تو ان کے بڑوں کے مزارات کے ساتھ ہی ہیں
کہ روزی کے اصل اڈے وہ ہیں
مگر ان سب نے بڑے شہروں میں پر تعیش رہائش گاہیں بنا رکھی ہیں
جہاں مریدوں کے نذرانے سے عیاشی کی جاتی ہے
اور ان میں وہ ساری بد عادتیں پائی ‏جاتی ہیں
جن کے خلاف ان کے بڑے ساری زندگی جہاد کرتے رہے
اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس بھاری نذرانہ یا تگڑی سفارش ضروری ہے
غریب آدمی کو منہ لگانا تو دور کی بات یہ ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتے
انہیں اچھوت سمجھ کر ان سے دور رہتے ہیں
ان پیروں اور گدی نشینوں کا مگر اسلام کی ‏تعلیمات اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ صرف اور صرف اپنے بزرگوں کے نام بیچتے ہیں
اور صدیوں سے بیچ کر کھا رہے ہیں
صرف اکا دکا آپ کو ایسے ملیں گے جو خوف خدا رکھتے ہیں
اور عاجزی و انکساری کے پیکر نظر آتے ہیں
پیروں کی دوسری قسم شوقیہ پیروں کی ہے جنہیں ہاتھ پیر چموانے اور پروٹوکول لینے کا شوق ہوتا ہے
یہ کسی بڑے پیر صاحب کی کچھ عرصہ خدمت کرتے ہیں
پھر خلافت لے کر فرنچائز کھول کر بیٹھ جاتے ہیں
اور بس پھر ان کی مسند ہوتی ہے
بیوقوف جاہلوں کا ان کے گرد ایک ہجوم ہوتا ہے اور یہ کسی سلطنت کے بادشاہ جیسی زندگی گزارتے ہیں
چونکہ کام ہوتا کوئی نہیں
اور پیسہ مفت میںآتا ہے ۔اس لئے رنگ سرخ ہو جاتا ہے
مرید سمجھتے ہیں ان کے پیر صاحب بڑی نورانی شخصیت ہیں
ان کے پاس دھندہ چلانے لائق علم ہوتا ہے، جس سے لوگ ان کے جال میں پھنسے رہتے ہیں
ایسے ہی جعلی عامل اور پیر بھی عام ہیں جن کے جگہ جگہ آستانے قائم ہیں
خاندانوں کے خاندان مرید ہیں
سالانہ فتوحات کیلئے نکلتے ہیں
اور موجیں کرتے ہیں
اکثر پیران عظام کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں
جن پہ وہ غریب مریدوں کے گھر پورے لاؤ لشکر کے ساتھ جاتے ہیں
ان سب پیروں کا کام دو وجوہ سے چلتا ہے، ایک تو جہالت اور دوسرا خوش عقیدگی
یعنی بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے محبت رکھنے والا شخص ‏ان کی اولاد سے محبت بابا فرید کی نسبت سے کرتا ہے
مگر یہ صاحبزادہ اس محبت کو اپنا حق سمجھ کر اسے کیش کرتا ہے
اب آپ یہ بھی جان لیں کہ کیا پیر و مرشد لازم ہے ؟
یا بیعت کرنا ضروری ہے ؟
اصل پیر و مرشد کو کیسا ہونا چاہئے ؟
تو عزیز قارئین !
حق تو وہی ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے بیان ‏فرما دیا یا عملی طور پر کر کے دکھا دیا
مرشد کا معنی ہادی و رہبر ہے
یعنی آپ کو ہدایت دینے والا، سکھانے والا
اور یہ بعین اسی طریقے پہ کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام اور اس وقت کے مسلمانوں کو سکھاتے تھے، تعلیم و تربیت کا وہی طریقہ ہے
یعنی ایجوکیٹ کرنا اور اچھا ‏انسان بنانا
بیعت لینے کا بھی وہی مقصد ہے جو رسول اللہ ﷺ کا تھا
یعنی اطاعت کرنا اور حق پہ کھڑے رہنا
اور بیعت کا طریقہ بھی وہی ہے
جو نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا
اور جو قرآن میں لکھا ہے
یعنی ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا
جیسا کہ نبی کریم ﷺ کرتے تھے اور اطاعت کا وعدہ لیتے تھے‏عورتوں کو بیعت کا طریقہ یہ تھا کہ انہیں ایک رسی پکڑا دی جاتی
جس کے بعد ان سے عہد لیا جاتا
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی کہ وہ اپنے بچوں کو قتل نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی،جھوٹ نہیں بولیں گی
اب بھی یہی طریقہ ہے
ایک کامل پیرو مرشد اسی طریقے پر بیعت لیتا ہے کہ مرید اللہ و رسول ﷺ کے احکامات کی مکمل پابندی کرے گا
شرعی حدود کا خیال رکھے گا
اور پھر مرید کی طلب کے مطابق اسے علم عطا کیا جائے گا
اگر طالب دنیا ہے تو اسے دنیا میں رہنے کے آداب سکھائے جائیں گے
اور اگر طالب حق ہے تو اسے اس کی استعداد کے مطابق اللہ کی معرفت عطا کی جائے گی
اس سب کیلئے‏مگر پیرو مرشد کا خود صاحب علم و عمل ہونا ضروری ہے
اگر کوئی شخص قرآن و سنت پہ مکمل عمل نہیں کرتا تو وہ بھلے ہوا میں اڑتا ہو
جھوٹا ہے
ایک پیر و مرشد کو بعین نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق چلنا پڑتا ہے
وہ ویسے ہی مخلوق کو آپس میں جوڑتا ہے،لوگوں کو اپنی طرف نہیں اللہ و رسول ﷺ کی طرف بلاتا ہے
مخلوق خدا کی خدمت کرتا ہے
اور لوگوں میں گھل مل کر بیٹھتا ہے
اس میں تکبر کا شبہ تک نہیں ہوتا
کثرت سے رونے والا ہوتا ہے
راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا ہے
تہجد گزرا ہوتا ہے
پیسے کے لالچ سے پاک ہوتا ہے
مخلوق کو کھلا کر خوش ہوتا ہے
مریدوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا ہے، ‏کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
مریدوں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرتا ہے
لوگوں کو اللہ کے قریب کرتا ہے
مختصر ہر وہ کام کرتا ہے
جو رسول کریم ﷺ اور مولا علی علیہ السلام نے کیا ہو
علم سکھانے کا بھی وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو نبی کریم ﷺ نے مولا علی علیہ السلام ‏سکھانے کیلئے کیا
اور مولا علی علیہ السلام نے آگے خواجہ حسن بصری کو سکھایا
کامل پیر و مرشد کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مرید یا سائل سے اس کے مزاج کے مطابق گفتگو کرے گا
اور جو ان سب سے ہٹ کر ہے
وہ جو کوئی بھی ہو
جیسا بھی ہو
کتنا ہی بڑا نام کیوں نہ ہو
جھوٹا اور رانگ نمبر ہے یہاں ایک علمی مسلہ سمجھ لیں
خط اور ای میل وغیرہ کے ذریعے بیعت نہیں ہوتی ہے
کراچی کا ایک بڑا رانگ نمبر جو کہ ناصبی بھی ہے
اس نے اس طریقے سے لاکھوں لوگوں کو گمراہ کیا ہے
جن کا پتہ نہیں کیا بنے گا
اور یہ بھی یاد رکھیں
کہ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت اور خلفائے ثلاثہ اور امہات المومنین ‏سے کسی بھی حوالے سے بغض رکھنے والا بھی رانگ نمبر ہے
خصوصاً اہل بیت کا دشمن تو مسلمان بھی نہیں ہے
کجا یہ کہ آپ اسے کوئی ولی اللہ یا پیر ہی مان لیں
اور اگر آپ کو کوئی کامل پیرو مرشد نہیں ملتا
تو اپنے والدین کی خدمت کریں
پانچ وقت نماز پڑھیں
رزق حلال کھائیں
بس بیڑہ پار ہے !

اشتہارات


Qries


Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: