ڈوبتا ہوا ستارہ تحریر شہاب ثاقب

اک شام اور اختتام۔
ایک شام ہو سار دن ذہن میں نقش ہو بے بس ہو ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کی تلاش میں ہو۔

آخری شام شروع ہونے والی ہو زندگی تمام ہونیوالی ہو چند

اشتہارات


Qries

سانسوں کا مہمان ہو صاف آسمان ہو خوشبوؤں سے لبریز چلتی ہوا زندگی کا واحد سہارا ہو۔

روشن ستارے کی تلاش میں ساری عمر گزاری ہوئ ہو اکیلا ہو۔ تمام زندگی میں یہ شام منفرد اور روشنیوں سے منور ہو۔ اسی شام کے طویل ہونے کے انتظار میں اور وقت گزارنے کی تلاش میں ہو۔
سونے لگے نیند کا نام و نشان تک باقی نہ ہو چند اوراق اس کے گرد پڑے ہوئے چند اوراق اپنے اندر الفاظ لکھنے کے انتظار میں وقت کی تمام آزمائشوں سے گزرے ہوئے ہوں۔ قلم میں دوات کے چند قطرے ان کے آخری الفاظ کے محتاج ہوں۔

نہ چاہتے ہوئے بھی ہمت کرتا ہے ایک اور کوشش کرتا ہے۔ سب کچھ ختم کر چکا ہوتا ہے سب کچھ لکھ چکا ہوتا ہے۔ذہن میں کچھ نہ ہو اوراق اور دوات کے شدید انتظار اس کو چند اور الفاظ لکھنے پر مجبور کر رہے ہوں۔وقت کے گزرنے کی رفتار سست ہو چکی ہوتی ہے۔
آخری شام طویل ہو چکی ہوتی ہے اوراق کے روگردانی ساری زندگی میں نہیں کی تھی آج اصولوں اور قانون کے اوپر کاربند ہوکر زندگی کا اختتام آخری خواہش تھی۔ قلم اٹھایا اوراق کِھل اٹھتے ہیں ان میں نئ روح پیدا ہوچکی ہوتی ہے۔ قلم میں نئ زندگی کے آثار پیدا ہوچکے ہوتے ہیں تینوں اپنا اختتام اکٹھے کرنا چاہتے ہیں یہی تینوں کی منشا ہوتی ہے۔ چلو اب نئے اور آخری سفر کی جانب گامزن اپنا رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔
سفر شروع ہوچکا ہوتا ہے وقت انگڑائی لیتا ہے رفتار میں اضافہ کرتے ہوئے الفاظ کی رفتار میں بھی اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ساری زندگی میں گزری ہوئی تمام یادگار دن اور لمحات قلمبند ہوچکے ہوتے ہیں۔ آخری شام رہتی ہے ایک سانس رہتی ہے ایک ورق رہتا ہے ایک دوات کا قطرہ رہتا ہے شام گزر چکی ہوتی ہے۔
سورج اپنے آمد کی اطلاع دے چکا ہوتا ہے اوراق اپنے اختتام کیلئے دوات اور قلم اپنے اپنے اختتام کیلئے تیار ہوچکے ہوتے ہیں۔ آخری ورق میں چند الفاظ ان کے آخر خواہش لے کر اختتام کو پہنچنے والے ہوتے ہیں۔
آخری شام شروع ہوتی ہے ستاروں کی تلاش میں نئ زندگی کی تلاش میں منفرد ستارہ اور اس کی منفرد روشنی جسے ساری زندگی تلاش کرنے میں مصروف رہا۔ منفرد انداز میں میرے اعزاز میں اور اختتام میں جب میرے الفاظ ختم ہوچکے تھے۔

میرا قلم میرا ساتھ چھوڑ چکا تھا اوراق اختتام پذیر ہوچکے تھے۔زمین پر میرے ذہن پر ایک نقش اور فقط ایک الفاظ کے ساتھ ہم کلام اور اختتام پذیر ہوا۔
دونوں کو ایک دوسرے کی تلاش میں زندگی گزری ہوئی ہوتی ہے دونوں کو ایک دوسرے کا انتظار تھا۔وہ بھی اختتام اور ڈوبنے سے پہلے آخری دیدار کیلئے آیا تھا۔کیونکہ وہ اور یہ دونوں ڈوبنے جا رہا تھے۔

اشتہارات


Qries

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: