ہم اندھی قوم کیوں بنتے جارہے ہیں؟ | عبدالمتین کوہستانی

ہم اندھے قوم کیوں ۔۔۔۔!!!!1970 میں جنرل یحیی خان کی حکومت کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان نے انڈونیشیا کی خاتون زھرہ فونا کو نہایت احترام سے پاکستان لائے تھے۔ (جس کا دعویٰ تھا کہ حضرت مہدی علیہ السلام میرے پیٹ میں پل رہا ہے اور دن میں 5 بار اذان دیتا ہے اور تلاوت بھی فرماتے ہیں جسکی آواز پیٹ سے باھر سنی جاسکتی ہے) پاکستان میں زھرہ فونا کا پورے مذھبی جوش و خروش سے استقبال کیا گیا۔

اس وقت کے جید علماء کرام شیوخ عظام نے ان سے ملاقات بھی

اشتہارات


Qries

کی۔ اور خاتون کے پیٹ مبارک سے اپنے اپنے کان مبارک لگا کر تلاوت قرآن کی سماعت کی سعادت بھی حاصل کی۔اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی انکے پروگرام عقیدت و احترام سے کیئے گئے۔۔جب مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ کے جانے کی خبر لگی تو غدار عوامی لیگ کے ناعاقبت اندیشی علماء نے سخت مزاحمت کرنے کا اعلان کیا تو ڈھاکہ جانے کا پروگرام منسوخ کیا گیا اور کراچی شہر میں ایک بڑے میدان میں مہدی کی والدہ کی امامت میں جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا گیا۔

امامت کے مصلے پر وہ خاتون قبلہ کی جانب پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئ اور مائیکروفون مخصوص مقام پر فٹ کیئے گئے۔جمعہ کی نماز ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔۔ان مقتدین میں اگر 10/12 علماء کے نام لکھ دیئے جائیں تو حیرت سے منہ کھلا رہ جائے گا۔جب یہ تماشا جاری تھا تو کراچی یونیورسٹی کے پروفیسرز اور جناح ھسپتال کے ڈاکٹر بھی اس پروگرام کے مخالف تھے۔

گورنر ہاؤس کراچی میں ڈنر کے بعد محترمہ زھرہ فونا کو فوڈ پوائزننگ ہو گئ انہیں ھسپتال لے جایا گیا جناح ھسپتال کے ڈاکٹروں نے انکا معائنہ کیا اور محترمہ کی ٹانگوں کے بیچ سے منی ٹیپ ریکارڈر نکال کر ڈرامہ کو اسکے انجام تک پہنچایا۔

۔زھرہ فونا کو لانے والے اسے کھوکھراپار کی سرحد سے انڈیا کی طرف پار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔بعد میں انڈونیشیا میں ایک عدالتی کاروائی کے نتیجے میں اسے 10 سال قید کی سزا ہوئی اور اسکے شوہر کو 7 سال کی سزا ہوئی

۔پاکستان میں ناخواندہ لوگوں کی کثرت ہے اور اس حکیم طبیب دم درھہ والے کی استقبالیہ تقریب سپیکر اسد قیصر کی رہائشگاہ پر بھی منعقد ہوئی ہے۔۔اس ملک میں پیر سپاھی کے نام پر دم کے ذریعے کینسر ختم ہونے کے ڈرامے بھی ہوچکے ہیں اور خیبر پختونخوا کے پختون تو ماشاءاللہ اس بارے میں چیمپیئن ہیں کہ یہاں گزشتہ 10/12 سال میں بنوں سے لیکر چترال تک اور حویلیاں سے لیکر تورخم تک دم درھہ سے کینسر فالج وغیرہ کا علاج کرنے والے بچے خواتین مرد بزرگ وقتا فوقتاً ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور کچھ عرصے بعد معدوم ہوجاتے ہیں۔

علماء کرام صاحبان کا فرض ہے کہ وہ انتباہ کا پیغام دیدیں۔ اتمام حجت لازم ہے۔جؤ مان گیا وہ مان گیا۔جو نا مانے اس کو ضرور با الضرور منوانا علماء کرام، پر واجب نہیں۔کیونکہ ہدایت نصیب کرنا الله تبارک تعالیٰ کے اختیار میں ہے کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔یہ اس دور کا نیاں فتنہ ہے، سب مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اللّٰه رب العزت ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین،

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: