قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ سرکاری زمینوں پر قابض قبضہ گروپوں کے لئے بری خبر

‏حکومت پاکستان جاگ گئی..!

ڈیڑھ سال پہلے وزیراعظم پاکستان نے تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملک بھر میں سرکاری زمین کا ریکارڈ اکٹھا کریں اس سلسلے میں سیٹلائٹ کی بھی مدد لی جائے.

اشتہارات


Qries

چناچہ اب تک اس مہم کے تحت ملک کے 88 فیصد رقبے کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے. اعدادوشمار کے مطابق ‏وفاقی حکومت 2 کروڑ ایکڑ رقبے کی مالک ہے.

جس میں 8 لاکھ 24 ہزار سے زائد ایکڑ پر ناجائز قبضہ ہوچکا ہے. جسکی مالیت کا تخمینہ 5595 ارب روپے لگایا گیا ہے. بیشتر رقبے پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن چکی ہیں. سب سے زیادہ محمکہ جنگلات متاثر ہوا ہے.

جسکے پاس ملک بھر میں 71 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ ‏ہے جس میں سے 6 لاکھ ایکڑ سے زائد پر قبضہ ہے. جسکی مالیت 1000 ارب روپے سے زائد ہے. متعدد قبضے چھڑا لئے گئے ہیں لیکن 3 میگا قبضے چھڑانا باقی ہیں. جن میں سب سے بڑا قبضہ شہید بینظر آباد میں ہے جہاں 15 ہزار ایکڑ رقبے کے جنگل میں سے 10 ہزار پر قبضہ ہے. جو جنگل کا 70 فیصد بنتا ہے. راولپنڈی میں تخت بھری نامی جنگل ہے جسکا رقبہ 2200 ایکڑ سے زائد ہے جس میں سے 700 ایکڑ پر قبضہ ہوچکا ہے.

جبکہ لاہور میں بلوکی کے مقام پر 2500 ایکڑ کے جنگل پر ن لیگ کی پھول فیملی نے قبضہ کررکھا تھا جسے واگزار کروا لیا گیا ہے. مظفر گڑھ میں لاشاری والا کے مقام پر 3 ہزار سے زائد ایکڑ ‏رقبے کا جنگل بھی واپس سرکاری تحویل میں لیا جاچکا ہے. سب سے زیادہ قبضہ پنجاب حکومت نے چھڑوایا ہے جو 1 لاکھ 70 ایکڑ سے زائد ہے جسکی مالیت 470 ارب سے زائد بنتی ہے. ریلوے کے پاس ڈیڑھ لاکھ سے زائد ایکڑ رقبہ ہے جس میں سے 8 ہزار سے زائد ایکڑ پر قبضہ ہے جسکی مالیت 300 ارب روپےسے زائدہے.

‏ان زمینوں میں پرائم لوکیشنز بھی شامل ہیں. سول ایوی ایشن کی 800 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے جسکی مالیت 97 ارب ہے. نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 50 ارب روپے سے زائد کی زمین پر مافیا قابض ہے. قیام پاکستان سے جو زمین ہندو و سکھ چھوڑ گئے تھے اسکی مالیت کا اندازہ 90 ارب سے زائد بنتا ہے.

باقی سب محکموں کی کل قابض شدہ زمین کی مالیت کا اندازہ 500 ارب روپے لگایا گیا ہے. بڑے قبضے مافیہ شہروں میں کراچی لاہور اور اسلام آباد سرفہرست ہیں جہاں 2000 ارب سے زائد کی زمین پر مافیا قابض ہے. اس تمام رقبے کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کی زمینوں کی میپنگ کرکے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ‏باقی ہے.

بحثیت قوم ہمیں سوچنا چاہیے کہ قبضہ مافیا ہمیشہ ایوانوں میں رہتے ہیں جو ہماری سانس کی وجہ یعنی جنگل بھی ہم سے چھین رہے ہیں. موجودہ حکومت کی یہ کوشش یقیننا صدقہ جاریہ ہے اور ٹرو جرنلزم دعاگو ہے کہ تمام رقبہ جو جنگل تھا دوبارہ ہرا بھرا ہوجاے گا.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: