حکومت اور پیٹرول پمپ ڈیلرز کے درمیان مذاکرات کامیاب پمپس کھلنے لگے

حکومت کے درمیان مذاکرات طے پاگئے ہیں جس کے بعد پمپ مالکان ہڑتال ختم کرنے پر راضی ہوگئے جس کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ۔

اشتہارات


Qries


اس حوالے سے وزارت توانائی نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈیلر مارجن میں نناوے پیسے فی لیٹر اضافے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے ننانوے پیسے اضافے کی منظوری لے گی جب کہ چھ ماہ بعد مارجن میں مہنگائی کے تناسب سے ردو بدل پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے دوران ڈیلرز کو حتمی جواب دیا تھا کہ وہ 99 پیسے سے زیادہ مارجن نہیں بڑھا سکتے اب مزید ہڑتال جاری رکھنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلرز ایسوسی ایشن حکومت کے اس جواب کے بعد ہڑتال ختم کرنے پر راضی ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن پر ششماہی بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، ڈیزل پر مارجن 3.30 سے بڑھا کر 4.13 روپے مقرر کیا جائے گا جب کہ پیٹرول پر مارجن 3.91 روپے سے بڑھ کر 4.90 روپے کردیا جائے گا۔

اس حوالے سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے اپنی رہائش گاہ پرایسوسی ایشن کے دیگر عہدے داران کے ساتھ پریس کانفرنس میں ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی پریشانی کا احساس تھا اور بہت مجبوری میں یہ قدم اٹھانا پڑا، ہم نے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے موقف میں لچک دکھائی اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 4.4 فیصد کرنے کی یقین دہانی کی بعد ہڑتال ختم کردی ہے۔

ان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے مارجن میں اضافہ کی سمری میں پیٹرول اور ڈیزل پر موجودہ مارجن میں 25.20 فیصد اضافہ کی تجویز دی ہے جس کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز کا پیٹرول پر مارجن 3.91 روپے سے بڑھ کر 4.90 روپے جبکہ ڈیزل پر 3.30 سے بڑھ کر 4.13 روپے مقرر کرنے کی حکومتی یقین دہانی کرائی گئی ہے، پیٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن پر ششماہی بنیادوں پر نظر ثانی کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

دریں اثنا ہڑتال ختم ہونے کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں پٹرول پمپس آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوگئے۔

رضوان احمد

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: