ہندو مذھب کی پرانی کتابوں میں نبی کریمﷺکا ذکر

انسان ہمارے رب سبحان و تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے اور دوسری مخلوقات پر اس کا سب سے عمدہ ہونا اور اشرف ہونا عقل اور آزادانہ مرضی کی وجہ سے ہے جس کو تخلیق کار نے ان کو عطا کیا ہے۔

چونکہ اس آزادانہ مرضی یا خواہش کو اس دنیا میں اچھے یا برے طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے ، اس لئے انسان کو اپنے معاملات کو اس دنیا میں انجام دینے کے لئے الہی ہدایت کی ضرورت ہے تاکہ وہ کامیابی حاصل کرسکیں۔ بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لئے الٰہی ہدایت کے لئے ، رب سبحان و تعالیٰ نے وقتا فوقتا قوموں میں سے انکے لئے رسولوں اور نبیوں کے لئے خاص  بندوں کا انتخاب کیا۔

جب سے انسان نے اس زمین پر قدم رکھا ہے تب سے مختلف اقوام میں متعدد نبی آئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں ہدایت دینے والا بھیجا ہے ، اور پھر اللہ تعالیٰ نے  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرب میں بطور آخری نبی اور رسول بھیجا جو کہ نہ صرف عرب بلکہ پوری انسانیت کے لیے بطور ہادی تشریف لائے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک آنے والی پوری دنیا کی اقوام کے لئے بطور رحمت اور ہدایت بھیجے گئے ہیں

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پہلے ہی مختلف انبیاء پر نازل کردہ تمام صحیفوں اور کتابوں میں تذکرہ موجود ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کے لئے حتمی رسول و نبی کے طور پر تشریف لانا تھا۔

جیسا کہ تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل جو حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ہیں، ان میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیکر بطور آخری نبی و رسول ذکر کیا گیا ہے۔

لیکن یہ تو وہ کتابیں ہیں جو دینِ ابرہیم علیہ السلام کی شاخ سے ہیں اور چونکہ اسلام بھی دین ابرہیم علیہ السلام میں سے ہیں, اس لیے ان میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہونا شاید عام بات سمجھی جائے گی، کیونکہ اسلام دین ابرہیم کے سلسلے کا ہی آخری حصہ ہے۔ لیکن کیا ہو کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ نہ صرف  عیسائیت اور یہودیت کی الہامی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا ذکر بطور نام موجود ہے،بلکہ ہندؤں کی ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں بھی بطور نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی پیشنگوئیاں ملتی ہیں؟ کیا یہ آپ کے لئے واقعی حیرت انگیز بات نہ ہوگی, کہ بت پرست قوم کی ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں توحید کا ذکر ہورہا ہے اور توحید کے آخری داعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بطور نام موجود ہے۔


آئیے اب ہم ان ہندؤ کتابوں میں موجود ان حصوں پر بات کرتے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پیشنگوئیاں ملتی ہیں۔


:بھویش پُرانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر

بھویش پُرانہ میں پارتی سرگ پرو تھری ،کھنڈ 3،اڈھے 3،اشلوکا 5 سے 8 کے مطابق۔

ایک ملیچا (سنسکرت:جو کسی بیرونی ملک سے ہے اور غیر ملکی زبان بولنے والا ہے) روحانی استاد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ اس کا نام محمد (ص) ہوگا۔راجہ (بھوج) نے اس مہا دیو عرب کو (فرشتہ ظاہر کرکے) پنچویہ میں  اور گنگا کے پانی میں غسل دینے  (یعنی اسے تمام گناہوں سے پاک کرنے)  کے بعد  اپنے خلوص کے ساتھ  پوری عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں کہا “اے آپ!  بنی نوع انسان کے فخر ، عرب میں رہنے والے ، آپ نے شیطان کو مارنے کے لئے ایک بہت بڑی قوت اکٹھی کی ہے اور آپ خود بھی اپنے مخالفین سے محفوظ رہے ہیں”. 

اس پیش گوئی میں واضح طور پر مندرجہ ذیل باتیں بیان کی  گئی ہیں:

“نمبر 1:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بطور “محمد

نمبر2:ان کا تعلق عرب سے ہوگا۔  سنسکرت کا لفظ ماروستھل کا مطلب زمین یا صحرا کی ریتیلی پٹری ہے۔

نمبر3:نبی صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ کسی اور نبی کے اتنے صحابہ نہیں تھے جتنے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔

اس میں انہیں انسانیت کا فخر کہا ہے۔  قرآن پاک نے اس کی تصدیق کی ہے۔

اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں سورت 68 آیت 4.

 فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اللہ  ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات )  میں نہایت ہی حسین نمونۂ  ( حیات )  ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ  ( سے ملنے )  کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے

سورت 33 آیت 21

نمبر4:وہ شیطان کو مار ڈالیں گے ، یعنی بت کی پوجا اور ہر طرح کے برائیوں کو ختم کردے گے۔

نمبر5:نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دشمن سے تحفظ دیا جائے گا۔

کچھ لوگ یہ استدلال کرسکتے ہیں کہ پیشن گوئی میں مذکور ’راجہ بھوج‘ 11 ویں صدی عیسوی میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے 500 سال بعد پیدا ہوا تھا اور وہ راجہ شالیوہان کی 10 ویں نسل میں سے تھا۔یہ لوگ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ بھوج نام کا صرف ایک ہی راجا نہیں تھا۔ جیسے مصری بادشاہوں کو فرعون کہا جاتا تھا اور رومن کنگز کو قیصر کے نام سے جانا جاتا تھا ، اسی طرح ہندوستانی راجوں کو بھوج کا خطاب دیا جاتا تھا۔یہاں کئی راجا بھوج تھے جو 11 ویں صدی کے راجہ سے پہلے آئے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جسمانی طور پر پنچویہ اور گنگا کے پانی میں غسل نہیں لیا تھا۔چونکہ گنگا کا پانی مقدس سمجھا جاتا ہے ، لہذا گنگا میں نہانا ایک محاورہ ہے ، جس کا مطلب ہے کہ گناہوں کو دھو ڈالنا ، یا ہر طرح کے گناہوں سے پاکی حاصل کرنا ہے۔

یہاں پیشین گوئی کا مطلب ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گناہوں سے پاک تھے ، یعنی معصوم۔بھویش پورانہ پارتی سراگ پرو تھری کھنڈ 3 ادھے3 شلوکا 10 تا 27 مہارشی ویاس نے پیش گوئی کی ہے
 ملیچا نے عربوں کی معروف زمین کو خراب کردیا ہے۔ آریہ دھرم ملک میں نہیں پایا جاسکتا۔اس سے پہلے بھی ایک گمراہ کن عجیب عفریت نمودار ہوا جس کو میں نے مارا تھا: وہ اب ایک طاقتور دشمن کے ذریعہ بھیجا گیا دکھائی دے رہا ہے۔ ان دشمنوں کو سیدھا راستہ دکھانے اور ان کی رہنمائی کے لئے ، مشہور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، پشاچوں کو سیدھے راستے پر لانے میں مصروف ہیں۔اے راجہ ، آپ کو بے وقوف پشاچوں کی سرزمین میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ جہاں بھی ہوں میری شفقت سے پاک ہوجائیں گے۔رات کے وقت ، وہ فرشتہ طبع شخص، راجا بھوج سے کہتا ہے ، “اے راجہ ، آپ کا آریہ دھرم تمام مذاہب پر غالب آ گیا ہے۔ لیکن ایشور پرماتما( یعنی خدا)  کے احکامات کے مطابق  میں گوشت کھانے والے کا مضبوط مسلک نافذ کروں گا۔  میرے پیروکار مردوں کا ختنہ کریں گے۔ ( اپنے سر پر بالوں کی)دم کے بغیر ، داڑھی رکھے ہوئے،  انقلاب کا اعلان کرتے ہوئے اذان دیں گے(یعنی نماز کے لیے)   اور تمام حلال چیزیں کھاتے رہیں گے۔ وہ سور کے علاوہ باقی جانور کھائے گے۔ وہ مقدس جھاڑیوں سے پاکیزگی نہیں لائیں گے بلکہ جنگ کے ذریعے پاک ہوں گے۔غیر مذہب قوموں کے ساتھ ان کی لڑائی کی وجہ سے وہ مسلمان کے نام سے جانے جائیں گے۔ میں گوشت کھانے والی اقوام کے اس مذہب کا ابتداء کروں گا”.یہ پیشن گوئی مندرجہ ذیل باتوں کو بیان کرتی ہے۔
نمبر1:بدکرداروں نے عرب سرزمین کو خراب کردیا ہے۔
نمبر2:آریہ دھرم عرب سرزمین میں نہیں پایا جاتا ہے۔
نمبر3:ہندوستانی راجہ کو عرب سرزمین پر جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسلمان کے ہندوستان آنے کے بعد اس کی تطہیر ہندوستان میں ہوگی۔
نمبر4:آنے والا نبی (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) آریائی عقیدہ کی اصل چھپی ہوئی سچائی  کو ظاہر کرتے  ہوئے (اس میں موجود توحید کو ظاہر کرتے ہوئے)  گمراہ لوگوں کی اصلاح کرے گا۔۔
نمبر5:نبی  کے پیروکاروں کا ختنہ کیا جائے گا۔  وہ سر پر بالوں کی دم (یعنی لِٹ ) کے بغیر ہوں گے اور داڑھی رکھیں گے اور ایک عظیم انقلاب پیدا کریں گے۔
نمبر6:وہ اذان  کا اعلان کریں گے ، یعنی ’’ نماز کے لئے”۔
نمبر7:وہ صرف حلال چیزیں اور جانور کھائے گا لیکن سور کا گوشت نہیں کھائے گا۔  قرآن نے اس کی تصدیق 4 مختلف جگہوں پر کی گئی ہے۔
سورت بقرہ کی آیت 173 میں۔ سورت المائدہ کی آیت 3 میں۔سورت الانعام کی آیت 145 میں۔سورت النحل کی آیت 115 میں۔ “تمہارے لیے کھانا حرام کیا گیا ہے مردہ گوشت ، خون ، سور کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیا گیا ہے”
نمبر8:وہ ہندوؤں کی طرح گھاس سے پاک نہیں ہوں گے بلکہ تلوار کے ذریعہ وہ اپنے غیر مسلم لوگوں کا مقابلہ کریں گے۔
نمبر9:وہ مسلمان کہلائیں گے(لفظ مسلمان ہوبہو کئیں جگہ استعمال کیا گیا ہے)۔
نمبر10:وہ گوشت کھانے والی قوم ہوں گے۔بھویش پورانہ ، پرو تھری کھنڈ 1 اڈھے 3 شلوکا 21-23 :کے مطابقکاشی ، وغیرہ کے سات مقدس شہروں میں بدعنوانی اور” ظلم و ستم پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں راکھشس ، شابر ، بھیل اور دوسرے بے وقوف لوگ آباد ہیں۔ ملیچا کی سرزمین میں ، ملیچا دھرم (اسلام) کے پیروکار عقلمند اور بہادر لوگ ہیں۔ تمام اچھی خوبیاں مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں اور آریوں کی سرزمین میں ہر طرح کے وسوسے جمع ہوچکے ہیں۔ اسلام ہندوستان اور اس کے جزیروں میں حکومت کرے گا”۔ ان حقائق کو جاننے کے بعد ، “اے مونی ، اپنے آقا کے نام کا بھجن (تسبیح) کر”۔
سورت التوبہ کی آیت 33 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے ، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے ، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو ۔اسی طرح سورت الفتح کی آیت 28 میں ارشاد ہے۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے ، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے ۔ اور ( اس کی ) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے ۔


محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق رگوید میں پیشگوئی


اسی طرح کی پیشگوئی رگوید کتاب اول ، بھجن 53 آیت 9 میں بھی ملتی ہے۔

یہاں بھی سنسکرت کا لفظ سشرما استعمال کیا گیا ہے ، جس کے معنی قابل تعریف ہیں یا اچھی طرح تعریف کی گئی کے ہیں جس کا عربی زبان میں معنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق سموید میں بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔
احمد نے اپنے رب سے دائمی قانون کا علم حاصل کیا۔ میں نے اس سے روشنی اسی طرح حاصل کی جیسے سورج سے”۔ “مندرجہ ذیل باتوں کی تشریح کچھ یوں ہے۔نمبر 1: احمد چونکہ نبی کا نام احمد ہے عربی نام ہے۔ بہت سے مترجموں نے اسے غلطی میں “احم ات ہی” سمجھا اور اس منترا(آیت) کا ترجمہ کیا کہ “میں نے اکیلے اپنے والد کی اصلی حکمت حاصل کی ہے”۔نمبر 2:احمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دائمی قانون دیا گیا تھا ، یعنی شریعت۔نمبر 3: رشی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت نے روشن کیا۔ قرآن مجید میں سورت سبا کی آیت 28 میں اس ہے اور ( اے حبیبِ مکرّم! ) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ ( آپ ) پوری انسانیت کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔


پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ہندوؤں ایک اور مذہبی کتاب اتھارواوید میں پیشگوئی کی۔

اتھارواوید کی 20 ویں کتاب میں بھجن 127 کے کچھ سکتہ(یعنی ابواب) کنتپ سکتہ کے نام سے مشہور ہیں۔سنسکرت میں لفظ کنتپ کا مطلب ہے مصائب اور پریشانیوں کو ختم کرنے والا۔ اس طرح یہ امن و سلامتی کے پیغام کے معنی بھی دیتا ہے اور اگر اس کو عربی میں ترجمہ کریں تو اسکا مطلب اسلام ہے۔کنتپ کا ایک مطلب پیٹ میں پوشیدہ غدود بھی ہیں۔ ان منتروں (یعنی آیتوں) کو شاید اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل معنی پوشیدہ تھا اور مستقبل ان کا میں انکشاف ہونا تھا۔ اس کا ایک پوشیدہ معنی زمین کی ناف یا وسط نقطہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مکہ مکرمہ کو ام القری بھی کہا جاتا ہے جسکا معنی شہروں کی ماں یا زمین کی ناف ہے۔ بہت سی نازل شدہ کتابوں کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا پہلا گھر تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو روحانی تغذیہ بخشا۔قرآن مجید کی سورۃ آل عمران کی آیت 96 میں ارشاد ہے۔اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ  بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں ( کی عبادت ) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو بکہّ (مکہ) میں ہے ، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے ( مرکزِ ) ہدایت ہے۔ اس طرح کنتپ کا مطلب مکہ یا بکہ ہے۔
متعدد افراد نے ان کنتپ سکتاؤں کا ترجمہ کیا ہے جیسے ایم بلوم فیلڈ ، پروفیسر رالف گریفتھ ، پنڈت راجارام ، پنڈت کھیم کرن ، وغیرہ۔مندرجہ بنیادی پوائنٹس ان کنتپ سکتاوں یعنی اتھارواوید کتاب 20,بھجن 127 اور آیات 1 تا 13 میں درج ہیں۔
 الف: منترا (آیت ) 1: وہ ناراشنساہ ہے یا تعریف والا (عربی لفظ:محمد)۔ وہ کوراما ہے: امن کا شہزادہ یا ہجرت کرنے والا ، جو محفوظ ہے ، یہاں تک کہ 60،090 دشمنوں کے لشکر میں۔ب: منترا 2: وہ اونٹ پر سوار رشی ہے ، جس کا رتھ آسمان کو چھوتا ہے۔ج: منترا 3: وہ مہامہ رشی ہے جسے سونے کے ایک سو سکے ، دس ہار ، تین سو گھڑسوار اور دس ہزار گائیں دی گئیں۔ 
ان تشریح درج زیل ہے۔نمبر 1: سنسکرت کے لفظ ناراشنساہ کے معنی ہیں ’تعریف کیا گیا‘ ، جو عربی زبان کے لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لفظی ترجمہ ہے۔سنسکرت کے لفظ کو-راما کے معنی ہیں “وہ جو امن کو پھیلاتا اور فروغ دیتا ہے یا امن کا شہزادہ”۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’امن کے شہزادے‘ تھے اور انہوں نے انسانی نوع کو عالمگیر بھائی چارے کی مساوات کی تبلیغ کی تھی۔ کوراما کا مطلب ایک مہاجر بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت بھی فرمائی تھی۔
نمبر 2: وہ 60،090 دشمنوں سے محفوظ رہے گا ، جو کہ دراصل مکہ مکرمہ کی آبادی تھی۔وہ اونٹ پر سوار ہوتا ہوگا ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہندوستانی رشی نہیں ہوسکتا ، چونکہ “مشرق کی مقدس کتب ، جلد 25 ، قانون کے مانو پیج 472” کے مطابق کسی برہمن کے لئے اونٹ پر سوار ہونا ممنوع ہے۔منسمرتی باب 11 آیت 202 کے مطابق ، “ایک برہمن کو اونٹ یا گدھے پر سواری کرنے اور برہنہ غسل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسے اپنی سانس دبا کر خود کو پاک کرنا چاہئے”۔اس منتر نے رشی کو “مہامہ” نام دیا۔ ہندوستان میں کسی بھی رشی یا کسی اور نبی کے پاس یہ نام مہامہ نہیں تھا جو مہ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کہ بہت زیادہ احترام رکھنے والا ، یا تعظیم رکھنے والا، عزت رکھنے والا ، وغیرہ۔انہیں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) 100 سونے کے سکے دیئے گئے ہیں ، جس سے مراد ان کی پریشان کن مکہ زندگی کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہما تعداد ہیں۔بعد میں وہ صحابہ ظلم و ستم کی وجہ سے وہ مکہ مکرمہ سے حبشہ ہجرت کرگئے۔ بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہ سبھی بھی مدینہ منورہ میں آ گئے۔دس ہاروں سے مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے 10 بہترین صحابہ تھے جنھیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے (جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی)وہ ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، عبد الرحمٰن ابن عوف ، سعد بن ابی وقاص ، سعد بن زید اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم تھے۔سنسکرت کا لفظ “گو” گا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ‘جنگ میں جانا’۔ گائے کو گو بھی کہا جاتا ہے اور ہندؤ مذہب میں یہ جنگ کے ساتھ ساتھ امن کی بھی علامت ہے۔10،000گایوں سے مراد 10،000 صحابہ ہیں، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے تھے جب وہ فتح مکہ کے دوران مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے، جو انسانیت کی تاریخ کی ایک انوکھی فتح تھی جس میں کوئی خون نہیں بہایا گیا تھا۔وہ10،000 صحابہ گائوں کی طرح پرہیزگار اور شفقت پسند تھے اور ایک ہی وقت میں زبردست اور سخت تھے اور قرآن مجید میں سورت فتح میں بیان کیا گیا ہے:”محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کافروں کے خلاف قوی ہیں ، (لیکن) ایک دوسرے میں ہمدرد ہیں۔”
ایسی ہی بہت سے پیشنگوئیاں ہندؤ کتابوں میں بہت ساری جگہوں پر موجود ہیں،چونکہ ایک ایک چیز کو بیان کرنا یہاں ممکن نہیں اس لئے ہم نے یہاں بس کچھ ہی پیشن گوئیوں کا ذکر کیا جو کہ اتنی صاف اور شفاف ہیں کہ کوئی بھی ان کو غلط ثابت نہیں کرسکتا، چونکہ ہندو عوام کی اکثریت سنسکرت سے ناواقف ہے اس لئے انکے مذہبی رہنما ان کو سچائی سے روشناس نہیں کرواتے،کیونکہ ایسا کرنے سے انکا دانہ پانی بند ہو جائے گا۔ مسلم دنیا کے جانے مانے اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ دوران ڈائیلاگ مشہور ہندو پنڈت شری روی شنکر اس بات کو مان کر اٹھا تھا کہ واقعی جو بھی نشانیاں اور پیشنگوئیاں انکی مذہبی کتابوں میں درج ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سچے دین اسلام کے متعلق ہی ہیں، مگر اس کی بدقسمتی یہ کہ وہ دنیاوی شہرت،پیسے اور فالورز کو کھونے کے ڈر سے اسلام قبول کرنے سے کترا گیا۔ 
مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کتاب پی ڈی ایف میں ڈاؤنلوڈ کر کے مطالعہ کریں۔
کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

One thought on “ہندو مذھب کی پرانی کتابوں میں نبی کریمﷺکا ذکر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: