قدرت کا خزانہ اور بدقسمت پاکستان | ٹرو جنرلزم

‏قدرت کا خزانہ اور بدقسمت پاکستان

وزیرتوانائی حماد اظہر کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی بائیو گیس پیدا کرنیکا منصوبہ شروع کرنے جارہی ہے جسکے تحت پرائیویٹ شعبے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی. ابتدائی طور پر یومیہ 3 ملین کیوبک فٹ گیس پیدا کرنےکامنصوبہ ہے. یہ خبرکتنی اہم ہے اورکتنی ‏تاخیرسے آئی ہے. یقننا آپ جاننا چاہیں گے؟

اشتہارات


Qries

پاکستان میں 5 کروڑ کےلگ بھگ بڑےجانور ہیں جنکافضلہ سنبھالنا ایک مشکل کام ہے. خالی کراچی کی بھینس کالونی میں فضلہ سمندر تک پہنچانےکیلئے 60 ہزار لیٹر پانی ضائع ہوجاتا ہے. جبکہ

TITANIC

جیسی شہرہ آفاق فلم کیلئے 50 ہزار لیٹر پانی استعمال ہوا ‏بھارت میں 50 جبکہ چین میں 60 لاکھ سے زائد چھوٹے بڑے بائیو گیس کے پلانٹ کام کررہے ہیں پاکستان میں یہ تعداد صرف 10 ہزار کے لگ بھگ ہے. پاکستان میں صرف 22 فیصد لوگوں کو گیس کی سہولت میسر ہے.

جسکی درآمد پر ماہانہ 81 جبکہ سالانہ 1 ہزار ارب سے بھی زائد کے اخراجات ہیں. لیکن ہم اتنے ‏بیوقوف نااہل اور نالائق ہیں. کہ آج تک غور ہی نہیں کیا کہ جتنا فضلہ سالانہ پیدا ہوتا ہے. اس سے 3 کروڑ لوگوں کوبائیو گیس فراہم کی جاسکتی ہے. چھوٹے پلانٹ کیلئے 3 جانور جبکہ بڑے کے لئے 50 سے زائد جانور درکار ہوتے ہیں.

پاکستان میں 20 ہزار سے زائد افراد کے پاس 50 سے زائد جبکہ 20 لاکھ ‏کے پاس 3 سے زائد جانور ہیں. اگر تمام جانور کو پلانٹس کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے تو 50 لاکھ پلانٹس لگائے جاسکتے ہیں. جن سے 3 کروڑ لوگ مستفید ہوسکتے ہیں.

لیکن بھینس کالونی کے رہائشی گیس میٹر کے لئے 50 ہزار رشوت تو دے سکتے ہیں. مگر اتنی قیمت میں چھوٹا پلانٹ نہیں لگاتے حالانکہ ‏2 سے 3 سال میں یہ پلانٹ اپنی قیمت خرید پوری کردیتا ہے. جبکہ بڑا پلانٹ 100 گھروں پر مشتمل گاوں کے لئے کافی ہے. حکومتیں اتنی نااہل ہیں کہ آج تک اس کام کیلئے قرض بھی نہیں دے سکیں.

بائیو گیس پر قدرتی گیس کی نسبت 5 منٹ دیر سے کھانا پکتا ہے. لیکن جوہماری 78فیصد آبادی لکڑیوں کے دھوئیں ‏سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہے. بائیو گیس سے ایسا بالکل نہیں ہوتا بلکہ گیس نکل جانے کے بعد جو فضلہ باقی بچتا ہے وہ کھیتوں کے لئے بہترین تیار کھاد کی شکل اختیارکرلیتاہے. لیکن چونکہ ہر طرف مافیاز کا راج ہے اس لئےہرکوئی اپنی آمدنی میں کمی آنےکے ہر راستے کو بند ہی رکھنا ‏چاہتا ہے.

بھارت سمیت متعدد ممالک میں تو پولٹری فارم کے فضلے سے بھی گیس بنائی جارہی ہے اور تو اور گلے سڑی سبزیوں اور پھلوں کو بھی پھینکا نہیں جاتا لیکن قدرت کی ہر نعمت سے بھرپور ملک پاکستان کے حکمرانوں نے تو کبھی چاہا ہی نہیں کہ عوام خوشحال ہوجائیں حیرت یہ ہے کہ عوام بھی ‏ابھی تک اک واری فیر شیر اور اک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں.

اور تو اور نوجوان نسل عمران خان سے ترقی کی توقع لگاے بیٹھی ہے جسکی مثال رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی سے زیادہ کچھ نہیں. دعا ہے کہ پاکستانی حکمران اور عوام مفادات سے بالاتر ہوکر صرف محب وطن پاکستانی بنیں. ‏امید ہے سوئی سدرن گیس پائپ لائن کمپنی کا بائیو گیس کا یہ پائلٹ پراجیکٹ خوشحالی کے نئے دروازے کھلنے کا سبب بنے. آمین یا رب العالمین….!!

‎#ٹروبلاگ

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: