آزاد پرندہ تحریر شہاب ثاقب

آزاد پرندہ۔
میں آزاد پرندہ ہوں۔ایک پنجرے کے اندر ہوں۔بھوکا ہوں پیاسا ہوں مفلس ہوں زندگی کا اسیر ہوں کیا کروں مجبور ہوں ایک پنجرے کے اندر ہوں۔آزاد پیدا ہوا ہوں بچپن یاد آتا ہے دوست یاد آتے ہیں محفلیں یاد آتی ہیں دنیا سے بیزار ہوں ایک سوال اور ایک جواب ہوں۔مجھ سے بچپن چھین لیا گیا یادیں اور مسکراہٹوں چھین لی گئیں۔میں دنیا سے بے خبر ہوں دنیا مجھ سے بے خبر ہے۔میں اپنے ہم عمر اور ہم عصر پرندوں کو دیکھتا ہوں وہ زندہ اومیں مُردہ ہوتا ہوں۔مجھ سے میرا مقصد چھین لیا جاتا ہے خواب چھین لیے جاتے ہیں میں روتا ہوں بھیک مانگتا ہوں۔ تب میں مایوس ہوتا ہوں نا امید ہوتا ہوں
ایک دن سونے لگتا ہوں ایک خواب دیکھنے لگتا ہوں اڑتا ہوا چلتا ہوں سفر سے بے خبر ہوتا ہوں۔لمبا سفر ہوتا ہے میں پُرجوش ہوتا ہوں۔ آزادی محسوس کرتا ہوں۔ ۔زندگی کو بڑے قریب سے دیکھتا ہوں۔ زندگی تلخ و شیریں دونوں کا مزہ لئے کھڑی ہے۔ ہم سفر دوسرے پرندے مل جاتے ہیں۔خوشی خوشی سے جاتے ہیں پھل اور پھول دار پودے ملتے ہیں انجانے میں ان سے بچھڑ جاتا ہوں۔پہلی مرتبہ کسی کو کھونے کا احساس پاتا ہوں۔
آگے ایک لامحدود سمندر آتا ہے اِس کو پار کرنے لگتا ہوں۔پانی آگ میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ہوا بدبودار اور گرم ہو چکی ہوتی ہے۔میں ایک امید کے ساتھ اڑنا شروع کرتا ہوں نیچے آگ اور اوپر بھی آگ کے شعلے۔مایوس ہو جاتا ہوں نا امید ہو جاتا ہوں۔موت میرے شاندار استقبال کیلئے راستہ میں حائل ہوتی ہے۔ایک جگہ سے گزرنے لگتا ہوں۔میرے پَر جلا دیئے جاتے ہیں چونچ جلا دی جاتی ہے۔پاؤں کاٹ دئے جاتے ہیں۔سمندر دھوکا ہوتا ہے ایک فریب اور جال ہوتا ہے۔پانی میں موجود زہریلی مچھلیاں اور آدم خور تیراک اور زہریلے مچھیرے موجود ہوتے ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں مخلوقات کی شکل میں مخلوقات کی تاک میں بیٹھے دشمن۔
میں اڑان اونچی کر دیتا ہوں رفتار تیز کر دیتا ہوں آگ برداشت کرتا ہوں۔ زندگی سے ہار چکا ہوتا ہوں بیزار ہو چکا ہوتا ہوں۔میں ایک کروٹ لیتا ہوں پسینہ سے شرابور ہوتا ہوں کچھ اور دیکھنا چاہتا ہوں پر امید ہونا چاہتا ہوں۔ سمندر پار کرتا ہوں ایک خوبصورت شہر میں جا نکلتا ہوں۔ماضی کے شاندار مستقبل کو کتابوں میں فنونِ لطیفہ علم و ہنر میں پاتا ہوں۔اب اُن کے نشانات اور جزویات۔سازوسامان۔کو عجائب گھروں میں پاتا ہوں۔میں مایوس ہو جاتا ہوں۔لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں۔خوابِ غفلت سے جگانا چاہتا ہوں۔اُن کے شاندار ماضی سے روشناس کرانا چاہتا ہوں۔وہاں مجھے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے عجیب تخلیق تصّور کیا جاتا ہے۔
ایک صدا سنائ جاتی ہے۔قوم سلائ جاتی ہے۔خواہشات بتائی جاتی ہیں۔مقاصد دفن کئے جاتے ہیں۔رسم و رواج چھین لئےجاتے ہیں مذہب چھین لیا جاتا ہے۔اتحاد و یگانگت سلائ جاتی ہے۔وطنیت پرستی جگائ جاتی ہے۔حریّت سلائ جاتی ہے دہشت پھیلائ جاتی ہے۔علم و ہنر دور کیا جاتا ہے جاہلیت پھیلائ جاتی ہے۔ قلم چھین لیا جاتا ہے گہری نیند سلائ جاتی ہے۔خواب چھین لئے جاتے ہیں۔مایوسی پھیلائ جاتی ہے۔ماضی بھلا دیا جاتا ہے تاریک مستقبل دکھایا جاتا ہے۔لو گ اسی میں خوش ہوتے ہیں اسی میں مگن ہوتے ہیں۔میں ان بتانا چاہتا ہوں میں اِن کو جگانا چاہتا ہوں۔ میں خواب سے بیدار ہوتا ہوں شکر گزار ہوتا ہوں۔صِرف آزاد نہیں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔میں خواب نہیں دیکھنا چاہتا ہمیشہ جاگنا چاہتا ہوں۔قید میں رہنا چاہتا ہوں آزاد سانس لینا چاہتا ہوں۔
میں کشمیری میں فلسطینی ہوں میں آزاد پرندہ ہوں ۔۔

شہاب ثاقب۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: