موٹروے منصوبہ جو تیس سال بعد بھی نامکمل ہے

‏موٹروئے منصوبہ جو 30 سال بعد بھی نامکمل ہے۔

موٹروے موجودہ دور میں سفر کے لئے ایک بہترین روڈ تصور کیا جاتا ہے۔کیونکہ یہ محفوظ بھی اور آرام دہ بھی جبکہ دوسرئے روڈز کی نسبت وقت بھی کافی کم لگتا ہے۔

اس لئے موٹروے منصوبوں سے آگاہی حاصل کرنا سبھی کو اچھا لگتا ہے۔ اس بلاگ میں کوشش کی گئی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر پاکستان میں تمام موٹرویز کے بارئے میں تفصیل فراہم کی جائے۔

اس وقت دنیا کے100 سے زائد ممالک اس طرز تعمیر سے مستفید ہورہے ہیں۔ چین ایک لاکھ کلومیٹرسے زائد موٹرویز کے ساتھ پہلے جبکہ75 ہزار کے ساتھ امریکہ دوسرئے نمبر پر ہے۔ پاکستان 3 ہزار کلومیٹر کے ساتھ18ویں نمبر پر ہے۔

وکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں اس وقت2709 کلومیٹر روڈ فعال ہے جبکہ4021 کلومیٹر کے روڈز پر کام جاری ہے یا آنیوالے وقتوں میں شروع ہوگا۔ 1990 میں ملک کی تینوں بندرگاہوں کو آپس میں ملانے کے لئے نیشنل ٹریڈ کوریڈور پراجیکٹ پلان کیا گیا جسکا ایک مقصد پاکستان کو چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ جوڑنا بھی تھا۔پلان کے مطابق ملک بھر میں 14موٹرویز بنائی جانی تھیں۔

تاہم غیر موزوں سیاسی حالات نے اس منصوبے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا دیا۔5 سالہ منصوبہ30سال گزر جانے کے باوجود کبھی فنڈز کی کمی تو کبھی قابلیت کی کمی کے باعث تاحال زیر تعمیر ہے۔2013 میں شروع ہونیوالے سی پیک پراجیکٹ کے تحت متعدد موٹرویز کو اس میں شامل کیا گیاتو امید جاگی کہ یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔

نیشنل ہائی وئے اتھارٹی جسے1978 میں اتھارٹی بورڈ کے نام

سے وفاقی حکومت نے قائم کیا تھا۔ پاکستان میں نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کے متعلق تمام امور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔ موٹروے روٹ کو انگریزی کے حرف Mکے بعد روڈ کے نمبر سے جاناجاتا ہے۔ اب تک 16 روڈز کو نمبر الاٹ کئے جاچکے ہیں۔ جن میں 12مکمل جبکہ 4 پر کام جاری ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے۔

ایم۔1155کلومیٹر کا یہ روڈ اسلام آباد اور پشارو کو آپس میں

اشتہارات


Qries

ملاتا ہے۔6لین پر مشتمل اس روڈ کی تعمیر کا آغاز 1993 میں بینظیر بھٹو کی حکومت میں ایک ترکش کمپنی نے کیا۔ تاہم حکومت برطرف ہوجانے کی وجہ سے منصوبہ التوا کا شکار ہوگیا۔ 2003 میں جنرل مشرف کی حکومت میں دوبارہ کام شروع ہوا۔ اکتوبر 2007 میں جنرل مشرف نے ہی مکمل ہونے پر افتتاح کیا۔ منصوبے پر 31ارب روپے لاگت آئی۔ یہ روڈ پر چارسدہ رسالپورصوابی رشکئی اٹک اور حسن ابدال سے بھی گزرتا ہے۔ایم۔2راولپنڈی۔اسلام آباد تا لاہور کے مابین 375 کلومیٹر پر مشتمل اس روٹ کا افتتاح وزیر اعظم نواز شریف نے 1990 میں کیا۔6 لین پر مشتمل روڈ کا ٹھیکہ جنوبی کورین کمپنی ڈائیوو کو دیا گیا۔ منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کورین کمپنی نے ابتدائی طور پر 379ملین ڈالزر قرض منظور کیا جو بڑھتے بڑھے 702 ملین ہوگیا۔

یہ براعظم ایشیا کی چند مہنگی ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ نومبر 1997 میں نواز شریف نے ہی مکمل ہونے پر افتتاح کیا۔ پاک فضائیہ اب تک 3 مرتبہ اس روڈکو بطور رن وئے استعمال کرچکی ہے۔ سی 130، معراج اور مشاق طیارے اس پر کامیاب لینڈنگ اور ٹیک آف کرچکے ہیں۔ جبکہ ری فیولنگ کا عمل بھی انجام دیا جاچکا ہے۔ 2016میں دوبارہ اپ گریڈ کیا گیا۔ شیخوپورہ، پنڈی بھٹیاں بھی مستفید ہوتے ہیں۔ایم۔3ؒؒلاہور تاعبدالحکیم230 کلومیٹر کے اس روٹ کا آغاز 2015 جبکہ

افتتاح مارچ 2019 میں ہوا۔ 149 ارب روپے لاگت آئی۔ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، جڑانوالہ، سمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شورکوٹ کو بھی لنک کیا گیا۔ 6 لین پر مشتمل یہ ایم 4 کا متوازی روڈ ہے۔ دونوں ملتان سے پہلے عبدالحکیم میں جاکر اکٹھی ہوجاتی ہیں۔ایم۔4ابتدائی طور اس روٹ کو فیصل آباد تا ملتان پلان کیا گیااور2009 میں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے اسکا سنگ بنیا د بھی رکھا۔تاہم 2013 میں سی پیک کے تحت اسے دوبارہ سے منظم کیا گیا تاکہ لاہور تا ملتان کی دو طرفہ ٹریفک کیلئے متبادل روٹ میسر آجائے جو بعد کراچی تک بڑھایا جاسکے۔ جس سے پشاور تاکراچی براستہ لاہور اور ملتان ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔

اس طرح ایم 3 کو لاہور تا پنڈی بھٹیاں تک محدود کردیا گیا جبکہ پنڈی بھٹیاں تا ملتا ن 309 کلومیٹر کو ایم 4 کا نام دیا گیا۔یہ روٹ 4 فیز پر مشتمل تھا جس میں پہلا فیصل آباد تا گوجرہ دوسرا ملتان تا خانیوال تیسرا گوجرہ تا شورکوٹ جبکہ چوتھا شورکوٹ تا عبدالحکیم کہلاتا ہے۔ ایم فور 2019 میں کامیابی سے مکمل ہوا اور اسکا افتتاح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا۔ایم۔56 لین پرمشتمل 392 کلومیٹر طویل ملتان۔سکھر روٹ کا سنگ بنیاد مئی 2016 میں وزیراعظم نواز شریف نے رکھا۔ سی پیک کے تحت بننے والے اس روڈ کی لاگت کا تخمینہ2.49 بلین ڈالرز لگایا گیا۔

منصوبہ چائنہ اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کو دیا گیا۔ 90 فیصد قرض چین کے مختلف بینکوں نے دیا جبکہ 10 فیصد حکومت پاکستان نے ادا کیا۔ شجاع آباد، بہاولپور،رحیم یار خان،صادق آباد،گھوٹکی،پنوعاقل اور روہڑی کو بھی لنک کیا گیا۔نومبر 2019 میں کرونا کے باعث افتتاحی تقریب ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کی گئی۔ اقتصادی امور کے وزیر خسرو بختیار نے فیتا کاٹا۔ایم۔6306کلومیٹر طویل سکھر۔حیدرآباد ٹریک کی لاگت کا تخمینہ 1 ارب 70 کروڑ ڈالرز لگایا گیا۔

منصوبہ چائنہ اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ نے بولی کے ذریعے حاصل کیا۔ پشاور تاکراچی موٹروے نیٹ ورک میں واحد یہ حصہ ہے جو ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔ اگست 2017 میں آغاز ہوکر دسمبر 2019 میں اسے مکمل ہونا تھا۔ تاہم ذرائع نے دعوی کیا کہ چین نے قرض پر انٹرسٹ ریٹ بڑھا دیا ہے جسکی وجہ سے منصوبہ تعطل کا شکا ر ہے۔چناچہ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو قرض کی بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پلان کرلیا۔تازہ ترین معلومات کے مطابق ایکنک نے 206 ارب روپے کے اس منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔حکومتی دعوی ہے کہ منصوبے کا جلد آغاز ہوجائے گا۔ 6

لین پر مشتمل اس روٹ سے نوشہروفیرروز، نواب شاہ،ٹنڈوآدم اور مٹیاری بھی مستفید ہونگے۔ایم۔76 لین پر مشتمل دادو تا حب350 کلومیٹر کا یہ روٹ 2013 میں پلان کیا گیا۔ 2014 میں کام کا آغاز ہوکر2017 میں مکمل ہونا تھا۔لیکن تاحال منصوبے کے بارئے میں کوئی آفیشل معلومات میسر نہیں ہیں۔ایم۔8298کلومیٹر طویل یہ موٹروے سکھراور لاڑکانہ کو گوادر سے جوڑے گی۔ سی پیک کے تحت بننے والے اس روٹ کے مختلف حصوں پر کام جاری ہے۔

تاہم مشکل راستوں کیوجہ سے تکمیل کی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ FWO اس منصوبے پر کام کررہا ہے۔خضدار، آواران، ہوشاب اور تربت کے اضلاع بھی اس سے مستفید ہونگے۔ سی پیک کا یہ سب سے اہم روٹ ہے۔یہ روڈ مکران کوسٹل ہائی وئے کو بھی لنک کیا جائے گا جس سے پورا بلوچستان سڑکوں کے جال کی شکل اختیار کرلے گا۔گوادر سے خضدار کا فیز رواں ماہ مکمل ہونا ہے۔ تربت سے ہوشاب سے آواران (26ارب) تک کا حصہ مکمل ہوچکا ہے۔

تاہم آواران تاخضدار (32 ارب) 168 کلومیٹر حصے پر تاحال کام شروع نہیں ہوسکا۔ یہ روڈ ابتدائی طور پر 2 لین پر مشتمل ہوگالیکن جب مکمل ہوجائے گا تو مزید2 لین پر کام شروع ہوگا۔ایم۔9132 کلومیٹر حیدرآباد تاکراچی کا یہ روٹ FWO نے 26ارب روپے میں مکمل کیا۔ 6 لین پر مشتمل اس روٹ کو پہلے سے موجود سپر ہائی وئے میں ایک لین کا اضافہ کرکے بنایا گیا ہے۔ تاہم تمام لین کو دوبارہ اپ گریڈ کیا گیا۔منصوبہ مارچ 2015 میں شروع ہوکر اپریل 2018 میں مکمل ہوا۔ایم۔1057 کلومیٹر اور 2 لین پر مشتمنل یہ روڈ ایم 9 کو کراچی بندرگاہ سے ملاتا ہے۔ 2006 میں مکمل ہونیوالے اس روٹ کا مقصد بندرگاہ سے آنے اور جانیوالی گاڑیوں کو براہ راست رسائی دینا تھا۔

جنرل مشرف نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ البتہ اسکا پل 2007 میں گرگیا تھا جسکی وجہ سے 6 افراد جاں بحق بھی ہوئے تھے۔ایم۔11لاہور تا سیالکوٹ 103 کلومیٹر اور 4 لین پر مشتمل اس روٹ پر کام کا آغاز 2018 میں ہوا جبکہ افتتاح 2020 میں کیا گیا۔ منصوبہ 44 ارب روپے کی مدد سے FWO نے مکمل کیا۔ دراصل یہ روڈ 2006 میں ق لیگ نے پلان کیا تھا2007 میں جنرل مشرف نے سنگ بنیاد رکھا تھا اور اس نے 2008 میں مکمل ہونا تھا لاگت 18 ارب روپے تھی۔

تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر بعد میں آنیوالی پنجاب حکومت نے اسے لٹکا دیا۔ 2015 میں وزیر اعظم نواز شریف کو چھوٹے بھائی کی غلطی کااحساس ہوا تو دوبارہ سے اس روٹ کی تعمیر پر اقدامات شروع کئے۔ یہ روٹ لاہور سے اسلام آباد تک ایم 2 کا متوازی ہے۔ جسے 3 فیزمیں تعمیر کیا جانا ہے۔ایم۔12سیالکوٹ تا کھاریاں 96 کلومیٹر کا یہ روٹ ایم 11 کا فیز 2 ہے۔ جسکی تعمیر ی لاگت 27 ارب روپے ہے۔

ایکنک منظوری دے چکا ہے۔ 4 لین پر مشتمل یہ روڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحتFWO۔ 2 سال میں تعمیر کریگا۔ 2 ستمبر2021 کو وزیر اعظم پاکستان نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ ایم۔13117 کلومیٹر طویل اور 4 لین پر مشتمل کھاریاں تا راولپنڈی روٹ30 ماہ کی مدت میں مکمل ہوگا۔ لاگت کا تخمنہ 88 ارب لگایا گیا ہے۔ موجودہ حکومت اسے ٹینڈرنگ کی بجائے براہ راست FWO کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کیونکہ اس روٹ کے پہلے دونوں فیز بھی اسی کمپنی کے پاس ہیں۔

چونکہ یہ منصوبہ بھی ایم 12کی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہے اس لئے قوی امکان ہے کہ25 سال تک یہ روٹ بھی FWO ہی چلائے گا۔ حکومت اس روڈ کی جلد تعمیر شروع کروا کر اگلے الیکشن میں عوامی حمائت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے قوی امکان ہے کہ جلد افتتا ح ہوگا۔ایم۔14ہکلہ تا ڈیرہ اسماعیل خان تک 297 کلومیٹر کا یہ روٹ 122 ارب روپے کی لاگت سے 5 سال میں مکمل ہوا ہے۔ 4 لین پر مشتمل یہ روڈ سی پیک کے تحت بنایا گیا ہے۔

منصوبہ 2018 میں مکمل ہونا تھا لیکن سیاسی مسائل کی وجہ سے بار بار تاریخ بڑھائی جاتی رہی۔ بالا آخر 13 دسمبر2021 کو 2016 میں شروع ہونیوالے اس روٹ کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا۔ کویت کی کمپنی نے یہ منصوبہ مکمل کیا ہے۔پشاور تا ڈیرہ اسماعیل خان براستہ راولپنڈی کے عوام اب آرام دہ سفر کرسکیں گے۔ایم۔15180 کلومیٹر حسن ابدال تا تھاکوٹ کا یہ روٹ ہزارہ موٹروے کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ روٹ 3 فیز پر مشتمل ہے۔ پہلا فیز حسن ابدال تا شاہ مقصود ہے۔ 60 کلومیٹر کے اس منصوبے کا سنگ بنیاد 2014 میں وزیراعظم نواز شریف نے رکھا۔39 ارب روپے کی لاگت ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور برطانوی گرانٹ سے پوری کی گئی۔

دسمبر 2017 میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افتتاح کیا۔6 لین پر مشتمل یہ فیز چینی کمپنی نے مکمل کیا۔دوسرا فیز شاہ مقصود تا مانسہرہ تک کا ہے۔جو 40 کلومیٹر طویل ہے۔سی پیک کے تحت مکمل ہونیوالے اس فیز کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے نومبر 2019 میں کیا۔ تیسرا فیز بھی سی پیک کے تحت مکمل ہوا۔جو مانسہرہ تا تھاکوٹ 80 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ 133 ارب روپے لاگت آئی۔جولائی 2020 میں وزیراعلی کے پی محمود خان نے افتتاح کیا۔ٰٓایم۔16صوابی تا چکدرہ 160 کلومیٹر کا یہ روٹ سوات موٹروے بھی کہلاتا ہے۔

منصوبے پر36 ارب روپے لاگت آئی۔ ایشئین ڈویلپمنٹ بینک اور چین نے تکنیکی مدد فراہم کی جبکہ سعودی عرب نے اخراجات ادا کئے۔نوشہرہ،صوابی،مردان، مالاکنڈاور سوات کے اضلاع سے گزرنے والا یہ روٹ 4 لین پر مشتمل ہے جسے FWO نے 3 سال کی مدت میں مکمل کیا۔ اگست 2016 میں کام کا آغاز ہوا جبکہ جون 2019 میں ٹریفک کے لئے کھولا گیا۔

اسی روٹ کا فیز 2 بھی پائپ لائن میں ہے جو چکدرہ سے فتح پور تک 79 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا۔ لاگت 57 ارب روپے ہے۔ ایکنک منظوری دے چکا ہے۔منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔منگورہ اور مالم جبہ کے اضلاع بھی مستفید ہونگے۔امید ہے کام کا آغاز بھی جلد ہوگا۔ُپشاور تا ڈیرہ اسمعیل خان براستہ ہنگو، کرک اور لکی مروت 360 کلومیٹر کا منصوبہ جسکی لاگت 300 ارب ہے بھی منظور ہوچکا ہے۔

دیر سوات موٹروئے بھی پلان کا حصہ ہے۔مانسہرہ۔مظفرآباد174 کلومیٹر روڈ بھی پائپ لائن میں ہے۔پشاور۔کابل۔دوشنبے ٹریک پر بھی بات چیت جاری ہے۔شورکوٹ۔لیہ 119 کلومیٹر موٹروے کی فزی بیلٹی جاری ہے۔جبکہ لاہور کرتارپور منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: